نام نہاد شاعر اور لکھاری

کافی عرصہ سوشل میڈیا پر غور و فکر کرنے کے بعد ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا، کہ سوشل میڈیا پہ موجود ہر دوسرا شخص جو کہ اپنے آپ کو بطورِ شاعر یا لکھاری متعارف کروا رہا ہے، نہ تو وہ شاعر ہے اور نہ ہی لکھاری۔ پہلے پہل تو میں خود اس پریشانی میں رہی کہ مجھے شاعری کے اسرار و رموز سے نا واقفیت ہے،اسی بنا پر میری شاعری میں پختگی نہیں ، لیکن ماشاءاللہ اس وقت دل باغ باغ ہو گیا جب ایسے لوگ بھی دیکھے جو خود کو پختہ شاعر ثابت کرنے کی کوشش میں ایسے ایسے اندا زمیں طبع آزمائی فرماتے ہیں کہ دس بار پڑھنے کے بعد بھی کچھ سمجھ نہیں آتا کہ آیا اس شاعری پر”واہ” کی جائے یا” آہ”۔

اب اس “آہ” والی شاعری کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ موجودہ دور میں میٹرک فیل سولہ سالہ نوجوان اپنی ناکام محبتوں کے بعد سے فوراً ََہی شاعر بن جاتا ہے۔ ایسے میں جو شاعری پڑھنے کو ملتی ہے وہ کچھ اس انداز کی ہوتی ہے۔
دوریوں میں جلتا ہے بدن تنہا سا
میری طرح سے جلتا رہے تو بھی تنہا سا،
ٗٗٗموت کے وقت بھی اگر نہیں آئے
ہم تیرا انتظار تب بھی کریں گے،
دل سے نکلی دعا عرش تک جاتی ہے
کبھی کسی کا دل نہ دکھانا،
اب ان اشعار میں ہمیں خیال تو مل سکتا ہے لیکن خیال سے زیادہ کچھ نہیں، جبکہ شاعری میں خیال کے ساتھ ساتھ احساس بھی شامل ہوتا ہے۔ ایسے میں اس طرح کے (صرف خیالی) اشعار پر جب لوگ واہ واہ کرتے ہیں تو شاعر صاحب (اپنی نظر میں) اپنے آپ کو موجودہ دور کا وصی شاہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اب یہ الگ بات کہ بہت سے شاعر حضرات (اصلی شاعر) وصی شاہ کو شاعر ہی نہیں سمجھتے۔۔۔ اب اگر وصی شاہ کو ہی شاعر نہیں مانا جاتا تو جناب یہ نام نہاد شاعر بھلا کس گنتی میں ہوں گے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور تو اور جناب کوششوں کا حال یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے آپ کو شاعرو لکھاری ثابت کرنے کے چکر میں مشہور شعراء اور قلم نگاروں کا کلام بھی اپنے نام سے منسوب کرنے سے نہیں چوکتے۔ ہمیں یقین ہے جتنی محنت یہ لوگ اپنے آپ کو شاعرو لکھاری ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں اگر اتنی محنت امتحان میں کر لیا کریں تو زندگی میں کبھی فیل نہ ہوں۔

ایک جگہ ایک صاحبہ عمیرہ احمد کے ناول کا اقتباس اپنے نام سے منسوب کر کے ڈھیروں داد وصول کر رہی تھیں۔ ہم نے جب بتایا کہ یہ اقتباس عمیرہ احمد کے ناول “مات ہونے تک” سے لیا گیا ہے تو صاحبہ آگے سے کچھ یوں گویا ہوئیں کہ”یہ تو میرے ذہن میں خیال آیا، جسے میں نے اپنے لفظوں میں اتارا ہے، باقی جیسے آپ کہہ رہی ہیں عمیرہ احمد، تو ان کو تو میں جانتی ہی نہیں “۔ اب اس جواب پر ہمارے دل کی آہوں کا عالم نہ پوچھیے، صرف ٹھنڈی سانس ہی بھر سکتے تھے سو بھر لی۔۔۔ آج کل سوشل میڈیا پر ایسے کورسز بھی کروائے جاتے ہیں جو شاعری اور نثرنگاری کے اصولوں سے واقفیت حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ نام نہاد شاعر اور لکھاریوں کو چاہئے کہ ان کورسز سے استفادہ حاصل کریں۔ کیونکہ اگر آپ کے اندر حقیقتاً لکھنے کے اور شاعری کرنے کے جراثیم موجود ہیں، تو ایسے کورسز کے ذریعے انہیں جِلا بخشی جا سکتی ہے۔

بہت سے لوگوں کو اختلاف بھی ہے کہ بھئی شاعر اور لکھاری تو پیدا ہوتے ہیں، بنائے نہیں جاتے۔ بات درست ہے، لیکن اگر ایسے کورس کرنے کے بعد بھی آپ شاعر یا لکھاری نہیں بن پاتے بلکہ بڑے لکھاریوں اور شعرا کے ساتھ ساتھ، نئے لکھاریوں اور شعرا کا کلام چراتے ہیں اور ایسا کر کے آپ سمجھتے ہیں کہ آپ واقعی تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہیں تو یہ بات عقلی ثبوتوں کے ساتھ واضح ہوتی ہے کہ آپ پیدائشی شاعر اور لکھاری کی بجائے پیدائشی چوَل ہیں۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”نام نہاد شاعر اور لکھاری

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *