قاتل سیلفی ۔۔۔ رانا فرید

 ایک دور تھا جب موبائل فون میں کیمرہ دیا گیا تو دُنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بڑے بڑے کیمروں سے جان چھوٹ گئی  اور فوٹو گرافی کا شوق ہر خاص و عام میں اُبھرنے لگا۔ پھر موبائل فون میں دو کیمروں کی روایت چل پڑی، ایک بیک کیمرہ اور دوسرا فرنٹ کیمرا۔ 

لوگ خود کی فوٹو بنانے کے بہت زیادہ شوقین ہو گئے اور فرنٹ کیمرہ کا استعمال ہونے لگا۔ 

خود کی فوٹو بنانے کو” سیلفی” کا نام دیا گیا۔ سیلفی لفظ کو بعد میں انگلش کی ڈکشنری کو بھی شامل کر لیا گیا۔ جس کا مطلب ہے ”اپنی فوٹو بنانا”۔ 

پاکستان میں اب تک  سیلفی بناتے ہوئے 11 لوگ ہلاک اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں۔ دُنیا میں سیلفی بناتے ہلاکتوں کی تعداد میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔ 

سب سے الگ اور ایڈوینچر سے بھرپور سیلفی کا شوق کبھی کبھار جان لیوا بھی ثابت ہو جاتاہے۔ ڈاکٹرز بہت زیادہ سیلفی بنانے کے شوق کو دماغی امراض کی ایک قسم قرار دے چُکے ہیں۔ 

پاکستان میں سیلفی کی وجہ سے ہلاکتوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

★. جون 2015. 15 سالہ لڑکا سیلفی لینے کے کھیل میں زندگی کک بازی ہار گیا۔ 

★دسمبر 2015 میں ریلوے ملازم کا 22 سالا بیٹا راولپنڈی میں تیزی سے آتی  ٹرین کے سامنے سیلفی بناتے ٹرین کی زد میں آکر ہلاک ہوگیا۔ 

★9 اگست 2016: گیارہ سالہ لڑکی دریائے کنہار خیبر پختون خواہ کے کنارے سیلفی لیتے دریا میں جا گِری جسے بچانے کے لیے ماں نے چھلانگ لگائی اور ماں، بیٹی کو بچانے کے لیے باپ نے بھی چھلانگ لگا دی، ایک ہی خاندان کے تینوں افراد دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے۔ 

★21 اگست 2016: جھیل سیف الملوک کی سیر کو جاتے برفانی تودے کے سامنے سڑک کے کنارے سیلفی لیتے ہوئے پھسلنے سے 3 خواتین ہلاک ہوئیں۔ 

★20 اگست 2016 : ایک شخص دریائے کنہار پر سیلفی بناتے دریا میں گِرا۔ اُس کو بچانے کے لیے خاتون کزن نے بھی چھلانگ لگا دی، دونوں ہی دریا میں ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ 

★4 جنوری 2017: سکھر میں دریائے سندھ پر آصف نامی شخص اپنی بیوی کے ساتھ پِکنِک منانے آیا اور سیلفی لیتے ہوئے دریائے سندھ میں گِر کے جاں بحق ہو گیا۔ 

یاد رہے، سیلفی سے ہلاکتوں میں پہلے نمبر پر  بھارت ہے۔ بھارت میں اب تک سیلفی لینے کی کوشش میں 80 افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ 

 حضرات، زندگی قُدرت کا سب سے انمول تحفہ ہے۔ اِس کی قدر کیجئے.  سیلفی ضرور بنائیں لیکن خدارا جان کو خطرے میں مت ڈالا کریں۔ 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *