عمر قریشی۔۔۔۔۔جمشید مارکر/شکور پٹھان

یار دوست مجھے قنوطیت کا طعنہ دیتے ہیں جب میں اپنے شہر کی بات کرتا ہوں۔ کہتے ہیں تم ایک مایوس انسان ہو جو ماضی میں زندہ رہتا ہے۔ کیا کروں ، کراچی کی بات ہو اور ماضی کا ذکر نہ ہو تو اور کیا ہو کہ ، بنتی نہیں ہے بادہٗ و ساغر کہے بغیر۔

جس شہر کا حال بے حال ہو اسکے خوشگوار اور پرسکون دنوں کو یاد کرلیا جائے تو شاید کسی کے دل میں یہ تمنا جاگے کہ ہاں پھر وہی سب کچھ ہونا چاہیے  جس سے اس شہر کے دن اور رات روشن تھے۔ یہ عروس البلاد جب روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا۔
یوں نہیں تھا کہ ان دنوں یہاں جنت کی ہوائیں چلتی تھیں اور راوی چین ہی چین لکھتا تھا۔ بندہ مزدور کے اوقات تب بھی اتنے ہی تلخ تھے۔ زندگی اپنی تمامتر شکل میں موجود تھی جس میں سکھ بھی تھے اور دکھ بھی کم نہ تھے۔ شاید عام لوگوں کا معیارزندگی بھی آج پہلے سے زیادہ بہتر ہے۔ ان دنوں غریب غرباٗ تو ایک طرف، درمیانے اور اونچے طبقے کے لوگ بھی بسوں اور ٹراموں میں سفر کرتے تھے اور کوئی شرم محسوس نہیں کرتے تھے۔ آج کی طرح ہر دوسرے کے پاس کار اور موٹر سائیکل نہ تھی۔ آج ایک خاکروب بھی سڑک پر جھاڑو دیتے ہوئے ساتھ ہی موبائل پر اپنی گھر والی سے بھی بات کر رہا ہوتا ہے۔

مجھے یاد ہے سن ساٹھ، اکسٹھ میں میرے والد پشاور میں کام کرتے تھے اور کسی خاص بات کیلئے خط میں ذکر ہوتا کہ فلاں دن فون کروں گا۔ یہ فون سننے کیلئے بہار کالونی میں اپنی ماں کو گھر سے دو میل دور ٹینری روڈ پر واقع ، عبدالباقی، عبدالدیان کیمسٹ اینڈ جنرل اسٹور ، لے جایا کرتا جہاں دو ڈھائی گھنٹے بعد ،ٹرنک کال، پر اونچے اونچے بول کر بات ہوتی تھی۔
ریڈیو کسی کسی گھر میں ہوتا تھا اور ہم کسی دکان یا ہوٹل سے خبریں، گانے وغیرہ سنا کرتے ۔ آج مزدور کا بچہ بھی کبھی کبھار فرمائش کر کے باپ سے برگر، کباب رول وغیرہ کھالیتا ہے۔ ہمیں کھانے کے نام پر  صرف، روٹی، دال چاول، سبزی اور سالن معلوم تھے یا شادی بیاہ پر بریانی اور زردہ ، جو کہ ہر امیر غریب کی شادی میں بنتا تھا۔

یادش بخیر ہمارے ایک عزیز بیرون ملک ملازمت کیلئے گئے (جو کہ ان دنوں ایک غیرمعمولی واقعہ ہوتا تھا)کچھ عرصہ بعد انہوں نے ایک تصویر بھیجی جس میں دوستوں کے ساتھ پکنک مناتے ہوئے ڈبل روٹی نما کوئی چیز کھا رہے تھے۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا ، سینڈوچِ کھاتے ہوئے۔ اسے ہم نے سینڈووچ پڑھا تھا اور سمجھ نہیں آیا کہ یہ کیا چیز ہے ۔
دکھ ، تکلیف ، بیماریاں، پریشانیاں، گندگی، جہالت سب کچھ یونہی تھا بلکہ کہیں زیادہ تھا۔ لیکن شہر پر ایسی یاسیت طاری نہ رہتی تھی اوریہ ہر وقت یوں نحوست کی چادر اوڑھے نہ رہتا تھا۔ لوگ باگ کم کماتےاور کم کھاتے تھے، ایک دوسرے سے مقابلے کی دوڑ نہ تھی اور دوسرے کی خوشی میں خوش رہتے تھے اور شکر ادا کرتے تھے۔ نفسا نفسی کا یہ عالم نہ تھا۔ آدمیت کی خو بو باقی تھی اور اس شہر کے افسانوں سے بُوئے خون نہیں آتی تھی اور انسان کو انسانیت کے حوالے سے جانتے تھے۔ فرقہ، مسلک، زبان اور قومیت لوگوں کی پہچان نہیں بنی  تھی۔

ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے اور ایک دوسرے کی داد رسی کرتے۔ ہم دوست شیعہ، سنی، اہل حدیث اور بریلوی ہوتے لیکن آپس میں صرف دوست ہوتے ، کسی کے مسلک سے ہمیں کوئی غرض نہ ہوتی۔ ایک دوسرے سے چھیڑخانی کرتے، چٹکیاں لیتے، فقرے کستے لیکن دل میلے نہیں کرتے تھے اور مزے لیتے تھے۔ میرے ساتھ کرسچئین اور پارسی پڑھتے تھے، ہمارے کالج کے سب سے بہترین اور نمایاں طالبعلم پارسی ہوتے تھے اور اکثر انہی کی پوزیشنیں آتی تھیں سالانہ امتحانوں میں۔ ہم صرف کالج اور کلاس فیلوز تھے، مسلم غیر مسلم نہ تھے۔

اور ایک خصوصیت ان دنوں کی یہ تھی کہ جن چیزوں کا ایک معیار ہوتا تھا وہ اعلیٰ درجے کا ہوتا تھا۔ کھانے پینے کی دکانیں، ریسٹورنٹ، بیکریاں، ہوٹل جن کا نام مشہور ہوتا وہ اسے برقرار بھی رکھتے گو کہ ان کی رسائی غریب غربا  تک نہ ہوتی۔

یہی حال زبان و بیان کا تھا۔ جہاں اردواور علاقائی زبانیں اپنی خوبصورتی کے ساتھ موجود تھیں وہیں انگریزی بھی اعلیٰ معیار کی بولی جاتی ۔ غلط سلط انگریزی بول کر رعب جمانے کا چلن نہیں تھا۔ انگریزی کو انگریزی دان طبقے کیلئے چھوڑ دیا گیا تھا۔ انگریزی لکھنے اور بولنے کے  معیار کا حال یہ تھا کہ میرے والد صاحب جو تقسیم کے ہنگام اپنی میٹرک کی کلاس ادھوری چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر آئے تھے ، میری گریجویشن کے بہت بعد جب میں بیرون ملک چلا گیا تو انکی جناتی انگریزی کے خط کا جواب لکھنے کیلئے مجھے ہفتوں سوچنا پڑتا پھر بھی وہ بات نہ بنتی اور گرامر کی بے تحاشہ غلطیاں ہوتیں۔

آج جب ریڈیو اور ٹی وی سے انگریزی کو دیس نکالا مل چکا ہے اور جہاں انگریزی تو دور کی بات اردو بھی ڈھنگ سے نہ بولی جاتی ہو، گو کہ  لٹل بو پیپ قسم کے  سکولوں اور موبائل فون  اور فیس بک کی عجیب و غریب انگریزی بولی اور لکھی جاتی ہو، لوگ تصور نہیں کرسکتے کہ ذرائع ابلاغ میں انگریزی کا کیا معیار تھا۔

ریڈیو پر انگریزی خبریں، ڈاکٹر محمود حسین کے صاحبزادے، انور حسین، رضوان واسطی، انیتا غلام علی اور ایڈورڈ کیرپئیڈ جیسے لوگ پڑھتے، ٹی وی پر افتخار احمد، چشتی مجاہد اور مہ پارہ صفدر جیسے نیوز ریڈر ہوتے۔ اکثر انگریزی اشتہاروں  میں جاوید جبار جیسوں کی تحریر اورآوازیں ہوتیں۔

انہی دنوں یعنی پچاس سے ستر کی دہائی، جو کہ میرے بچپن سے لڑکپن کا زمانہ ہے، کرکٹ کو صاحب لوگوں کا کھیل سمجھا جاتا تھا اور درمیانے طبقے کے پڑھے لکھے لوگ ہاکی اور غریب غربا فٹبال کھیلتے تھے۔ کرکٹ بھی بے حد مقبول تھا لیکن اسے سمجھنے کیلئے ایک حد تک تعلیمافتہ ہونا ضروری تھا۔ کھلاڑی بھی اکثر پڑھے لکھے ہوتے  اور کھیل کا ٓنکھوں دیکھا حال صرف اور صرف انگریزی میں ہوتا تھا۔

میرے شہر میں جب ٹیسٹ میچ کا میلہ سجتا تو ایک عجیب سماں ہوتا۔ شہر میں جگہ جگہ میچ کے پوسٹر اور بینر لگے ہوتے۔ مختلف علاقوں سے نیشنل اسٹیڈیم کےلئے خصوصی بسیں چلتیں جو ان دنوں شہر سے باہر سمجھا جاتا تھا۔ لوگ باگ اہل خانہ اور دوستوں کے لاو  لشکر کے ساتھ، قیمہ پراٹھا، سینڈوچز، پھل، چائے کے تھرمس، اسپرو کی گولیوں، دوربین اور ٹرانزسٹر ریڈیو سے لدے پھندے اسٹیڈیم پہنچتے۔

لیکن وہ جو میدان میں میچ دیکھنے کی سکت نہ رکھتے وہ بھی اس میچ کے حال سے محروم نہ رہتے کہ شہر میں دکانوں، ہوٹلوں اور کسی کسی گھر سے ریڈیو پر کھیل کا آنکھوں دیکھا حال سنتے اور یہ سنانے والے ہوتے، عمر قریشی اور جمشید مارکر کی جوڑی۔
السلام علیکم اینڈ گڈ مارننگ ایٹ نیشنل اسٹیدیم کراچی ،کے بعد موسم کی صورتحال، میدان میں تماشائیوں کی تعدا، دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے نام کے بعد اعلان ہوتا کہ ایمپائر (اور یہ عام طور پر شجاع اور داود ہوتے) میدان میں داخل ہو رہے ہیں۔ افتتاحی بیٹسمین کون ہیں اور کونسا بیٹسمن کس باولر کا پہلے سامنا کرے گا۔ باولر نے کتنا لمبا  سٹارٹ لیا ہے اور وکٹ کیپر کے علاوہ فیلڈ کس طرح پھیلائی گئی ہے۔

جن کو  وہ دن یاد ہونگے انکے کانوں میں ریڈیو کی وہ آوازیں آج بھی گونجتی ہوں گی۔۔
Imtiaz standing back, two slips gullie, cover, extra cover, mid off, mid on , mid wicket, square leg, and Fazal comes in, pass the umpire over the wicket and bowls, slight outside the off stump, Fletcher leaves it to the keeper and there is NO RUN.
آئیے دیکھتے ہیں وہ کون تھے جن کی آوازوں کے سحر نے میری نسل کو جکڑ رکھا تھا۔

ہمہ جہت!
سن سڑسٹھ کے ابتدائی مہینے تھے، نیشنل اسٹیدیم کراچی میں ، حنیف محمد کی قیادت میں انگلستان جانے والی ٹیم کا کیمپ لگا ہواتھا۔ میں گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنی دادی کے پاس حیدرعلی روڈ   رہنے آیا ہوا تھا اور ہم کزنز پیدل اکسٹھ باسٹھ کرتے تقریباً ہر روز اسٹیڈیم پہنچ جاتے۔ ان دنوں یہ سکیورٹی وغیرہ کے ٹنٹے نہیں تھے۔ ہمیں کوئی  نہ روکتا۔ ہم اطمینان سے کھلاڑیوں سے ملتے، ان سے بات چیت کرتے اور انکے چھوٹے موٹے کام یعنی پیڈ بندھوانا، بیٹنگ پریکٹس کروانا ، وغیرہ کر دیا کرتے تھے۔ انہی دنوں ٓاٹوگراف لینے کا شوق بھی ہوا اور نہ صرف اپنی بلکہ اپنی کزنزوغیرہ کیلئے بھی آٹوگراف جمع کرتے۔ مجھے یاد ہے جب پہلی بار اپنے ہیرو  حنیف محمد کو قریب سے دیکھا اور انہوں  نے آٹو گراف بک میرے ہاتھ سے لی تو خوشی اور سنسنی کے مارے میرا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ اس وقت حنیف محمد پویلین کے ساتھ بنے کمنٹری بکس کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے ۔ اس کا مطلب تھا کہ اوپر بھی کچھ کھلاڑی موجود ہوں گے۔
آٹو گراف کا متلاشی، میں ۔۔جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا تو دروازے پر پہنچ کر دیکھا کہ ماجد خان( جو ان دنوں ماجد جہانگیر کے نام سے جانے جاتے تھے) کے ساتھ ایک عجیب ، تانبے کی سی رنگت والے   صاحب جن کے ہاتھ میں کوئی مشروب تھا اورجس میں برف کے ٹکڑے نظر آرہے تھے، آپس میں بہت ساری انگریزی بول رہے تھے۔ ماجد کی پشت میری طرف تھی، سرخ و سیاہ رنگت والے صاحب نے مجھے دیکھا اور دھتکارا، چلو بھاگو یہاں سے۔
میں گھبراہٹ میں پلٹا ور فورا ً نیچے آگیا۔اب پھر میرا جسم کانپ رہا تھا۔ یہ عمر قریشی تھے جنکی آواز میں بچپن سے سنتا آرہا تھا۔ لیکن آج مجھے ان پر بہت خار آئی اور یوں بھی ہمیں ان سے کچھ زیادہ مطلب نہیں تھا کہ ہم تو کھلاڑیوں کے دیوانے تھے۔

گھرآکر میں نے اپنی کزنز سے مشروب کا قصہ کچھ بڑھاچڑھا کر بیان کیا ۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب کرکٹ کمینٹیٹرز کی نئی جوڑی یعنی افتخار احمد اور چشتی مجاہد سامنے آئے تو احساس ہوا کہ کچھ کھو سا گیا ہے۔ جمشید مارکر پہلے ہی جا چکے تھے اور ہمیں کمنٹری میں صرف انہی دو آوازوں کی عادت تھی۔ عمر قریشی بعد میں گاہے بگاہے کمنٹری کرتے رہے لیکن ایک دور تمام ہو چکا تھا۔ گو کہ افتخار اور چشتی بھی بہت اچھے کمنٹیٹر تھے لیکن ہمارا جو رومانس عمر اور جمشید کے ساتھ تھا اسکی جگہ نہ لے سکے۔

گیارہ بھائی بہنوں میں سے ایک، عمر قریشی جو کہ ایک صحافی، ادیب اور بے مثال منتظم رہے۔ ۲۵ سال انگریزی اخبارڈان سے وابستہ رہے اور کھیل کے علاوہ، سیاست، معیشت اور معاشرت پر بھی لاجواب کالم لکھتے رہے۔ کئی کتابیں بھی لکھیں جن میں بلیک موڈز، ونس اپان اے ٹائم اور آوٗٹ فور لنچ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن ان کا اصل عشق کرکٹ سے رہا جو انکی پہچان بن گیا۔ جس طرح عمرکے اندر سے کرکٹ نہیں نکالی جاسکتی اسی طرح پاکستان کرکٹ کا تذکرہ عمر قریشی کے بغیر نا مکمل ہے۔

طالبعلمی کے زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو اور بھارتی سوتنترا پارٹی کے سربراہ پیلو مودی انکے دوست رہے۔ زیادہ تر تعلیم امریکہ میں اور کچھ انگلستان میں حاصل کی۔ ہالی ووڈ کی ایک فلم میں مختصر سا کردار بھی ادا کیا۔ امریکہ سے ہی اپنی شوبز کی زندگی کا آغاز کیا اور وہاں کے کسی ریڈیو سے بھی وابستہ رہے۔ لیکن عمر اپنی وضع قطع، زبان و بیان اور رکھ رکھاو  میں پورے انگریز تھے (رنگت کے علاوہ)۔

عمر نے بی بی سی پر اپنے دور کے اساطیری کمینٹیٹرز، جان آرلٹ، ٹریور بیلی اور برائن جانسٹن جیسوں کے ساتھ کمینٹری کی لیکن سچ تو  یہ  ہے کہ ہمیں گوروں کی انگریزی میں وہ سواد نہ آیا جو اس تانبے کی رنگت والے انگریز کی انگریزی میں تھا۔

پاکستان میں انکے ساتھی کمنٹیٹر اور یار جانی جمشید مارکر یعنی جمی مارکر تھے۔کراچی میں ایرپورٹ کے قریب انکے ایک بھائی ستو قریشی کاگھر، اس دور کے دانشوروں اور منتخب روزگار لوگوں کا گڑھ ہوا کرتا تھا۔ عمر بھی اس چوپال کا حصہ بن گئے۔ انکے ایک بھائی ابو قریشی جو محکمہ اطلاعات میں ہوتے تھے، قرات العین حیدر کے دوست اور ان کی چنڈال چوکڑی کے رکن ہوتے تھے ۔

پی آئی اے کے سربراہ اور بے مثال منتظم ائر مارشل نور خان کی عقابی نظروں نے عمر کی صلاحیتوں کو خوب پہچانا اور انہیں اپنے دور کے اس عظیم الشان ادارے کے تعلقات عامہ کے شعبے کا سربراہ بنادیا۔ یہاں سے عمرنے کھیل اور کھلاڑیوں کی بہبود کیلئے بڑا کام کیا۔
ضیا الحق کے  دور میں بھٹو کی انکی دوستی کی وجہ سے انہیں اس ادارے سے علیحدہ ہونے کیلئے کہا گیا۔ لیکن عمر کے سامنے بہت سے میدان تھے ، پاکستان اور کھیل کی خدمت اور اپنی ذات کے اظہار کیلئے۔ کھلاڑی انہیں اپنا دوست اور مربی مانتے تھے۔ عبدالحفیظ کاردار جو پاکستان کے پہلے (سرکاری) کپتان تھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور آخر میں پنجاب کے وزیر تعلیم بھی رہے، عمر کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور کا میڈیا سنٹر بجا طور پر ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔عمر آئی سی سی کی ایوارڈ کمیٹی کے بھی رکن رہے۔

1974 میں انتخاب عالم کی قیادت میں انگلستان کا دورہ کرنے والی ٹیم،( جس کا  جنگ عظیم دوم کے بعد کسی بھی ٹیم کا سب سے کامیاب دورہ تھا) کے مینیجر تھے اور پھر ایکبار 1978-79 میں نیوزی لینڈ کا دورہ کرنیوالی ٹیم کے مینیجر بنائے گئے۔
عمر کے جانے سے ایک دور، ایک انداز زندگی کا بھی خاتمہ ہوا۔

جمی!
کمال احمد رضوی (الن)کتنے بھی مشہور ادیب اور ڈرامہ نگار ہوں، انکا ذکر کبھی بھی ننھا (رفیع خاور) کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔
عمر قریشی کی بات ہو اور جمشید مارکر کا ذکر نہ آئے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے صحافی، ادیب اور منتظم عمر کو کم ہی لوگ جانتے ہوں گے لیکن کمنٹیٹر عمر قریشی کو دنیا جانتی تھی۔ لیکن جمشید مارکر کو کرکٹ کے حوالے سے جاننے والے اب بہت کم رہ گئے ہیں البتہ پاکستان کے کامیاب اور محترم ترین سفارتکار جمشید مارکر کو دنیا محبت اور احترام کے ساتھ جانتی ہے۔

پارسی برادری نے میرے شہر کی تعلیمی، سماجی، صحت اورصنعت و تجارت میں موثر اور نمایاں ترین خدمات انجام دی ہیں۔اسی برادری سے تعلق رکھنے والے جمشید کی قباد اردیشر مارکر اور عمر قریشی کے ،جمی، کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا میں سب سے زیادہ ملکوں میں بطور سفیر خدمات انجام دینے والے سفارتکار ہیں۔

جمی میری بچپن کی یادوں میں سے ایک ہیں لیکن اب تو انکی آواز اور کمنٹری کا انداز بھی یاد نہیں رہا کہ انہوں نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کیلئے 1965 سے کمنٹری سے کنارہ کشی کر لی تھی۔ لیکن ان کا نام اکثر و بیشتر سننے میں آتا رہا۔

غیر منقسم ہندوستان کے شہر دہرہ دون کے مشہور دون اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کرکٹ بھی کھیلی جہان سے کرکٹ کے کھیل کی باریکیوں سے آگاہ ہوئے۔ انکی پہلی کمنٹری نیشنل اسٹیڈیم کراچی سے براڈکاسٹ ہوئی۔

جمشید، گجراتی جن کی مادری زبان تھی، انگریزی تو کمال کی بولتے ہی تھے ساتھ ہی اردو، فرانسیسی، جرمن اور روسی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے۔ گھانا سے بطور سفیر اپنے کیریر کا آغاز کرنیوالے جمشید مارکر نے کئی اہم ملکوں میں سفیر کی خدمات انجام دیں جن میں امریکہ، سوویت یونین، جرمنی شامل تھے۔
1965 تک جمی اپنے خاندانی کاروبار میں مصروف تھے کہ گھانا میں سفیر بنا کر بھیجے گئے، بس پھر چل سو چل، تیس سال تک دنیا کے دس سے زیادہ ممالک میں خدمات انجام دینے کے بعد جمشید کونیو یارک اقوام متحدہ میں تعینات کیا گیا۔ 1986 میں جب وہ امریکہ میں سفیر تھے، افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلاٗ کی بات چیت میں ان کا بہت اہم اور مددگار کردار تھا۔ جمشید کے سفارتی کارناموں کی ایک طویل فہرست ہے۔ سفارتکاری کے حوالے سے انکی کتابیں ایک تاریخی دستاویز ہیں۔ 1910 میں انکی مشہور کتاب ،کوائیٹ ڈپلومیسی، شائع ہوئی جس میں بہت سے رازوں سے پردہ ہٹایا گیا ہے۔

خلیج کے تین ممالک، بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جہاں میں ملازمت کرتا آرہا ہوں، کسی پاکستانی سفارتخانے جانا اور کوئی کام کروانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ اگر یہاں کوئی کام پڑجائے تو سفارتی عملے کی بدنظمی، بد انتظامی اور بدتمیزی مدتوں آپ کی زبان کا  ذائقہ خراب کیے رکھتی ہے اور آپ کا فشارخون ایک عرصے تک بے قابو رہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سارے پاکستان سے چن چن کربد اخلاق ترین افراد کو یہاں بھیجا جاتا ہے جن کا کام پاکستانیوں  کی جی بھر کے تذلیل کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کے جن سفرا  کو یہاں دیکھا (بلکہ کم ہی دیکھا کہ ان کا تعلق اپنے لوگوں سے شاذ ہی رہتا ہے) اکثر کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اعزہ کو یہاں لائیں اور کاروبار وغیرہ کا ڈول ڈالیں۔ چند ایک نام چھوڑ کر شاید ہی کسی سفیر نے یہاں نیک نامی کمائی ہو۔

لیکن خالص کاروباری گھرانے اور برادری سے تعلق رکھنے والا یہ پارسی بھی کیا ہی عجیب شخص تھا کہ اپنی سفارتکاری کے دوران اپنی جیب سے خرچ کرتا اور پاکستان کے مفادات کی حفاظت کرتا تھا۔

93 سالہ جمشید مارکر شاید کراچی میں ریٹائرڈ زندگی گذار رہے ہیں۔ خدا انہیں سلامت رکھے، انکا کام اور انکی یادیں ایک قومی سرمایہ ہیں۔ ہم نے ان کی کرکٹ کمنٹری تو کہیں محفوظ نہیں کی، لیکن کاش انکی یادداشتوں کومحفوظ رکھنے کا کوئی بندوبست کرسکیں۔
ان معاملات میں ہماری بے حسی تو بے مثال ہے۔ شاید کسی پارسی بھائی نے ہی یہ کام کیا ہو۔

نوٹ:یہ مضمون جمشید مارکر کی وفات ست کچھ عرصہ پیلے لکھا گیا تھا۔

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *