مانوس اجنبی۔۔۔۔ابو بکر

اس سے پہلی ملاقات ان دنوں کا قصہ ہے جب میں صدر بازار کے قریب ایک خیراتی ادارے میں بطور کلرک ملازم تھا۔ اس گنجان علاقے میں چار سو دفاتر اور کاروباری مراکز تھے۔ دن کے اوقات میں سڑکوں پر ایسی بھیڑ اور شور رہتا تھا کہ آدمی کام کا پرزہ نہ ہو تو جان سے گزر جائے۔ یہیں ایک بلڈنگ کے تہہ خانے میں ہمارا دفتر تھا جہاں ایک نیم تاریک اور حبس زدہ گوشے میں میری کرسی اور میز پڑا رہتا۔ دن بھر میں فائلوں اور گوشواروں کا پیٹ بھرتا رہتا۔ شام سے ذرا پہلے چھٹی ہوتی تو میں یہاں سے بھاگ نکلتا تھا۔ گیارہ نمبر کی بس کا انتظار کرتا اور پھر اس میں لد جاتا۔ شہر کے مضافاتی محلے میں کرا ئے کا ایک خستہ مکان میری رہائش گاہ  تھی۔ کرایہ اگرچہ کم تھا لیکن اس کی کسر گرمیوں کے دنوں میں پوری ہوجاتی جب یہاں پانی کا قطرہ تک نہ ملتا۔ صبح جاتے ہوئے نل کھول کر بالٹی رکھ جاتا تو شام تک اتنا پانی جمع ہوپاتا کہ ایک دن سر تو دوسرے دن دھڑ دھو سکوں۔ دفتر سے واپسی پر اسی نیم گرم پانی کو خود پر انڈیل لیتا، نیلے رنگ کا ایک کھلا سا پاجامہ پہنتا اور قالین پر پڑا رہتا تھا۔ شام ڈھلے باہر نکلتا تھا اور بلاسبب ادھر ادھر گھومتے ہوئے رات کردیتا۔ پھر معمول کے مطابق نیا دن آجاتا تھا اور یونہی یہ معمول جاری رہتا۔

ان دنوں شام کو پھرتے ہوئے میں نے ایک پارک دریافت کیا جو نسبتاً وسیع اور سرسبز تھا۔ دائروی نقشے کے اس پارک کے مرکز میں پانی کا ایک جوہڑ تھا جسے تعمیر کرتے ہوئے شاید کسی چھوٹی سی جھیل کی نقل اتارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ گھاس کے میدانوں میں کئی پگڈنڈیاں بنی ہوئی تھیں ۔ شام کے وقت لوگ یہاں چہل قدمی کے لیے آتے۔ شجرکاری سلیقے سے کی گئی تھی۔ متعدد گھنے درخت تھے جن کے نیچے بیٹھنے کے لیے لکڑی کے بنچ اور سیمنٹ کے چبوترے بنائے گئے تھے۔ گھاس پر کئی لوگ ورزش کرتے رہتے۔ یہاں آنے والوں کی اکثریت ایسے فارغ البال اور خوشحال لوگوں کی تھی جو اپنی جسمانی نشوونما کو دفتری کامیابیوں میں رکاوٹ نہ بننے دینا چاہتے تھے۔ یہاں آنا شروع کیا تو بتدریج معلوم ہوا کہ ادھر گھومتے لوگ جب ایک دوسرے کے آس پاس سے گزریں تو سلام یا ہلکی سی مسکراہٹ کا تبادلہ کرتے ہیں۔ یہی منظر میں نے پہلے کئی مسجدوں میں بھی دیکھا تھا جہاں معمول کے نمازی آپس میں غائبانہ شناسائی رکھنے لگتے ہیں۔ میں چونکہ پہلے سے ہی چہل قدمی کرتا ہوا پارک میں داخل ہوتا تھا لہذا اکثر کسی بنچ پر بیٹھ کر اپنے خیالوں میں مگن رہتا۔ گاہے بگاہے پاس سے گزرتے لوگ بھی نظروں میں آجاتے۔ چند دنوں میں ہی میں نے جوہڑ کے پاس پیپل کے ایک درخت کے نیچے کا بنچ اپنے لیے مخصوص کر لیا اور ہر شام یہیں بیٹھنے لگا۔ میرا کوئی خاص شغل وغیرہ نہ تھا۔ اکثر اوقات بس غائب الدماغ رہتا۔ کبھی اگر کوئی پاس آکر بیٹھ جاتا تو میں اس سے بات کر لیتا ورنہ یونہی وقت گزار کے واپس نکل جاتا۔

انہی دنوں میں نے اس شخص کو دیکھا جو مسلسل ایک ہی ورزشی لباس پہنے چہل قدمی کرنے آتا تھا۔ دیکھنے میں ساٹھ کے پیٹے میں لگتا تھا۔ آمنا سامنا ہوا تو میں نے غور کیا کہ اس کی بھنویں بالکل سفید ہوچکی تھیں حالانکہ اس کے سر کے بال کالے تھے۔ اس وقت میں نے خیال کیا کہ شاید یہ شخص سر پر خصاب لگاتا ہو۔ ہاتھ، بازو ڈھلکے ہوئے اور چال متواتر نہ تھی۔ چلتے دیکھتا تو یوں لگتا کہ اس کے قدموں میں لکنت ہے۔ یہ بوڑھا کسی کے ساتھ سلام دعا نہ کرتا تھا۔ کبھی کبھار درمیانی جسامت اور بھورے رنگ کا ایک کتا بھی اس کے ہمراہ ہوتا۔ میں نے آج تک اسے پارک میں داخل ہوتے یا واپس نکلتے ہوئے نہ دیکھا تھا۔ جب کبھی نظر پڑتی تو چہل قدمی کرتے یا کسی بنچ پر سستاتےہوئے نظر آتا۔ ان بظاہر عجیب باتوں کی وجہ سے یہ شخص مجھے یاد رہ گیا۔ عموماً وہ مجھے روز ہی نظر آجاتا۔ اگر کسی روز ایسا نہ ہوتا تو میں ادھر ادھر دیکھتا کہ آج وہ کیوں نہیں آیا۔ تب وہ کسی طرف سے برآمد ہوتا نظر آتا۔ کبھی کبھار میں جان بوجھ کر اس کی چہل قدمی کے راستے پر یوں چلنا شروع کردیتا کہ ہمارا آمنا سامنا ہو جائے۔ اس دوران میں اس کے چہرے کی طرف دیکھ لیتا تھا۔ میں یہ سب صرف اس لیے کرتا تھا کیونکہ وہ بوڑھا مجھے عجیب کردار محسوس ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ اسے میری اس خبرگیری کا اندازہ ہوگیا۔ اس دوران کئی ہفتے گزر گئے لیکن کبھی ہماری گفتگو نہ ہوئی۔ میں سوچتا تھا کہ شاید یہ بوڑھا کوئی فلمساز ہے جو کچھ وقت تنہا گزارنے یہاں آتا ہے یا پھر ہونہ ہو یہ شخص کوئی سڑیل ریٹائرڈ افسر ہے جس نے اپنے اہل خانہ کو عاق کر رکھا ہے۔ بہرحال میں اس کیفیت کا عادی ہوتا گیا اور اب وہ بوڑھا اگر نظر آ جاتا تو میں چند لمحوں کے لیے یہ سب سوچتا اور پھر آگے بڑھ جاتا۔ دن گزرتے گئے۔

اس دوران موسم بھی بدل گیا۔ سردیاں آنے لگیں اور جلد ہی شام ہوجاتی۔ پارک ہلکی دھند کی پراسراریت میں ڈوب کر ویران ہوجاتا تھا۔ مغرب ہوتے ہی لوگ واپس نکل جاتے۔ میں چونکہ اپنی دھن میں مگن رہتا لہذا معمولات پر کوئی خاص فرق نہ پڑا۔ مکان پر تنہا رات کاٹنا بھی عذاب لگتا تھا سو جلد واپسی کو جی نہ کرتا۔ ایک نیم تاریک شام میں اسی طرح پارک میں منڈلا رہا تھا کہ مجھے پیپل کے درخت کے نیچے آہٹ محسوس ہوئی۔ میں وہاں جانے کا ارادہ نہ رکھتا تھا لیکن بے اختیار مڑ گیا۔ پاس پہنچا تو وہاں وہ بوڑھا زمین پر اوندھے منہ گرا پڑا تھا۔ بنچ پر ایک گلاس اورشراب کی ادھ بھری کھلی بوتل پڑی تھی۔ ذرا دور اندھیرے میں شاید اس کا کتا کھلا گھوم رہا تھا۔ مجھے حیرانی ضرور ہوئی لیکن دیکھنے میں یہی لگتا تھا کہ پیتے پیتے بوڑھا اعصاب گنوا بیٹھا ہے۔ میں نے اسے اٹھایا۔ لباس درست کیا اور سہارا دیکر بنچ پر بٹھایا۔ اس کے کاندھے دبائے اور ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر منہ اونچا کیا۔ آہستہ آہستہ وہ حواسوں  میں آنے لگا اور کچھ دیر میں ٹھیک ہوگیا۔ اس نے میری طرف دیکھا لیکن کوئی بات نہ کی۔ چند لمحوں بعد اس نے گلاس اٹھایا اور شراب بھرنے لگا۔ آدھا بھر چکا تو گلاس مجھے پکڑا دیا۔ نجانے کیوں میں نے بلا جھجک گلاس پکڑا اور ایک گھونٹ لیکر خاموش بیٹھا رہا۔ کچھ دیر یونہی خاموش بیٹھے رہنے کے بعد بوڑھے نے بولنا شروع کیا۔ خلاف توقع اس نے میرا کوئی شکریہ ادا نہ کیا کہ میں نے اس کی مدد کی ۔نہ ہی اس نے میرا نام یا کام وغیرہ جاننے میں کوئی دلچسپی ظاہر کی۔ وہ اچانک ہی اسطرح بولنا شروع ہوا کہ جیسے ہم ایک دوسرے کو خوب جانتے ہیں اور پہلے سے کوئی گفتگو جاری تھی جس میں ایک خفیف وقفہ آگیا تھا۔ حیرانی بڑھتی جارہی تھی لیکن شراب معدے تک پہنچی تو میں نے اس بات پر غور کرنا چھوڑ دیا کہ یہ بوڑھا ایسا کیوں کر رہا ہے۔ میں سوچنے لگا کہ کاش کل کام پر نہ جانا ہوتا۔ اتنی مدت بعد جام چڑھایا جائے تو رات بے فکری میں گزارنی چاہیے تھی۔۔

بوڑھا اب مسلسل بول رہا تھا۔ اس کا لہجہ قدرے غیرمانوس اور آواز ڈوبی ہوئی تھی لیکن میں یوں ظاہر کر رہا تھا کہ جیسے اس کی تمام باتیں مجھے مکمل سمجھ آرہی ہوں۔ شاید وہ کافی زیادہ پی چکا تھا اور اب واہی تباہی بک رہا تھا۔ اس کے دونوں لڑکے اپنے بچوں سمیت یورپ جا بسے تھے۔ بیوی کے متعلق اس نے کوئی بات نہ کی تھی۔ وسیع کاروبار سے منافع آجاتا تھا جس سے اس کے اخراجات نکلتے رہتے۔ اکیلا رہتا تھا جہاں ایک جوان نوکرانی دن میں ایک بار آ کر جھاڑ پونچھ کرجاتی اور کھانا بنا جاتی تھی۔ بوڑھے نے اپنا نام نہ بتایا تھا لیکن اس نے بتایا کہ وہ اپنی آپ بیتی لکھ رہا ہے جس کے چند ابواب باقی ہیں۔ ایک نامی گرامی پبلشر اسے چھاپیں گے۔ اس کی باتوں سے محسوس ہوتا تھا کہ بوڑھا ایک منافع بخش زندگی گزار کر تنہائی کا شکار ہے اور غم غلط کرنے کے لیے شراب پیتا ہے۔ وہ بڑبڑائے جا رہا تھا۔ میں مزید کچھ دیر اس کی باتیں سنتا رہا تو مجھے اس بات کا پختہ یقین ہوگیا کہ اب اس بوڑھے کے لیے کرنے کا کوئی کام باقی نہیں ہے اور شاید اسی وجہ سے یہ خود بھی کسی کے کچھ کام کا نہیں رہا۔ اس کی باتیں بھی اسی طرف اشار کرتی تھیں کہ جیسے اس نے زندگی کے تمام کام کر لیے ہیں اور اب بس تماشائیوں کی طرح کنارے پر بیٹھا باقی ماندہ کھیل دیکھ رہا ہے۔ مجھے محسوس نہ ہوا تھا کہ میرے گلاس رکھنے کے بعد بھی وہ کئی جام پی چکا ہے۔ اس دوران اس کی حالت دوبارہ غیر ہونا شروع ہوئی۔ میں نے اس کی مدد کی تاکہ وہ گر نہ جائے ساتھ ہی کہا کہ اب اسے واپس چلنا چاہیے۔ بوڑھے میں بالکل ہمت نہ تھی۔ وہ اس بات کا جواب نہ دے سکا تو میں نے سہارا دیکر اسے اٹھایا ۔ اب وہ میرے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا اور ہم دونوں پارک کے گیٹ کی طرف چلتے آرہے تھے۔ باہر نکل کر ذرا دیر رکنے کے بعد میں نے ایک ٹیکسی کو روکا اور دروازہ کھول کر بوڑھے کو اندر بٹھایا اور ساتھ ہی خود بھی گھس گیا۔ ڈرائیور نے گاڑی چلانا شروع کی۔ بوڑھے نے غنودگی سے بھرپور   آواز میں اسے کوئی پتہ بتادیا تھا۔ ذرا دیر بعد ہم ایک بڑی عمارت کے سامنے آ رکے۔ یہاں متعدد بیش قیمت فلیٹس تھے۔ جب ہم اندر داخل ہوئے تو میں   بوڑھے کو اسی طرح سہارا دئیے ہوئے تھا۔ یہیں دو کمروں کے ایک مہنگے فلیٹ میں اس کی رہائش تھی۔ اس نے جیب سے چابی نکال کر مجھے دی۔ دروازہ کھول کر اندر آئے تو قیمتی قالین بچھا تھا جس پر فوم کے تکیے پڑے تھے۔ ساتھ ایک مسہری تھی جہاں میں نےبوڑھے کو لٹا دیا۔ وہ کچھ دیر گہرے سانس بھرتا رہا اور پھر بے سدھ ہو کر سو گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ کسی ارادے کے بغیر ہی میں نے اس کے فلیٹ کی چیزیں دیکھنا شروع کیں۔ ایک طرف کتابیں جڑی تھیں۔ اٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ ساری کتابیں بچوں کی کہانیوں کی ہیں۔ مختلف جانوروں کے تصویری البم بھی موجود تھے۔ حیران ہوا کہ بوڑھا کیا پڑھتا رہتا ہے۔ کونے میں ایک چھوٹا میز پڑا تھا جس پر ایک فائل اور کاغذوں کا ایک پلندہ ترتیب سے رکھےگئے تھے۔ وہ پلندہ بوڑھے کی آپ بیتی کا مسودہ تھا۔ آگے پیچھے کر کے چند صفحات پڑھے تو کچھ مزہ نہ آیا۔ کئی صفحات پر بس آڑھی ترچھی لکیریں کھینچی گئی تھیں۔ یوں لگا جیسے کوئی بچہ مسودے کے ساتھ کھیلتا رہا ہو۔ فائل کھول کر دیکھی تو سادہ کاغذ پر پنسل سے بنی ڈرائنگز تھیں۔ تتلی، آم، سیب، پہاڑ پیچھے غروب آفتاب کا منظر، پرندے اور اس طرح کی کئی تصویریں جو عموماً بچپن میں ہم سب بناتے ہیں۔ اسی طرح نیم پختہ، کچی پکی ڈرائنگز تھیں۔ اب مجھے رہ رہ کر حیرانی ہونے لگی کہ یہاں ایسی چیزیں ہی کیوں ہیں۔ بوڑھا سکون سے سو رہا تھا اور اب ہلکے ہلکے خراٹے بھی لینے لگا تھا۔ میں نے سگریٹ سلگایا اور یونہی فلیٹ میں گھومنے لگا۔ دیوار پر کئی مقامات پر پنسل اور مارکر سے ویسی ہی تصویریں بنی ہوئی تھیں اور کچھ جگہوں پر حروف کھینچے گئے تھے جو سمجھ نہ آتے تھے۔ ٹی وی کے ساتھ بہت ساری سی ڈیز پڑی تھیں جن میں سے زیادہ تر کارٹون فلمز اور جنگل سفاری کی تھیں۔ ایک طرف فریج پڑی تھی جس کے اوپر ہی دو فیڈر پڑے تھے۔ پتہ نہیں کیوں۔ میں حیران تھا کہ یہ سب چیزیں کس کی ہیں۔ دیکھنے میں تو یہی لگتا تھا کہ یہاں بوڑھا اکیلا ہی رہتا ہے ۔ پھر یہ سب چیزیں کیسے اور کیوں۔

میں نے حیرت کو جھٹکا اور بوڑھے کو دیکھا جو مکمل پرسکون تھا۔ سگریٹ بجھایا اور آرام سے دروازہ بند کرتے ہوئے باہر نکل آیا۔ عمارت سے باہر آکر گلی میں چلتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ شاید میں اپنے مکان کی چابی پارک میں اسی بنچ کے آس پاس کہیں بھول آیا ہوں۔ چابی کے بغیر واپس جانا محال تھا۔ رات بھی ہوچکی تھی۔ میں تیز قدم اٹھاتے ہوئے پارک پہنچا۔ تاریکی اور خاموشی کا راج تھا۔ پیپل کے درخت کے نیچے اس بنچ کے قریب پہنچا اور چابیوں کا گچھا ڈھونڈنا شروع کیا۔ کچھ دیر میں چابیاں مل گئیں۔ واپس جاتے ہوئے بنچ کی طرف دیکھا تو قریب ہی ایک کتا پڑا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ شام جب بوڑھے کو یہاں گرے دیکھا تھا تو ذرا دور اس کا کتا بھی تھا جسے ساتھ لے جانا یاد نہ رہا تھا۔ یہی سوچتے ہوئے میں کتے کے قریب پہنچا۔ اس نے کوئی حرکت نہ کی تھی۔ بالکل بے سدھ۔ میں سمجھا شاید مر چکا ہے۔ ہاتھ لگا کر دیکھا تو حیرت کا جھٹکا لگا۔ وہ بھورے کپڑے سے سلائی ہوا نمائشی کتا تھا جس میں روئی بھری تھی۔ کیا اس وقت بوڑھے کے پاس یہی کتا تھا؟ میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *