سربراہ PDMمولنا فضل الرحمان کا انجام کیا ہوگا۔۔انعام الحق

SHOPPING
SHOPPING
SALE OFFER

نوازشریف کے لئے جہاز کی فرسٹ کلاس کا وہ ٹکٹ جو 70 کی دہائی کے آخرمیں لیا گیا وزرات عظمی کا گولڈن ٹکٹ ثابت ہوا جس نے تیس سال سے پنجاب کی حکمرانی اور تین دفعہ وزارت عظمیٰ کے جھولے میں جھولنے کی سیاسی قدرت نوازشریف کی جھولی بلکہ جیب میں ڈال دی اور اب نوازشریف مولنا فضل الرحمان کو ڈھال بناکر چوتھی دفعہ وزارت عظمی کے خواب دیکھنے میں مگن ہیں اور کم ازکم اپنی بیٹی کو وزیراعظم بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

پاکستان سے اڑان بھر کر دوبئی جانے والے اس جہاز نے فضا میں ہی پاکستان کے مستقبل کے حکمران کا فیصلہ کرنے  والی میٹنگ کی میزبانی کا شرف بھی لاعلمی میں حاصل کرلیا مریم نواز کو چاہیے اس جہاز کو سونے سے تول کر خریدیں اور جاتی امرا میں سجا لیں کیونکہ مسلمانوں کا شیوہ ہے ھل جزا الاحسان الا الاحسان ۔

جنرل جیلانی نے فرسٹ کلاس میں اپنے ساتھ بیٹھے خوبرو نوجوان سے پوچھا بیٹا کیا کرتے ہو ۔؟
تو بڑی معصومیت سے اس سمارٹ نوجوان نے کہا کہ لوہے کا تاجر ہوں دوبئی فلاں فلاں ڈیل فائنل کرنے جارہا ہوں
اس وقت ڈی ایچ اے اور عسکری سوسائٹیوں کے ٹھیکدار زیرتربیت تھے اس لئے جنرل جیلانی نے اس خوبرو تاجر نوجوان کو کہا کہ میں ریٹائر ہونے کو ہوں میرا ایک پلاٹ ہے اس پر میں گھر بنانا چاہتا ہوں کوئی اچھا سا بلڈر ہوتو ریفر کردینا یہ میرا سٹیٹس کارڈ ہے ۔

جہاز دوبئی اترا اس تاجر نے اپنے معاملات نمٹائے واپس پاکستان آیا اس پلاٹ پر پہنچا ماہر ترین انجینئرز کی مدد سے نقشہ بنوایا پھر سپیشلسٹ بلڈر سے وہ مکان زبردست تیار کروا کر جنرل جیلانی کے حوالہ کردیا جب جنرل جیلانی نے آنے والے اخراجات کے متعلق پوچھا تو تو اس تاجر نے بڑے خوبصورت انداز میں اس کو اپنی جانب سے حقیر ساتحفہ قرار دیکر اس کے بدلے میں فی الفور پنجاب کی وزارت مالیات کو حاصل کرلیا یہی ہوتا ہے کامیاب سوداگر کا کامیاب سوداگری اس دور کے چند لاکھ کے بدلے پورے پنجاب کے خزانہ کی کنجی حاصل کرلی۔

اس کے بعد کئی کاروباری اور سیاسی دور چلے درمیان میں جنرل جیلانی کی ہی وساطت سے جنرل ضیاء سے ریلوے کے گوداموں میں پڑا قیمتی لوہا پانچ پیسے فی کلو اسی لوہار سوداگر نے حاصل کرکے اپنی اتفاق فاؤنڈری کو جلا بخشی ۔۔

پھر اسی لوہے کے سوداگر نے سیاسی سوداگری بھی شروع کی اور بڑی سیاسی سوداگری اسلامی جمہوری اتحاد کی شکل میں مولنا سمیع الحق مرحوم اور قاضی حسین احمد کو بطور مزدور استعمال کرکے ٹشو کی طرح اٹھاکر پھینک دیا اور وہی لوہے کا سوداگر نوازشریف  کے نام سے وزیر اعظم بن کر پاکستان کی سیاسی لیڈر شپ میں سورج بن کر چمکا۔
لیکن افسوس وزیراعظم بننے کے بعد بھی اس لوہے کے سوداگر سے سوداگری کے چکمے نہیں گئے اسوقت وہی لوہے کا سوداگر پاکستان کی سیاست کا مرکزی کردار ہے
اسوقت نوازشریف مولنا فضل الرحمان کو اس طرح استعمال کرنا چاہتا ہے جس طرح مولنا سمیع الحق شہید اور قاضی حسین احمد کو کیا تھا۔

لیکن مولنا فضل الرحمان اتنا کاکا بھی نہیں اے پی سی میں ماحول سیاسی ماحول گرم کر کے اپنی کمی کا اندازہ کرانے کے لئے مولنا فضل الرحمان کشمیر کے سنگلاخ پہاڑوں اور جنت نظیر وادیوں میں چھپ کر دیکھنے لگا کہ یہ کرتے کیاہیں۔۔؟اور کمال مہارت سے اس طرح سب سے رابطہ منقطع کیا کہ سارے حیران بھی پریشان بھی مریم نواز جب فون کرکر کے تھکتی آگے سے جواب یہ ملتا کہ مطلوبہ نمبر کسی کے استعمال میں نہیں یا فی الحال بند ہے
تو مریم نواز اباجان کو لندن فون کرتی باؤ جی مولنا کا نمبر نہیں لگ رہا ہے باؤ جی کہتے اچھا میں ابھی ٹرائی کرتا ہوں جب باؤ جی کو بھی خود کار سسٹم یہی بتلاتاکہ مطلوبہ نمبر بند ہے تو پھر واٹس اپ کا سہارا لیا جاتا لیکن اسمیں یہ مصیبت کہ مولنا کے نمبر پر پرائیویسی لگی ہوئی ہے کچھ پتہ نہیں چلتا مولنا پڑھ کر کھل کھلا کر ہنسے یا ابھی تک دیکھا ہی نہیں۔۔۔۔۔

SHOPPING

لے دیکر آخری آپشن اپنے پرانے محسن جنرل جیلانی ہی کے فوجی دوستوں کا اسکام والانمبر ۔۔۔۔لیکن خطرہ اسمیں کال ٹریس ہونے کا ۔۔۔۔لے دیکر مولنا کی منت کی گئی کہ حضرت پلیز اسلام آباد تشریف لے آئیں تو مولنا پھر اس یقین دہانی پر سات دن گزارنے کے بعداسلام آباد تشریف لائے کہ نوازشریف مینڈیٹ ملنے کے بعد بھی یہی نوازشریف رہیں گے وہ اسلامی جمہوری اتحاد والے نوازشریف نہیں بنیں گے اور میری جماعت کے وزیروں کو زیادہ دیر بے محکمہ وزیر نہیں رکھیں گے اور میرے وزرا کے مقابلے میں اسحاق ڈار کی کان پھونسیوں کو نہیں مانیں گے سب کچھ منوا کر مولنا فضل الرحمان اسلام آباد تشریف لائے اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ نوازشریف کے بھرپور مطالبہ پر بن گے حالانکہ پیپلز پارٹی اس کی حامی نہیں تھی نوازشریف مولنافضل الرحمان کو سربراہ بنانے میں اس حد تک گئے کہ اگر پیپلز پارٹی نہیں مانتی تو ہم پیپلز پارٹی سے راستے جدا کرنے پر بھی غور کرسکتے ہیں لیکن مولنا فضل الرحمان کو ہم صورت میں سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ بنائیں گے اس آپشن کے زیرغور آنے کے بعد جاکر پیپلز پارٹی جاکر ڈھیر ہوئی اور انہوں نے مولنافضل الرحمان کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا سربراہ بادل نخواستہ تسلیم کیا اور یہ وہی پیپلز پارٹی ہے جس نے 2002 میں ایم ایم اے حکومت بنتے بنتے اور مولنافضل الرحمان کے وزیر اعظم بنتے بنتے پیٹھ میں سیاسی چھراگھونپا
اب دیکھتے ہیں بطور سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ مولنافضل الرحمان کا سیاسی انجام کیا ہوتا ہے۔۔۔۔
اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین یارب العالمین
زندگی باقی تبصرہ باقی

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *