• صفحہ اول
  • /
  • متفرقات
  • /
  • نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ۔ پاکستان کے زیرِ اہتمام اوکاڑہ میں اسٹدی سرکل کا انعقاد

نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ۔ پاکستان کے زیرِ اہتمام اوکاڑہ میں اسٹدی سرکل کا انعقاد

۲۲ جون ۲۰۱۸ کو نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ۔ پاکستان کے زیرِ اہتمام نیشنل اسکول سسٹم رینالہ خورد، اوکاڑہ میں ضلعی اسٹڈی سرکل منعقد کیا گیا جِس کی صدارت این ایس ایف ۔ پاکستان ضلع اوکاڑہ کے ضلعی صدر پرویز سُلطانی نے کی۔
اسٹدی سرکل میں ’موجودہ انتخابی سیاست‘ کے حوالے سے این ایس ایف پاکستان کے سابِق مرکزی صدر صابِر علی حیدر نے لیکچر دیا۔
صابر علی حیدر نے اپنے لیکچر کے دوران کہا کہ این ایس ایف پاکستان پِچھلی کئی دہایئوں سے ملک میں جمہوریّت کے قیام کے لیئے جِدوجہد کر رہی ہے۔ اِس کی واضح مثال نہ صرف انیس سو ساٹھ کی دہائی میں این ایس ایف کی ایوب خان آمریت کے خِلاف جِدوجہد ہے جِسے طلبہ نے اپنے خون سے لِکھا اور ایوب خان جیسے جابر حکمران کو اِس تحریک کے عنانِ اقتدار چھوڑ کر بھاگنا پڑا مگر اِس جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار پرسندھ کا ایک ایسا جاگیردار جمہوریت کے نام پر قابِض ہو گیا جو ایوب خان کو ڈیدی کیا کرتا تھا۔
صابِر علی حیدر نے کہا کہ اِسی طرح جب ۵ جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق نے ایک مرتبہ پھِر مارشل لا لگا دیا تو این ایس ایف پاکستان نے ہی اِس مارشل لا کے خِلاف ایک وسیع تر اتحاد بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضیائی مارشل لا کے خِلاف، کیا بابر اسد اور این ایس ایف کے دیگر کارکنان کی قربانیوں کو تاریخ فراموش کر سکتی ہے؟ مگر این ایس ایف پاکستان کا ایک مؤقف یہ بھی تھا کہ ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیئے ہمیں کِسی سرمایہ دار سیاسی جماعت کا دُم چھلہ بننے کی ضرورت نہیں۔ مگر سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کے ترمیم پسند موقع پرستوں تب بھی ایم آر ڈی کے نام سے ایک اتحاد بنایا تو مگر اِس شرط پر کہ اگر ان کی تحریک کامیاب ہوتی ہے تو امریکہ بہادر حکومت کے قیام میں ان کی سپورٹ کرے گا۔
ان نے کہا کہ دوستو، یہ تحریک کامیاب نہیں ہوئی۔ سندھی وڈیروں کی لیڈربینظیر بھٹو، ضیا کے ساتھ صلح نامہ تحریر کر کے پاکستان آئیں اور انہوں نے شرط کے مطابق امریکی سرپرستی کے ذریعے حکومت بنائی۔ تو دوستو، کیا ملک میں جمہوریت آئی؟
انہوں نے شرکاء سے یہ سوال بھی کیا کہ جب جنرل ضیا الحق جہنم واصِل ہوئے اور نواز شریف اور بینظیر نے باری باری اقتدار کی میوزیکل چیئرز کا کھیل کھیلنا شروع کیا تو کیا ہم اآسے جمہوریئت کہہ سکتے ہیں۔ کیا مزدوروں، کسانوں تک جمہوریت کا کوئی ثمر پہنچا؟ کیا عوام کو اُن کی غذائی ضروریات کے مطابق خوراک مِلنے لگی؟ کیا بچوں کو ان کا مفت تعلیم کا حق مِلنے لگا؟ کیا اِن سرمایہ داروں نے لوگوں کو مفت علاج معالجے کے لیئے کوئی اقدام اُٹھائے؟ کیا طلبہ یونین پر سے پابندی ہٹ گئی؟ ایسا کُچھ بھی نہیں ہوا، مگر پھر بھی یہ سرمایہ دار اپنے حقِ حکمرانی کو جمہوریت کہنے سے باز نہیں آتے۔
اب اِس کھیل میں ایک اور کرکٹر بھی شامِل ہو گئے ہیں۔ وہ بتائیں کہ پِچھلے پانچ سالوں میں وہ خیبر پختونخواہ کے عوام کی ذندگیوں میں کیا بہتری لا سکے؟ مذہبی بنیاد پرست اِس مرتبہ تحفظِ ختمِ نبؤتﷺ کا نعرہ لے آئے ہیں۔ کیا اب یہ منافرت پسند ہم مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کو دین سِکھائیں گے؟ یہ مذہبی پنڈت پہلے خود رزقِ حلال کمائیں، اِس کے بعد ہمیں دین پر چلنا سکھلائیں۔ اِن لوگوں کو مزہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں جیلوں میں ہونا چاہیئے تھا مگر یہ کھلے عام انتخابات لڑ رہے ہیں۔
انہون نے کہا کہ دوستو، این ایس ایف سرمایہ داروں کے اِس گھناؤنے کھیل کو جمہوریت تسلیم نہیں کرتی۔ یہ حکومتیں بنائیں گے، آئی ایم ایف سے قرض لیں گے، جِسے ہمارے ٹیکسون سے چکایا جائے گا اور یہ صِرف ملک سے باہِر اپنی اپنی جائدادوں میں اضافے کے سِوا کُچھ نہیں کریں گے۔
اِس لیئے، آج ہم الیکشن کے نام پر سرمایہ داری کے فروغ کے اِس ناپاک کھیل کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ کِسی وڈیرے، کسی چوہدری اور کِسی پراڈو والے کو اپنے علاقے میں گھسنے نہ دو۔ اُن سے نظریاتی سوال کرو۔ ان کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کرو۔ اگر آج نوجون یہ کریں گے تو ہی کل کو مزدور اور کِسان ان کو جواب دینا سیکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کُچھ علاقوں میں ترمیم پسند ترقی پسندوں کے روپ میں بھی آئیں گے۔ اُن سے بھی سوال کرو کہ کیا مارکسزم تمہیں اِس گلے سڑے نظام کا حصہ بننا سِکھاتا ہے؟ ان سے پوچھوکہ کیا تم ہمیں آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات دِلانے کا پروگرام رکھتے ہو اور اگر رکھتے ہو تو ہمیں سمجھاؤ۔ ان سے پوچھو کہ کیا تم مفت غذا، مفت رہایئش، مفت علاج معالجہ کا پروگرام رکھتے ہو؟ اگر رکھتے ہو تو ہمیں بھی سمجھاؤ تاکہ ہم تن من دھن کے ساتھ تمہارا ساتھ دے سکیں۔
پرویز سلطانی نے سوالات سے پہلے سابق صدر این ایس یاف پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سینیئر کامریڈ کی یہ تمام باتیں بے حد اہم ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر ہم انتخابی سیاست کرنے والے گروہ سے یہ سوالات پوچھیں تو ان کا جواب دینا تو درکنار، یہ ہمارے علاقوں میں آیندہ گھُسیں گے بھی نہیں۔ تاہم، ضرورت اِس امر کی ہے کہ اپنے مزدوروں اور کِسانوں پر واضح کیا جائے کہ صِرف ایک پرچی پر ایک مہر لگانے دینے ہماری نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو سکتا تو یہ پاکستان بننے سے پہلے انیس سو چھیالیس میں ہی ہو چکا ہوتا۔ ہمیں اپنا مستقبل خود سنوارنا ہے اور اِس کے لیئے ہمیں بھرپور انقلابی جدوجہد کرنا ہو گی۔ اور ہم این ایس ایف پاکستان ہمیشہ کی طرح آج بھی اِس کے لیئے تیّارہے۔
آخِر میں شرکا نے سوالات کیئے۔ ایک سوال کے جواب میں صابر علی حیدر نے کہا کہ این ایس ایف پاکستان ابھی تک ڈاکٹر رشید حسن خان کی فِکری قیادت سے محروم نہیں ہوئی۔ ہم آج بھی ان کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے اندرونِ ملک جمہوریت کے قیام کے لیئے اور سامراجی تسلط کے خِلاف مزاحمت کے لیئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں ڈاکٹر رشید حسن خان نے ہی امریکی سرمایہ دار سامراج اور روسی سوشل سامراج کے خِلاف لڑنا سِکھایا اور آج ہم چین کے سی پیک سامراج کے خِلاف اُسی حوصلے ساتھ کے نبرد آزما ہیں۔ ڈاکٹر صاحب آج اِس دنیا میں نہیں، مگر ان کی بنائی ہوئی طلبہ قیادت آج بھی میدانِ عمل میں سرگرم ہے۔

 

فہیم عامِر
فہیم عامِر
ایک عرصے سے صحافت سے منسلک ہیں اردو اور انگریزی زبانوں میں کالم نگاری کرتے ہیں۔ بقیہ تعارف تو ہماری تحریریں ہی ہیں، جِن میں سے کچھ ہماری فیس بُک پر موجود ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *