ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا۔۔۔طارق احمد

ہم کرشن نگر کی ایک گلی بھیم روڈ پر رہتے تھے۔ بھیم روڈ کی مشہوری کی ایک وجہ تو یہی تھی  کہ ہمارا جنم اس گلی کے مکان نمبر تینتیس میں ہوا تھا۔ اس گلی کی مشہوری کی دوسری وجہ پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور اداکار یوسف خان تھے۔ جن کا آبائی گھر بھی بھیم گلی میں واقع تھا۔ یوں ماضی کے عظیم اداکار اور حال اور مستقبل کے عظیم قلم کار دونوں اسی گلی کے رہائشی اور ہمساے تھے  اور یوں ماں جائے تھے۔ اچھا یہ فقرہ پڑھ کر دل جلانے کی ضرورت نہیں البتہ خوشی کے مارے مسکرایا جا سکتا  ہے۔ بات یہ ہے کہ   ہم  نے آج تک کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے کبھی بھی خود کو عظیم نہیں کہا،نہ ہی درخواست کرکے کسی سے کہلوایا ، لکھا نہ لکھوایا ۔۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا  جو سکھ اپنے چبارے نہ بلخ نہ بخارے۔

چبارے سے یاد آیا ۔ ہم نے اپنے چبارے پر کبوتر رکھے ہوئے تھے۔ ہم سے مراد ،  ہمارے کزن نے۔۔  لیکن تمام گھر کے بچوں کی یہ ڈیوٹی تھی  کہ انہوں نے ان کبوتروں کے دانہ پانی اور کھڈے کی صفائی کا خیال رکھنا  ہے اور یہ کام ہم خوشی خوشی سر انجام دیتے تھے۔ کیونکہ اس بہانے ہمیں چھت پر جانے کا موقع  مل جاتا تھا  اور ہمیں گڈی اڑانے کا وقت میسر آ جاتا تھا۔ ہم نے اپنی لوٹی ہوئی گڈیاں اور لوٹی ہوئی ڈور کی گٹھیں اور پنیاں  کبوتروں کے اسی کھڈے میں چھپا کر رکھی ہوتی تھیں  اور یوں خاندان کے کھڑوس بڈھوں کی پہنچ سے دور اور محفوظ تھیں۔

حقیقت یہ تھی  کہ  ڈور کی ان پنیوں پر ہماری بہت زیادہ محنت اور بہت زیادہ وقت لگتا تھا۔ کئی  کئی  گھنٹے تو ڈور کے گنجل کھولنے میں ہی صرف  ہو جاتے تھے  اور اگر لوٹ کی ڈور مختلف نڑوں پر مشتمل ہوتی تھی  تو پھر ان گنجلوں کو کھولنا کسی جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔

بات یہ تھی کہ  اس مکان میں ہم تین خاندان اکٹھے رہتے تھے۔ ایک ہم  اور دو ہماری خالائیں ۔ ہماری چھ خالائیں تھیں اور ساتویں ہماری امی تھیں  جبکہ ہمارے دو ماموں تھے۔ خاندانی ذرائع بتاتے تھے کہ  ہمارے نانا اور نانی نے مامووں کی جوڑی ملانے کے چکر میں سات عدد بیٹیاں اس دنیا میں لانے کے اسباب مہیا کیے تھے۔ بات اگر یہیں تک رہتی تو مناسب تھی  لیکن پھر ان نو بہن بھائیوں نے اخیر ہی کر دی اور درجن درجن بچے پیدا کرکے دنیا و آخرت میں سرخرو ٹھہرے۔

وہ سستے زمانے تھے۔ بچوں کی پروڈکٹ کو پالنا اور سنبھالنا آسان اور ارزاں تھا۔ لوگ بھی زیادہ تر ویہلے تھے کوئی دوسرا کام تھا نہیں ۔ فیس بک اور ٹویٹر ابھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے والا معاملہ تھا۔ بہت بعد میں کسی شاعر نے جو یہ لکھا تھا۔ دل ڈھونڈتا  ہے  پھر وہی فرصت کے رات دن۔۔ تو دراصل وہ اسی بات پر تشویش کا اظہار کر رہا تھا  کہ زندگی کی مصروفیت کی وجہ سے بچے بنانے کی ہوم انڈسٹری کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے۔

اچھا بچوں کی عمروں کے فرق بھی بہت ہوتے۔ میری سب سے بڑی خالہ کے بچے اور میری امی ہم عمر تھے۔ میری ایک پھوپھو  اور میرے ایک چچا مجھ سے چھوٹے تھے۔ یعنی بچوں کی یہ صنعت اتنی فروغ پذیر تھی۔ ایک ہی وقت میں والدین اور اولاد بچہ سازی میں مصروف اور مشغول ہوتے۔ یہ جو ایک پنجابی زبان کی لوری آپ نے سنی ہو گی۔۔ اللہ کاکا ہو، تیرے موڈھے پہ گئی  جوں۔ تیاریاں کڈھن والیاں پابھیاں کڈالا کاکا تو ۔ یہ لوری اسی زمانہ قدیم کی معاشرتی روایت کو بیان کرتی ہے۔ جب کاکے کی بھابھیاں بیاہ کر گھر میں آ چکی ہیں  اور کاکے کی اماں اور ان کی ساس کاکے کی جوئیں نکالنے کی ذمہ داری ان نو بیاہتا دلہنوں کے حوالے کر رہی  ہے۔ راوی اس کے متعلق بالکل خاموش  ہے  کہ اس دوران ساس صاحبہ کن سرگرمیوں میں مشغول تھیں۔

چنانچہ اس ایک مکان میں ہم تین فیملیز کے کوئی چالیس پچاس بچے اور بڑے مل جل کر بلکہ اوپر تلے رہتے تھے۔ کیونکہ اس مکان کے تین پورشن تھے۔ اس کے علاوہ بیس تیس مہمان مستقل یہاں مقیم رہتے۔ ہمارے خیال میں اس مسکین اور مظلوم مکان کی یہ ہمت تھی کہ اس نے ہمارے نانا نانی کی اتنی زیادہ غلطیوں در غلطیوں کو اپنے در و دیوار میں پناہ دے رکھی تھی۔ ہمارے محلے کی قربانیاں بھی کچھ کم نہیں تھیں۔ کبوتر بازی اور پتنگ بازی سے فارغ ہو کر ہم گلی ڈنڈا ، کنچے ، اخروٹ ، پٹھو گرم ، بندر کلہ اور لمیاں کوڑیاں کھیلتے۔ محلے کے بزرگ ہم پر غصہ کرتے اور ہم غصے میں آ کر آپس میں لڑتے  اور پھر اکٹھے  بیٹھ کر ملوک اور بیروں جیسے پھلوں سے لطف اندوز ہوتے۔ یہ بیر ہم نے اکثر گھروں کے اندر لگی بیریوں سے اتارے ہوتے  جن پر ہم گرمیوں کی دو پہروں میں حملہ آور ہوتے۔

عید پر ہم سب بچےقطار میں کھڑے ہو جاتے  اور ہمیں باری باری  عیدی ملتی۔ شروع میں عیدی کا ریٹ ایک روپیہ فی بچہ ہوتا۔ پھر جوں جوں روپے کی قیمت گرتی گئی   اور ہم بڑے  ہوتے گئے۔ عیدی کا یہ ریٹ پہلے پانچ روپے اور پھر بڑھ کر دس روپے ہو گیا۔ جو ہمارے ایم اے کرنے تک برقرار رہا۔ حالانکہ ان فلیشن بہت بڑھ گئی تھی۔ کچھ فی میل کزنز اور محلے کی چند لڑکیوں کو امپریس کرنا ہوتا تھا  لیکن ریاست کی مانند ہمارے مالی حالات ہمیشہ خسارے کا شکار  ہی رہے اور ہمارے رومان اور ایمان دونوں کو متاثر کرتے رہے اور آج اگر پوزیشن قدرے بہتر  ہے  تو حال یہ  ہے کہ
نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے۔۔
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے۔۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *