سیاسی اشرافیہ اور نظام انصاف۔قمر نقیب خان

مظفرگڑھ حلقہ این اے 182 کے میاں محمد حسین منا آزاد امیدوار ہیں اور کاغذات نامزدگی کے مطابق چار سو تین ارب 77 کروڑ مالیت کے اثاثے رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سو فیصد سچ نہیں ہے ۔ اس میں سے کتنے اثاثے ظاہر کیے ، کتنے چھپائے گئے ہیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے. لیکن ایک بات پاکستانی عوام بھی اچھی طرح سے جانتی ہے حسین منا کے اثاثے جتنے بھی ہوں نواز شریف اور زرداری سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔
پاکستان نے اورنج لائن ٹرین کے لیے چین سے 162 ارب روپے قرضہ لیا ہے، یعنی کہ حسین منا صاحب چاہیں تو اورنج لائن جیسی دو ٹرینیں اپنی جیب سے بنا سکتے ہیں اور پھر بھی سو ارب روپے بچ جائیں گے ان سے دو میٹرو بس پراجیکٹ بنا لیں.۔ چین سے لیے گئے 162 ارب روپے پر سالانہ دس ارب روپے سود دینا پڑے گا. اورنج لائن ٹرین کو صرف ٹکٹوں کی مد میں سالانہ چودہ ارب روپے خسارہ ہو گا. یعنی کہ سود اور خسارہ کُل مِلا کر چوبیس ارب روپے سالانہ بنتے ہیں. اس کا مطلب یہ کہ پنجاب کی 0.001 فیصد آبادی اورنج لائن کی سواری انجوائے کرے گی اور اس عیاشی کی قیمت پورا پنجاب چکائے گا.۔ مزے کی بات یہ ہے کہ چوبیس ارب روپے سالانہ دینے کے باوجود اصل قرضہ 162 ارب روپے جوں کا توں رہے گا.۔
آپ یہ دیکھیں کہ سالانہ چوبیس ارب روپے خواہ مخواہ اڑا دئیے جائیں گے جبکہ پورے پنجاب کے سالانہ تعلیمی بجٹ کے لئے صرف 16 ارب روپے اور پینے کے پانی کی فراہمی کے لئے صرف 12 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں.۔ جاہل عوام کو تعلیم صحت اور انصاف سے دور رکھنا یہ ہے وژن، یہ ہے خدمت، یہ ہے ووٹ کی اصل عزت.؟

وطن عزیز میں حسین منا سے بھی بڑے بڑے ہزاروں مگرمچھ پڑے ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اپنی پوری طاقت لگا کر دیکھ لی مگر سوئس اکاؤنٹس میں پڑا ہوا پیسہ واپس نہیں لا سکی، ایک منتخب وزیراعظم ہتھکڑیاں پہن کر نااہل ہو گیا لیکن سوئس حکام کو خط نہ لکھا گیا۔ اس وقت گیلانی کو دئیے گئے لاکھوں ووٹ کسی کو نظر نہیں آئے۔ یہی گیلانی جب ترکی کی خاتون اول کا ہار چرا کر بھاگ گئے اس وقت ووٹ کا عزت و احترام کسی کو یاد نہیں آیا.۔  پانامہ پیپرز میں ساڑھے چار سو پاکستانیوں کے نام آئے، لیکن احتساب صرف ایک خاندان کا ممکن ہوا.۔ وہ بھی صرف اس لئے کہ نواز شریف کے پیچھے عمران خان نہا دھو کر پڑ گیا تھا. بعض لوگ اس کامیابی کو بھی خلائی مخلوق کے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔  ہو سکتا ہے یہ بات بھی ٹھیک ہو لیکن ابھی صرف نااہلی اور معزولی ہوئی ہے، احتساب تب مانا جائے گا جب ملک و قوم کا پیسہ واپس آئے گا، اس بات کی امید مستقبل بعید میں بھی نہیں کی جا سکتی۔
شریف خاندان کو تو سپریم کورٹ اور نیب میں کھینچا گیا لیکن پانامہ میں آنے والے باقی کے چار سو انچاس لوگوں کا احتساب کرنے کے لیے حکومتی ادارے، نیب، ایف آئی اے، انکم ٹیکس اور احتساب عدالتیں کیوں کچھ نہیں کرتیں.؟ ان تمام اداروں کو کمزور کرنے والے بھی یہی سیاستدان ہیں۔  اس پاکستانی نظام میں کسی بھی جرم کی سزا ممکن نہیں ہے.۔  پچھلے تیس سال میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی لیکن ثابت کسی پر بھی نہیں ہو سکی، سب کے سب دوبارہ کاغذات جمع کروا کر ایک بار پھر سے اسمبلی میں بیٹھنے کو تیار ہیں. ۔ ماڈل ٹاؤن میں چودہ افراد قتل اور سو سے زائد کو گولی مار دی گئی، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں ڈھائی سو افراد کو زندہ جلا دیا گیا، شرجیل میمن اور ڈاکٹر عاصم آزاد گھوم پھر رہے ہیں۔ ایان علی دبئی میں عیاشیاں کر رہی ہے جبکہ اسے گرفتار کرنے والے کسٹم آفیسر کی ہڈیاں بھی قبر میں گَل سڑ چکیں. چھوٹو گینگ جس دن سے پکڑا گیا آج تک کوئی خبر نہیں ملی، احسان اللہ احسان اور کلبھوشن یادیو کی مہمان نوازی بھی جاری ہے..
اب یہ کالم شروع سے آخر تک دوبارہ پڑھیں، پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور نظام انصاف سب کچھ سمجھ آ جائے گا. سچے رسول نے کہا تھا کہ تم سے پہلے قومیں اسی لیے تباہ و برباد ہو گئیں کہ ان کے امیر کے لیے الگ قانون تھا اور غریب کے لیے الگ۔ تو سوچیئے ہمارا انجام کیا ہے؟

قمر نقیب خان
قمر نقیب خان
واجبی تعلیم کے بعد بقدر زیست رزق حلال کی تلاش میں نگری نگری پھرا مسافر..!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *