ایک گھامڑ کا غریبانہ محل۔۔۔سید عارف مصطفٰی

باپ پر پوت پتا پہ گھوڑا, بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا ۔۔۔
آصف زرداری کے فرزند کو ایسا ہونا چاہیے  تھا ۔ کیا وہ ایمانداری اور دیانتداری کو اپناکے اپنی ولدیت مشکوک کروالیتا ۔۔

میڈیا سے خبر ملی ہے کہ بلاول نے اپنے کاغذات نامزدگی میں اپنے محل المعروف بلاول ہاؤس کی قیمت صرف تیس لاکھ روپے درج کی ہے جو کہ درحقیقت اسکی موجودہ اصل قیمت کا ایک فیصد بھی نہیں ہے کیونکہ اس رفیع الشان کوٹھی کی قیمت کسی طور بھی ایک ارب سے کہیں زیادہ ہے۔۔۔ لیکن کیا کیجیئے کہ اس مکاری و جھوٹ کا دفاع کرنے والے حرامخور بھی سینہ تانے کھڑے ہیں اور پی پی پی کے اسلام آباد سے امیدوار کھوکھر نامی جیالے نے کہا ہے کہ بلاول نے کچھ غلط نہیں کیا اور اس کا یہ عذر پیش کیا ہے کہ دراصل بلاول نے اسکی وہ قیمت لکھی ہے جو اسکی خریداری کے وقت تھی ۔

ایسے بونگے اور اوچھے دلائل اچھے سے اچھے متوازن شخص کو بھی مشتعل کردینے کے لیے  کافی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ خوشامدی شخص کسے بیوقوف بنا رہا ہےجبکہ ہراوسط عقل رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ جب کسی مجاز جگہ سے حسابات طلب کیے  جائیں تو مقصود یہی ہواکرتا ہے کہ اثاثوں کی مالیت تازہ نرخوں کے مطابق بتائی جائے۔ اسکے باوجود اور حقائق کے برعکس ماضی کی قیمت کو بنیاد بنانے کا عذر پیش کرنے والا یہ بھول گیا کہ  بلاول ہاؤس  اپنی خریداری کے وقت بھی اس سے کئی گنا زائد قیمت کا تھا   اور کیا اس شرمناک غلطی بلکہ ڈھٹائی سے یہ سمجھ لیا جائے کہ انگلینڈ کا تعلیم یافتہ بلاول جو 22 کروڑافراد کی مملکت خداداد کی وزارت عظمیٰ کا امیدوار ہے یا تو بہت بڑا کاذب اور مکار ہے کہ اس قدر ڈھٹائی سے یہ جھوٹے اعداد وشمار پیش کر رہا ہے یا پھر دراصل اس قدر گھامڑ اور بےشعورہے کہ یہ تک نہیں جانتا کہ دنیا بھر میں 4 سے 5 سال میں  پیسے کی قدر دگنی سے زائد ہوجاتی ہے جبکہ جائیداد کی قیمت تو بےاندازہ طریقے سے چھلانگیں مارتی ہے اور کئی گنا بڑھ کر کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے تو پھر بلاول ہاؤس کے دام اب تک کیا کچھ ہوچکے ہوں گے۔۔۔

لیکن چونکہ عقل سے پیدل کسی فرد کو مغرب کے کسی اعلیٰ تعلیمی ادارے میں داخلہ مل ہی نہیں سکتا چنانچہ یہ معاملہ تو سراسر مکاری اورکھلی فریب کاری کا ہے۔۔ تو کیا اسے مکار اور فریبی لوگوں کو برسراقتدار آکے کھربوں روپے کے اثاثے ٹھکانے لگانے کا
موقع دینا قومی امانتوں سے خیانت کے مترادف نہیں ہوگا؟۔۔
پوری دیانتداری سے تجزیہ کیا جائے تو بلاول کے یہ کاغذات نامزدگی اسے صادق و امین کی بجائے کاذب  ثابت کرنے کے لیے  کافی و مناسب ہے اور آئین کی شق نمبر 62 اور 63 کی رو سے اسے قانونی طور پہ نااہل کردینے کی سند ہے اور اس کے لیے  اسے کسی طرح کے مغالطے کی رعایت بھی نہیں دی جانی چاہیے۔۔۔ اس لیے  اب الیکشن کمیشن کے متعلقہ ریٹرننگ افسر پہ از روئے قانون لازم ٹھہرتا ہے کہ اس خاص نکتے کو پیش نظر رکھ کر بلاول  کے کاغذات نہ صرف مسترد کردیں بلکہ اس صریح فریب کاری کی واردات کو حسب قانون تادیبی کارروائی کے لیے  متعلقہ مجاز عدالت کو ریفر کردیں تاکہ عوام پاکستان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا یہ ننگا تماشا ٹھکانے لگے۔

ویسے یہ ایک اکیلے بلاول ہی کا معاملہ نہیں، ہماری سیاسی اشرافیہ میں سے بیشتر کا یہی احوال ہے اور الیکشن کمیشن میں پیش کیے  جانے والے اکثر کاغذات نامزدگی بالعموم سفید جھوٹ اورگھناؤنے فریب کا غلیظ پلندہ ہوتے ہیں جبکہ کسی امیدوار کی صداقت و دیانت جانچنے کے لیے  یہ کاٖ غذات ہی تو دراصل اہم ترین پیمانہ ہیں اوراسی لیے انکی بنیاد پہ کسی غلط شخص کو  پکڑنا یقینی بنانا چاہیے  لیکن ہوتا یہ ہے کے وقت کی تنگی کے بہانے اور تکنیکی طور پہ معلومات نہ رکھنے کے عذر کی بنا پہ ریٹرننگ افسران ان اہم ترین تفصیلات کی جانچ پہ وہ   توجہ نہیں دے پاتے کہ  جس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے اوریوں  بدعنوان امیدواروں کی بڑی تعداد صاف بچ نکلتی ہے اور پارلیمنٹ جاکے لوٹ مار کا طوفان مچادیتی ہے ۔اس صورتحال کے انسداد کے لیے  اب یہ ناگزیر ہوچلا ہے کہ بدعنوانوں کا رستہ روکنے کا خاص اہتمام کیا جائے۔ خواہ اس عمل میں زیادہ وقت ہی کیوں نہ لگ جائے مگر کاغذات نامزدگی کی سخت جانچ پڑتال کی جائے تاکہ غلط امیدوارچناؤکے لیے  آگے نہ جاسکےاور گو خاصی تاخیر سے ہی سہی لیکن یہ عین ضروری ہے کہ اب کاغذات نامزدگی کی تفصیلات میں سچ بیانی کی موجودگی کوہرقیمت پہ یقینی اور فول پروف بنایا جائے اور اس غرض سے متعلقہ قوانین میں خاطرخواہ ترامیم کی جائیں۔

انتخابی عمل سے متعلق  قوانین میں یہ تبدیلی بھی کی جانی چاہیے  کہ آئندہ امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کی وصولیابی اور تکمیل کے لیے  مناسب وقت دیا جائے جو دو سے تین ہفتے تک کے دورانیے  پہ مشتمل ہو کیونکہ ایک بامعنی جانچ پڑتال کے لیے  موجودہ مختص کردہ وقت قطعی  ناکافی ہے۔ایک نہایت اہم کام ٹیکنیکل سپورٹ سے متعلق ہے یعنی امیدواروں کے اثاثوں کا حقیقی تعین ۔۔۔اور اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے  مستقبل میں یہ کرنا ہوگا کہ انتخابی امیدواروں کی جائیداد اور کاروبار کا تخمینہ صرف مجاز عملے ہی سے کروایا جائے اور  اس کام کو سرانجام دینے کے لیے  صرف وہ متعلقہ باضابطہ تربیت یافتہ و نیک نام افراد کرنے کے لیے  با اختیار ہوں کہ جن کا تعلق رجسٹرار آفس اور ایف بی آر سے ہو اور جن کی معاونت کے لیے  تمام اضلاع کے چیمبرز آف کامرس کو بھی پابند کردیا جائے اور پھر الیکشن کمیشن ان پیش کردہ گوشواروں کو بھی اسی طرح کے مجاز معاونین اور آڈٹ فرم کی مدد سے جانچا جائے کہ  عملے یا الیکشن کمیشن کے خصوصی تربیت یافتہ مجاز عملے سے کرایا جائے جو ہر تحصیل آفس میں اس مقصد کے لیے  ایک مخصوص مدت کے لیے  بٹھائے   جائیں اور اگر کوئی امیدوار اپنی جائیداد یا کاروبار  کی تازہ قیمتوں کا تخمینہ بیس فیصد سے کم ظاہر کرے تو حکومت یا تو اسے ضبط کرنے کی مجاز ہو یا کمتر سزا یہ دے کہ  اسے امیدوار کی ظاہر کردہ قیمت سے بھی نصف پہ لازمی طور پہ خرید لے۔

اگر ایسا نہ کیا گیا اور قوم کی نمائندگی کے دعویداروں کے حسابی و کرداری معاملات پہ سخت احتسابی نظررکھنے کا اہتمام نہ کیا گیا تو ملک میں لوٹ مار کا 70 برس سے جاری یہ گھناؤنا کھیل کبھی نہیں رکے گا اور کاغذات نامزدگیوں میں اسی طرح کی فریب کاری جاری رہے گی جیسی کہ بلاول نے کی ہے اور بلاول ہاؤس کو محض 30 لاکھ کابتایا ہے ۔۔۔ کیا ہی اچھا ہو جو یہ سیاسی گند خانہ حکومت ستر لاکھ میں خرید کر بڑےو حقیقی یتیم خانے میں بدل دے ، کیونکہ آخر پہلے بھی تو یہاں ذہنی یتیم رہتے   بستے چلے ہی آرہے ہیں نا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *