بڑی عمر کا مزاجی عشق۔۔۔فوزیہ قریشی

کہتے ہیں عشق و مشک چھپائے نہیں چھپتے اور ایسے میں بڑی عمرمیں عشق ہو جائے تو بندہ کہیں کا نہیں رہتا۔ ہمارے ایک دور پار کے بچے کچے دادا ابا حضور جو رشتے میں ابا کے چچیرے بھائی کے سسر لگتے تھے۔ عشق فرما بیٹھے۔ ہماری اماں کو گزرے بھی آٹھ برس ہو چکے تھے لیکن اللہ جسے رکھے ۔ ان میاں صاحب کو بھری جوانی میں عشق نہ ہوا جب جسم میں طاقت اور پھرتی تھی محبوبہ کے اشاروں پر بروقت ناچنے کی۔۔۔۔۔۔۔ اب تو صرف ان کے چست پاجامے کے علاوہ پورے بدن میں کہیں بھی چستی نہیں پائی جاتی۔۔۔۔۔۔
جو بھی سنتا کانوں کو ہاتھ لگاتا یا کچھ یوں فرماتا “ارے اس عمر میںِ، وہ بھی عشق۔”
توبہ توبہ جب پاؤں قبر میں لٹکے ہوئے ہیں بڑے میاں کے۔۔
کہیں بڑے میاں   سٹھیا تو نہیں گئے۔ ویسے سٹھیانے کے لئے بھی ساٹھ کراس کرنا ضروری تو نہیں ہوتا لیکن پھر بھی بڑے میاں بیس سال پہلے ساٹھ کراس کر چکے تھے ۔۔
اب تو سانس کے اتار چڑھاؤ کروٹ لینے پر ہی اکھڑ جاتے تھے۔ آئے دن تو جناب وینٹیلیٹر پر پائے جاتے۔۔۔
بھلا ، ایسے میں اس موئے عشق کی کیا تک؟

ویسے ہمارا بھی کچھ یہی خیال تھا، بڑے میاں کے بارے میں۔۔
جناب جس عمر میں دن کا کھایا بھی رات کی دوا کے ساتھ بھول جائے۔۔ ایسے میں عشق جوڑوں کے درد کی طرح دائمی شکل اختیار کر لیتا ہے۔”ویسے بھی بڑھاپے کا عشق جوڑوں کے درد کی طرح قبر تک پیچھا نہیں چھوڑتا۔”
عشق کی دہائی!! جب ان کی ہائے ہائے سے برآمد ہوتی تو، دادا ابا میاں کے پوپلے سے بغیر بتیسی والے منہ پر بے اختیار پیار آ جاتا۔اس عمر میں محبت کے پاپڑ بیلنے کے لئے بھی انہیں سہارے کی ضرورت تھی کیونکہ دودھ کی نہر کھودنا. اب ان کے اکیلے  کے بس کا کام نہ تھا۔۔۔دو بندے سہارا دے کر ان کو بالکونی تک پہنچاتے تھے جہاں ان کی محبوبہ سردیوں کی حسین دھوپ سینکنے گھنٹہ بھر کے لئے بیٹھا کرتی تھیں۔ گھنٹہ ہوتے ہی دادا ابا ایک سیکنڈ بھی مزید اس جگہ بیٹھنا پسند نہیں فرماتے تھے۔

شروع شروع میں کسی کو بھی یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ دادا ابا ایک مخصوص مقررہ وقت پر ہی بالکونی میں بیٹھنے کی ضد کیوں فرماتے ہیں ؟
ایک دن اس راز سے پردہ اٹھ ہی گیا۔۔۔ پھر نہ عشق چھپا اور نہ ہی اس کی مشک۔۔۔
آخر ان کے گھر والوں نے دادا ابا کو “کن انکھیوں سے” سامنے والی کھڑکی کی طرف بے تابی سے دیکھتے ہوئے، بھانپ ہی لیا کہ ساری  دال  کالی ہے  کیونکہ دادا ابا عشق وشق کر بیٹھے ہیں۔۔۔
ادھر دم دا بھروسہ نہیں اور ادھر اتنی لمبی پلاننگ ۔۔
بیگم کو گزرے بھی دس سال ہو چکے جب تک وہ تھیں دادا ابا کہیں دم نہ مار سکتے تھے کیونکہ دادی اماں کی کہنی، ہر وقت جو دادا ابا کی پسلیوں پر رہتی تھی۔۔۔۔
اب تو رنڈوے رہ رہ کر بھی وہ اک چکے تھے۔۔۔ مطلب ( بیزار ) ہو چکے تھے۔
کہتے ہیں رنڈوے مرد اور مظلوم اداس گھوڑے میں صرف ازلی اور ابدی کنوارے کا ہی فرق ہوتا ہے۔
ہم یہی سوچنے لگے کہ ایسے میں اگر ان بڑی بی کو بھی دادا ابا حضور سے پیار ہوگیا توان دونوں کو اپنی محبت کے اظہار کے لئے دو دو اسسٹنٹ تو رکھنے ہی پڑیں گے۔۔۔۔
ایسے میں نرسوں کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کی ڈیوٹی بھی ڈبل ہو جائے گی۔۔۔۔

ہم نے سوچا کیوں نہ دادا ابا کو ایک موبائل لے دیں ویسے بھی دادا ابا فوجی رہ چکے تھے اور سنا تھا فوجی کو کسی بھی کام پر با آسانی لگایا جا سکتا ہے۔۔۔اس طرح دادا ابا کو جب فیس بک ، وٹس ایپ، وائبر فائبر اور ٹویٹر پر رنگ برنگی تتلیاں نظر آئیں گی تو یہ عشق وشق کا بھوت بھی اتر ہی جائے گا لیکن ہائے ہماری کوشش بے سود گئی کیونکہ دادا ابا کا عشق کسی بھی فرہاد ، مجنوں، مہینوال سے کم نہ تھا ۔۔۔

ان کی فرمائش تھی اگر ان کی محبوبہ بھی ان سے رابطے میں رہیں گی۔۔ تب ہی وہ یہ موا موبائل استعمال کریں گے ورنہ وہ اسی مخصوص وقت پر بالکونی میں بیٹھیں گے۔۔۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
خیر ہم نے   کچھ دائو پیچ لڑا کر سامنے والی دادی حضور کو بھی ایک موبائل بھجوا ہی دیا۔
وہ کیا کہتے ہیں؟ “دل کو دل سے راہ ہوتی ہے.”
اسی طرح ہم نے کان کو کان سے راہ دے دی۔۔۔۔۔ اب چار کان ایک ہی راہ پر چل نکلے تھے۔ کان سے کان تک رینگتی فرمائشوں نے اپنا رنگ دکھایا اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔۔
چند دن بعد ہی یہ خبر ملی کہ دادا ابا اپنی محبوبہ کی فرمائش پر بالکونی کے جنگلے سے لٹک کر سیلفی بناتے بناتے اس جہاں سے کوچ فرما گئے ہیں۔
“انا اللہ وانا الیہ راجعون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *