• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • اسلام دنیا ہی نہیں ،آخرت بھی خراب کر تا ہے؟۔۔۔۔۔اسد مفتی

اسلام دنیا ہی نہیں ،آخرت بھی خراب کر تا ہے؟۔۔۔۔۔اسد مفتی

لندن سے شائع ہونے والے ایک اخبارآبزرور نےاپنی حالیہ اشاعت میں  انکشاف کیا ہے کہ داعش و القائدہ خؤدکش حملوں کے لیے خواتین کو بھی بھرتی کررہی ہے ۔رپورٹ کے مطابق یورپین یونین کے شعبہ انٹیلی جنس نے اس مقصد کے لیے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ فرانسیسی انٹیلی جنس   آفیسرنے بتایا ہے  کہ  فی الحال خواتین کو بھرتی کرنے کے چند اہم ثبوت ہی ملے ہیں ۔خود کش حملہ آورخواتین کا پتہ چلانا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
تحقیقات کرنے والے اہلکار کا کہنا ہے کہ  اگر  داعش کاکوئی ایک طریقہ کار کسی ایک مقام پر کامیاب ہوجائے تو وہ اس طریقہ کار یا واردات کو کسی دوسری جگہ بھی استعمال کرتی ہے۔
ادھر امریکی انٹیلی جنس کے ایک ذمہ دار اہلکار نے بتایا ہے کہ مزاحمت کار عراقی ،افغانی ،عربی خواتین سے شادی کرنے کے بعد یا دوستی کرکے انہیں مختلف طریقوں سے خؤد کش حملوں کے لیے تیار کرتے ہیں ۔
یورپی یونین کے انسداد دہشتگردی کے کوآرڈینیٹر نے یورپی ممالک کو ہدایات دی ہیں کہ وہ یورپ میں خواتین خود کش حملہ آور کی سرگرمیوں کے بارے میں رپورٹ جلد مکمل کریں ۔
یورپین اسٹریٹیجک ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے مشرق وسطی میں خواتین خود کش حملہ آوروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور حملوں میں اضافے پر گہری تشویش اور پریشانی کا اظہار کیا ہے ان کا خیال ہے کہ القائدہ کی جانب سے خواتین و بچوں کو خود کش حملوں کے لیے استعمال کیاجانے کا عمل القائدہ کی بڑھتی ہوئی کمزوری کا ثبوت ہے ۔عالمی تجزیہ نگاروں اور یو ایس آرمی وار کا لج کے ماہرین سمیت برطانوی انٹیلی جنس ایم آئی فائیو نے بھی اپنی تحقیق میں اس رجحان کو خطرناک قرار دیاہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین خو دکش حملہ آوروں کی ایک بڑی تعدا د ذہنی طور پر بیمار ہوتی ہے جنہیں القائدہ اور مقامی مزاحمت کار اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں ۔
آپ کو یاد ہوگا کچھ عرصہ قبل بیلجئم کی پیدائشی شہری ایک خاتون  نے عراق  کے شہر یعقوب میں ایک کامیاب خود کش حملے میں اپنے ساتھ پانچ امریکی اورفوجیوں کو بھی لے ڈوبی تھی۔ اس خاتون یا خود کش حملہ آور کا نام میوریل تھا جبکہ پورا نام کچھ اس طرح تھا Muriel Degsaque ۔
اس کی عمر تقریباً 38 برس تھی ۔ا س نے ایک مراکشی مسلمان سے دوستی کرکے اسلا م قبول کرلیا تھا لیکن کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عورت انتہا پسندی میں مردوں پر بھی بازی لے جائے گی۔ دہشت گرد،انتہا پسند، جنگجو ،مجاہدہ،حریت پسند یا ایسے دوسرے بے شمار القاب اس عورت کے “کارنامے” کے سامنے معمولی الفاظ لگتے ہیں لیکن اس کی ماں  کا کہنا ہے “مجھے اس کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اسی روز ہوگیا تھا جب میں بیمار ہسپتال میں پڑی تھی اور وہ مجھے ملنے تک نہ آئی”۔
میں   نے جب اس سے پوچھا کہ ہسپتال میں وزٹ کرنے کیوں نہیں آئیں تو کہنے لگی وہاں بہت سے غیر مرد ہوتے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ اس عورت کے خود کش حملے نے ساری دنیا بالخصوص یورپی ممالک کو ہلا کررکھ دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپین اب اپنے بچوں کی غیر ملکیوں بالخصوص مسلمانوں سے دوستی کو بری نظر سے دیکھتے ہیں۔ یورپ کے اخبارات نے میوریل کو پہلی خؤد کش حملہ آور قرار دے رکھا ہے۔
میوریل جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام مریم رکھ لیا تھا بیلجئم کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئی ۔بچپن ہی میں والد کے سائے سے محروم ہوگئی لیکن ماں کے توجہ دینے پر تعلیم کے معاملے میں کوئی کمی نہ رہی۔ ہائی سکول کے بعد چھوٹی موٹی ملازمت کرکے ماں کا ہاتھ بھی بٹایا پھر بھی متوسط طبقے کے چنگل سے نہ نکل سکی پھر ایک روز یوں ہوا کہ اس کی ملاقات ایک مراکشی نژاد حسام جورس سے ہوئی ۔یہ دوستی بعد میں محبت میں بدل گئی ۔یہ اس کی کسی بھی لڑکے سے پہلی بھرپور دوستی تھی ۔اس نے اپنا سب کچھ اقدار ،تہذیب حتی کہ مذہب بھی اس نیم تعلیم یافتہ مراکشی مسلمان حسام کو سونپ دیا۔
اس کی ماں نے دونوں کی دوستی پر کوئی  یاعتراض نہ کیا۔ حسام بظاہر بے ضرر سا کم گو نظر آتا تھا لیکن کچھ عرصہ کے بعد ماں کو بیٹی کے شب و روز پر کچھ اچھنبا سا ہونے لگا۔ پردہ کرنے کا خیر اس نے حسام کے مسلمان ہونے کی وجہ سے کوئی خاص نوٹس نہ لیا کہ اس کےخیال میں مسلمان اپنی نو مسلم بیویوں کو سب سے پہلے پردہ میں بٹھاتے ہیں لیکن اسے یہ دیکھ کر بے حد تعجب ہوا کہ مریم جب کبھی اس سے ملنی آتی تو وہ برقع میں ملبوس ہوتی اور اپنا کھانا لے کر دوسرے کمرے میں چلی جاتی تھی ۔اب نہ وہ ٹی وی دیکھتی نہ ریڈیو سے کوئی واسطہ رکھتی اورہلال فوڈ کے لیے بے حد اصرار کرتی تھی۔ ہالینڈ کے ایک اخبار نے مریم کی ماں للی یان کا ایک تفصیلی انٹر ویو شائع کیا ،جس میں اخبار لکھتا ہے کہ “ جس آدمی نے میوریل کو مریم بنایا وہ ایک عام سا مراکشی تھا،جو شادی کے بعد اس مریم کو مراکش لے گیا لیکن وہاں وہ زیادہ عرصہ نہ رہ سکا   اور  واپس بیلجئم  آگیا۔ اب دونوں بیلجئم  میں رہنے لگے حسام کام کاج تو کرتا نہیں تھا بس گزارہ الاؤنس اور دوسری مراعات پر ان کی زندگی کی گاڑی چل رہی تھی۔ لیکن پھر اچانک ان دونوں کی زندگیوں میں تبدیلی آنے لگی”۔اخبار لکھتا ہے کہ “ایک بار مریم اپنی ماں کو ملنے آئی تو اپنے شوہر کے ساتھ نئی مرسڈیز گاڑی میں بیٹھی ہوئی تھی، یہ تبدیلی دیکھ کر نا صرف اس کی ماں بلکہ  ہمسائے  بھی  بہت  حیران  ہوئے  کہ  معمولی گزارہ الاؤنس میں ان کے پاس اتنی شاندرار قیمتی گاڑی کہاں سے آگئی ۔۔جب ماں نے پوچھا تو دونوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہ دیا لیکن للی یان کے کان کھڑے ہوچکے تھے ،خطرے کی گھنٹیاں بج چکی تھیں اس کے خیال میں ہو نہ ہو حسام نے منشیات کا دھندہ شروع کردیا ہے ۔اب ماں کی ایک نئی پریشانی شروع ہوگئی۔ وہ اپنے اس خدشے کے بارے میں دونوں سے پوچھنا چاہتی تھی لیکن اچانک یہ دونوں بیلجئم  سے غائب ہوگئے اور تب بغداد کے شمال جنوب میں واقع مشہور شہر یعقوب سے ایک دن ایک خاتون خود کش حملے کی اطلاع آئی جس میں پانچ امریکیوں سمیت 15افراد لقمہ اجل بن گئے۔ حملہ آور کے جسم کے چیتھڑے اڑ گئے۔شکل و صورت اور جنس پہچاننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا تھا۔ بس خون میں لت پت پاسپورٹ ملا۔۔ یہ حملہ مریم نے کیا تھا۔
بیلجئم  کے پاسپورٹ پر اس کے تمام کوائف درج تھے اس پاسپورٹ نے اس کے ہونے کی تصدیق کردی اور یوں اس   مریم نے برین واشنگ کے ہاتھوں مجبور ہوکر “کفار “ کو جہنم واصل کرکے پہلی خود کش یورپی خاتون ہونے کا “اعزاز” حاصل کرلیا ۔اور اس دن سے اہل یورپ(جس میں میں بھی شامل ہوں)  کی پریشانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے لیکن مریم کو اس “جہادی راہ” پر ڈالنے والوں کو کون بتائے کہ دنیا میں 86 اسلامی ممالک ہونے کے باوجود اسلام ا ن کے حالات سدھارنے میں مدد گار ثابت نہیں ہوا تو پھر یہ چند خود کش حملہ آور اور چند دہشتگرد مسلمانوں کے حالات کیسے سدھار لیں گے؟میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچیے!

نوٹ :اس مضمون پر ایسے مسلمانو ں باے بات کی گئی جو اسلام کی اصل تعلیمات سے استفادہ کرنے کی بجائے انتہا پسندی کی جانب مائل ہوکر اسلام اور مسلمان دونوں کو بدنام کرنے کا موجب بنتے ہیں

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *