دیوارِ گریہ۔۔۔۔ لعلونہ خان

دیوار گریہ قدیم شہر یروشلم میں واقع یہودیوں کی اھم مذھبی یادگار ہے۔اسے مغربی دیوار بھی کہاجاتا ہے۔یہ بیت المقدس سے مُلحقہ تاریخی مقام دیوار بُراق جسے یہودی دیوار گریہ کےنام سے موسوم کرتے ہیں۔ اسے Al-Mabka (the place of weeping) بھی کہتے ہیں۔ یہ بڑے بڑے پتھروں سے بنی 59 فٹ اُونچی دیوار جو Limestone rock سے بنی ہے،چہار دیواری ہیکل سُلیمانی کا ایک حصہ ہے۔

عیسائیوں کی انجیل کےمطابق یہاں کوہ موریا پر ابراہیم علیہ السلام بیٹے کی قربانی پر اللہ کے امتحان میں کامیاب ہوئے تھے۔یہی وہ جگہ تھی۔یہاں مسیحا کی آمد پر مُردوں کو بخش دیا جائے گا۔یہودیوں کے مطابق یہ اُن کی عظیم عبادت گاہ ہیکل سلیمانی کا دوسرانام ہے۔

عیسائیوں کے یہاں مقدس مقامات بھی ہیں۔عیسائی عقیدے کے مُطابق عیسی علیہ السلام کو یہاں صلیب پر چڑھایاگیا تھا۔ یہودیوں کی کتاب تلمود کے مطابق یہی وہ مقام ہے کہ جہاں کی مٹی سے آدم علیہ السلام کی تخلیق کی گئی تھی۔اور یہیں مسیح کی آمد پر مردوں کو بخشا جائے گا۔ یہاں ٹیلے کے نزدیک مغربی دیوار ہے جسے دیوار گریہ کہا جاتا ہے۔

یہودیوں کا دعوی ہے کہ یہ دیوار ان کی قدیم عبادت گاہ کابچا ہوا حصہ ہے۔اسی لئے ان کے لئے یہ عبادت کی سب سے مقدس جگہ ہے۔ یہودیوں کا دعوی ہے کہ یہاں ہیکل سلیمانی تھا،جسے ۵۸۶ء قبل مسیح بابل حکومت نے تباہ کردیا تھا۔بعض مؤرخ کہتے ہیں کہ یہاں دوسرا عبادت خانہ تھا،جسےرومی فوج نے ۷۰ء میں تاخت و تاراج کر دیا تھا۔اس دیوار سے لگ کریہودی اپنی مقدس عبادت گاہ کی تباہی کے غم میں گریہ و فریاد کرتے ہیں،سو اس کانام دیوار “گریہ” یا “المبکی” یا “Wailling Wall” کہتے ہیں۔

دیوار کے نچلے حصے میں بادشاہ ہیروڈ کے زمانے کے بڑے بڑے پتھر نہایت خوبصورتی سے لگے ہوئے ہیں۔اُوپری حصہ پر رومی طرزکے بڑے بڑے پتھر نصب ہیں۔دیوار پر جدید طرزکی عمدہ نقش و نگاری کی گئی ہے۔ اس دیوار کی اھمیت یہودیوں کی تاریخ اور دینی نسبت سے ہے۔خاص طور پر یہودی مردوزن ہر ہفتہ کے دن دیوار گریہ کی زیارت کرتے ہیں۔خاص عبادت کرتےاور روتے ہیں۔اور دُعائیں مانگتے ہیں۔

“Mount of Olives Jewish Cemetery”

جبل زیتون پہاڑی کے دامن میں یہودیوں کا ایک قدیم قبرستان جو Kidron وادی میں پھیلا ہوا ہے۔جو پُرانے یروشلم شہر سے بُہت قریب ہے۔ہزاروں سال سے یہاں مُردے دفن کرنے کا سلسلہ بغیر رُکے چل رہاہے۔جبل زیتون پر مُردے دفن کرنے کا سلسلہ فرسٹ ٹمپل پیریڈ میں شروع ہوا،اور آج تک جاری ہے۔اس قبرستان میں سترہزار کے قریب مُختلف زمانوں کی یہودی تاریخ کے اہم لوگوں کی قبریں ہیں۔اور یہودیوں کا ماننا بلکہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی آخرت میں یہاں دفن ہونےوالوں کو بخش دےگا۔اس لئے بھی یہ قبرستان اُن کے لئے اہم ہے۔

ساری دُنیا سے یہودی اس مُقدس مٹی میں دفن ہونےکا شوق دل میں لئے آتے ہیں۔اسی قبرستان کے قریب یروشلم میں حضرت عیسی علیہ السلام نے قیام کیاتھا۔پس یہ قبرستان نہ صرف اسرائیلیوں کی، بلکہ ساری دُنیا کے یہودیوں کی بھی آخری آرامگاہ ہے۔جن کے خیال میں یہاں دفن ہونا اُن کے سارے گُناہوں کو دھو دیتاہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *