خاتون جنت بطور نمونہ عمل۔۔۔نذر حافی/آخری قسط

حضرت فاطمۃ الزہرا ؑبحیثیت بیوی:
حضرت فاطمہؑ کی حضرت امام علی علیہ السلام کے ساتھ شادی کی تاریخ مشخص کرنے میں بھی مورخین کا اختلاف ہے، بعض نے ماہ ذی الحجہ میں کہا ہے، (14) بعض نے ماہِ شوال میں کہا ہے۔ (15) اور بعض نے دیگر کچھ تاریخیں بھی بیان کی ہیں۔ شادی کے وقت علماء نے بی بی کی عمر، نو اور گیارہ سال سے چودہ سال کے درمیان بتائی ہے۔ (16) جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ امام علیؑ کی تمام تر زندگی جدوجہد اور جہاد سے عبارت ہے، آپ جب بھی جنگوں سے لوٹتے تو بنتِ پیغمبرؑ  آپ کے زخموں پر مرہم لگاتیں، آپ کی تلوار کو دھوتیں اور آپ کی ڈھارس بڑھاتیں، یہانتک کہ کائنات کے سب بڑے عادل اور منصف مزاج انسان علی ابن ابیطالب نے آپؑ کے بارے میں یہ گواہی دی ہے کہ خدا کی قسم اپنی ساری زندگی میں کبھی میں بی بی پر غضبناک نہیں ہوا اور کبھی بی بیؑ نے بھی مجھ پر غصہ نہیں کیا۔(17) شادی کے بعد بی بیؑ نے محض ایک ناز و نعم سے بھرپور زندگی نہیں گزاری بلکہ امورِ خانہ داری کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی مثالی رفیقِ حیات ثابت ہوئیں۔ آپ نے ایک مثالی بیوی ہونے کے ناطے مثالی بچوں کو پروان چڑھایا اور اپنے شوہر کی اجتماعی و انفرادی  ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں بھرپور تعاون کیا۔

خاتون جنت بطور نمونہ عمل۔۔۔نذر حافی/حصہ اول
کتبِ تواریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے گھریلو امور کو نبی اکرم ﷺ نے میاں بیوی کے درمیان تقسیم کر دیا تھا، اندرونِ خانہ کا کام کاج آپ انجام دیتی تھیں اور بیرونِ خانہ کے کام امیرالمومنینؑ کے سپرد تھے۔ اگرچہ امیرالمومنینؑ بھی گھر کے کاموں میں آپ کا ہاتھ بٹاتے تھے لیکن کام کرنے کی وجہ سے آپ کے مقدس ہاتھوں پر زخموں کے نشانات پڑ گئے تھے۔(18) اس کے باوجود آپ نے کبھی امورِ خانہ داری کو اپنے لئے بوجھ نہیں سمجھا اور کبھی بھی امام علیؑ سے اس بارے میں کوئی شکایت نہیں کی۔ آپ صرف ایک مثالی بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک مثالی بیوی بھی ہیں، ایک ایسی بیوی کہ جن کی عظمت کا معترف امام علی ؑجیسا عظیم انسان بھی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ دنیا میں قوّت برداشت کے اعتبار سے انسان دو طرح کے ہیں، بعض چھوٹی چھوٹی مشکلات سے بھی بوکھلا جاتے ہیں اور بعض بڑی بڑی مشکلات کو صبر اور حوصلے سے سر کرجاتے ہیں۔ حضرت امام علیؑ کے صبر اور حوصلے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو دنیا مشکل کشا کے لقب سے یاد کرتی ہے اور دنیا میں امام علیؑ  کے نام کو عظمت، شجاعت، بہادری اور آرام و سکون کا استعارہ سمجھا جاتا ہے لیکن امام علیؑ، حضرت فاطمہؑ کے وصال مبارک کے موقع پر ارشاد فرماتے ہیں۔ “بِمَنِ العَزاءُ‌ یا بِنتَ مُحمَد؟ كُنتُ بِكِ اَتَعزی فَفیمَ العَزاء مِن بَعدِكِ” اے دختر محمدﷺ! اب مجھے کیسے سکون ملے، میرا سکون آپ سے تھا، آپ کے بعد سکون کہاں۔ (19) یقیناً ایسی بیوی کائنات کی بیویوں کے لئے نمونہ عمل ہے جو امام علیؑ جیسے شجاع اور بہادر مرد کے لئے باعث آرام و سکون تھی۔

ہر انسان اپنے ظرف اور ہمت کے مطابق بےقراری کا اظہار کرتا ہے، حضرت فاطمۃ الزہراؑ جب اس دنیا سے رخصت ہوئیں تو آپ کے شوہر  یعنی حضرت امام علیؑ نے آپ کے ہجر اور فراق کے دکھ  کو  پیغمبر اسلامﷺ کی رحلت کے مساوی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ خدا کی قسم آپ کے جانے سے میرے لئے رسولِ خدا کی موت کا دکھ تازہ ہو گیا ہے۔(20) بحیثیت ایک بیوی ہونے کے آپ اس مقام و مرتبے پر فائز تھیں کہ امام علی ؑجیسے شجاع انسان کے لئے اس دکھ کا سہنا محال تھا۔ یہ فقط ایک بیوی سے محبت کی وجہ سے ایسا نہ تھا بلکہ اس لافانی و لاثانی محبت کے پیچھے دخترِ رسولﷺ کا اللہ کی راہ میں وہ مجاہدانہ کردار موجزن تھا جس کی یاد امام علیؑ کو بے تاب کئے ہوئے تھی۔ اب بھی مومنینِ کرام کی بیویاں اگر اپنے لئے امیرالمونینؑ کی اس بیوی کو نمونہ عمل بنا لیں تو اسلامی معاشرہ عزت و عظمت اور عطوفت و مہربانی کی مثالیں آج بھی قائم کر سکتا ہے۔

حضرت فاطمہؑ بحیثیت ماں:
ایک مثالی بیوی اور بیٹی ہونیکے ساتھ ساتھ حضرت فاطمہؑ ایک مثالی اور کامل ترین ماں بھی ہیں، ایک نمونہ عمل بیٹی اور اسوہ حسنہ کی حامل بیوی ہونے کے ناطے آپ بطریقِ احسن جانتی تھیں کہ بہترین، مثالی اور کامل ترین ماں کسے کہتے ہیں۔ یوں آپ صرف ایک ماں ہی نہیں ہیں بلکہ کائنات کی ساری ماوں کے لئے نمونہ عمل ہیں۔ آپ کی گود میں ایسے بچوں نے تربیت پائی ہے جن کے فضائل و مناقب سے زمین و آسمان کی وسعتیں پر ہیں۔ آپ کے ہاں چار بچوں کی ولادت ہوئی جن میں سے دو بچے یعنی امام حسنؑ اور امام حسینؑ  امام معصوم بنے  اور دو بیٹیاں حضرت زینب ؑ اور حضرت کلثوم ؑ واقعہ کربلا کی سفیر ٹھہریں۔ کتب تواریخ میں ایک اور بچے حضرت محسنؑ کا ذکر بھی ملتا ہے، جن کے بارے میں شکم مادر میں ہی شہادت  کے واقعات منسوب ہیں۔ حضرت فاطمہؑ نے چار بچوں کو صرف پالا نہیں بلکہ اپنے حسنِ عمل سے بچوں کی ایسی تربیت کی کہ خود آپ کے بچے بھی  اہلِ عالم کے لئے نمونہ عمل ہیں۔ ہم مختصراً فقط یہ عرض کریں گے کہ اگر بزبانِ رسالت ؐ، “الحَسَنُ و الحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ”۔ امام حسن اور  امام حسینؑ جوانان جنت کے سردار ہیں، (21) اور یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے لیکن اس کے ساتھ  ساتھ یہ بھی فرمانِ رسولﷺ ہی سے ہے کہ “الجنۃ تحت اقدام الامہات” جنت ماوں کے قدموں تلے ہے۔ (22)، حضرت امام حسن اور حسینؑ بھی کمالات کے جن مدارج پر فائز ہیں اُن کمالات کا دریا حضرت فاطمہؑ کے قدموں سے ہی اُبلتا ہے وہ چاہے شہادت کا دریا ہو یا کوثر کا۔ اسی طرح آپ کی دونوں بیٹیوں کی زندگی میں بھی حق گوئی، بیباکی اور دین کی حفاظت کا جو پہلو نمایاں نظر آتا ہے اس میں بھی دراصل بی بی دو عالمؑ کی تربیت ہی چھلک رہی ہے۔ آپ کی شخصیت آپ کے بچوں کے سامنے صرف کھلی ہوئی کتاب کی طرح نہیں تھی بلکہ ایک عملی مربّی کی سی تھی۔

خدا پر توکل، خدا کے رسول کی اطاعت، شب و روز عبادت، دوسروں کے لئے جانثاری، اعمال میں خلوص، سخت حالات کے باوجود سخاوت، ہر حال میں حسنِ نیت، گنہگاروں کے ساتھ عفو و درگزر، آنے والوں کے ساتھ مہمان نوازی، اپنے پیکر میں خلقِ عظیم اور غیرت دینی جیسے تمام اوصاف آپ نے بچوں کو گھٹی میں پلائے تھے۔ بےشک آپ کی اولاد نے اسلام اور توحید کی عظمت کو چار چاند لگا دیئے لیکن بلاتردید ایسی اولاد کی تربیت کا سہرا دُخترِ رسول ؐکے سر جاتا ہے۔ حضرت امام حسنؑ سے روایت ہے کہ ایک شب میری والدہ گرامی ساری رات عبادت کرتی رہیں، یہانتک کہ سپیدہ سحر نمودار ہوگیا، میں سنتا رہا ساری رات میری والدہ ماجدہ، ہمسایوں، عزیز و اقارب اور مسلمین کے مسائل کے حل کے لئے دعا کرتی رہیں، صبح ہوئی تو میں نے عرض کیا کہ اے والدہ گرامی آپ نے اپنے لئے کیوں دعا نہیں کی اس پر سیّدہ دوعالم ؐنے شہزادے کو جواب دیا، “یا بُنیَّ الجارُ ثُمَّ الدّارُ”۔ اے میرے نونہال! پہلے پڑوسی پھر گھر۔ (23) یہ ہے وہ نظریہ حیات، وہ سوچ، وہ فکر اور وہ راہِ بندگی جس پر آپ نے اپنے بچوں کی تربیت کی۔ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آپ کی آل کو قرآن مجید میں صادقون، مطهرون، فائزون، متوسّمین، راسخون فی العلم، سابقون، مقرّبون، متقون، خاشعون، مصطفون، ابرار، اولوالامر، اهل الذکر، وارثان کتاب، آیات، نذر، امّت هادی به حقّ، بیوت اذن الله ان ترفع و یذکر فیها اسمه، خیر البریّه و اولوالالباب جیسے القابات سے یاد کیا گیا ہے۔(24) اگر دنیا بھر کی مائیں سیدہ دوعالمؐ کو اپنا رول ماڈل اور نمونہ عمل جان کر اپنے بچوں کی تربیت کریں تو یقینا اس سے ہمارے معاشرتی و سماجی حالات سنور جائیں گے اور مسلمان دنیا و آخرت کی سعادت سے بہرہ مند ہونگے۔

بحیثیت عابدہ و زاہدہ:
ایک مثالی بیٹی، نمونہ عمل بیوی اور بہترین ماں ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایسی عابدہ و زاہدہ خاتون تھیں کہ فرشتے بھی آپ پر درود و سلام بھیجتے تھے۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مدینہ رات کے وقت حضرت امام علیؑ کے گھر سے ایک نور کو بلند ہوتے دیکھتے تھے، انہوں نے اس نور کے بارے میں پیغمبرِ اکرمﷺ سے استفسار کیا تو پیغمبرﷺ نے فرمایا کہ جب میری بیٹی فاطمہؑ محرابِ عبادت میں کھڑی ہوتی ہے تو ہزاروں فرشتے اس پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور اسے عالمین کی عورتوں کی سردار کے لقب سے پکارتے ہیں۔ (25) اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ جب بی بی دو عالم محرابِ عبادت میں کھڑی ہو جاتی تھیں تو آسمان پر ملائکہ ؑ کے لئے ایک ستارہ چمکنے لگتا تھا، اور خدا فرشتوں سے فرماتا تھا کہ اے فرشتو! دیکھو میری بہترین عبد فاطمہ ؑ میری عبادت کر رہی ہے۔ وہ میری بارگاہ میں کھڑی میری ہیبت سے لرز رہی ہے اور پورے خضوع و خشوع کے ساتھ میری عبادت کر رہی ہے۔(26) سیرت کی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ بی بی صرف ذکر و اذکار اور نماز و دعا میں مشغول نہیں رہتی تھیں بلکہ آپ عبادت کو قربِ الٰہی کا وسیلہ سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر مشکلات بھی عبادت کے ذریعے حل کرتی تھیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی متعدد آیات آپ کی شان میں نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ سورہ انسان یا سورہ دہر کے بارے میں علمائے اسلام اور مفسّرین کا کہنا ہے کہ یہ سورہ بی بی دو عالم کے صبر اور سخاوت کیوجہ سے اہل بیت رسول اور خصوصاً سیدہ دو عالم کی شان میں نازل ہوا ہے۔

اس سورہ کے نزول کے بارے میں مفسرین کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام حسنؑ اور امام حسینؑ  بیمار ہو گئے، اس موقع پر حضرت امام علیؑ، سیّدہ دو عالم ؑ اور ان کی کنیز فضہؓ نے منت مانی کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے شفا یاب ہونے پر وہ سب تین دن روزے رکھیں گے۔ جب دونوں شہزادوں کو شفا مل گئی تو دونوں شہزادوں سمیت  اہل بیت رسولﷺ نے روزہ رکھا، افطاری کے لئے حضرت فاطمہ ؑ نے پانچ روٹیاں پکائیں، عین افطار کے موقع پر سائل نے آ کر روٹی کا سوال کیا، سب نے اپنے اپنے حصے کی روٹی سائل کو دیدی، اسی طرح تین دنوں تک ہوا۔ تیسرے دن پیغمبر ؑ اپنی بیٹی کے گھر تشریف لائے اور بیٹی کو  مصلے پر مشغولِ عبادت پایا، اس وقت جبرائیل امین، نبی اکرمﷺ  پر سورہ انسان لے کر نازل ہوئے اور پیغمبر سے فرمایا کہ خداوند عالم  ایسے اہل بیتؑ کی وجہ سے آپ کو مبارکباد دیتا ہے۔(27) حضرت فاطمہؑ  کی خداوند عالم کی بارگاہ میں عبودیت اور بندگی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ آپ نے اپنے تمام اجتماعی و سیاسی امور کے ساتھ انفرادی زندگی کے فرائض اور خدا کے ساتھ دعا و مناجات کے فریضے کو بھی بطریق احسن ادا کیا۔

بحیثیت مدافع اسلام:
اپنی مختصر سی زندگی میں بی بی دو عالمؑ شعبِ ابی طالب سے لے کر میدان مباہلہ تک اور میدانِ مباہلہ سے لے کر اپنے آخری سانس تک مسلسل اسلام کا دفاع کرتی رہیں، ایک طرف تو آپ شعبِ ابی طالب میں دن کی شدید گرمی میں جھلس جاتی تھیں اور رات کی شدید سردی میں ٹھٹھرتی تھیں اور دوسری طرف ہر جنگ اور ہر غزوہ میں کبھی اپنے والد کے زخم دھو رہی ہوتی تھیں اور کبھی اپنے شوہر کے زخموں پر مرہم لگا رہی ہوتی تھیں،کبھی اپنے والد بزرگوار کی تلوار کو صیقل کرتیں اور کبھی اپنے شوہر نامدار کی شمشیر کو تیز کرتیں۔ کبھی گھر کے امور انجام دیتیں اور کبھی مستورات کو احکام سکھاتیں، کبھی اہلِ مدینہ کے دروازوں پر بیداری کے لئے دستک دیتیں اور کبھی دربار میں جا کر خطبہ ارشاد فرماتیں۔ المختصر یہ کہ آپ کی ساری زندگی ضرب و حرب، علم و عمل، جدوجہد، تحریک و حریت اور بیداری و شعور سے عبارت ہے۔ آپ صرف اہلِ اسلام کے درمیان رہ کر اسلام کی حفاظت نہیں کرتی تھیں بلکہ جب نجران کے عیسائیوں نے پیغمبرِ اسلام ﷺ کے ساتھ مباہلے کا فیصلہ کیا تو کائنات کی ساری مسلمان عورتوں میں سے صرف آپ کو رسولِ اسلام نے اسلام کے دفاع کے لئے منتخب کیا۔ مفسرین کے مطابق اللہ نے اپنے پیغمبرؐ کو حکم دیا، “فَمَنْ حَآجَّكَ فِيْهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَكُمْ وَنِسَآءَنَا وَنِسَآءَكُمْ وَاَنْفُسَنَا وَاَنْفُسَكُمْۖ ثُـمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّـٰهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ“۔ (61) پھر جو کوئی تجھ سے اس واقعہ میں جھگڑے بعد اس کے کہ تیرے پاس صحیح علم آچکا ہے تو کہہ دے کہ آؤ ہم اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں بلائیں، پھر سب التجا کریں اور اللہ کی لعنت ڈالیں ان پر جو جھوٹے ہوں۔(28)

یہ حکم تب دیا گیا جب یمن میں نجران کے علاقے کے رہنے والے عیسائیوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا اور پیغمبر اسلام سے کہا کہ آیئے ہم آپس میں مباہلہ کرتے ہیں، یعنی جھوٹوں پر لعنت کریں گے جو جھوٹا ہوگا وہ تباہ و برباد ہوجائے گا، اس کے بعد اللہ نے بھی اپنے حبیبؐ کو مباہلے کا حکم دیا۔ اللہ کے رسولﷺ نے “ابناءنا” ہمارے بیٹوں کی جگہ فقط امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو ساتھ لیا  اور “نسا‏‏ءنا” ہماری خواتین کی جگہ صرف حضرت  فاطمہ زہراء علیہا السلام کو ہمراہ لیا  اور “انفسنا” ہمارے نفوس کی جگہ صرف اور صرف حضرت علیؑ  کو اپنے ساتھ لیا۔ (29) یوں حضرت فاطمہ الزہراؑ نے اسلام کے دفاع کے لئے غیر مسلم دشمنوں کا بھی سامنا کیا اور میدان مباہلہ میں دشمنانِ اسلام کا سر جھکا کر واپس پلٹیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پیغمبرِ اسلام کے بعد امورِ خلافت کو نمٹانے کے لئے بعض لوگوں نے سقیفہ بنی ساعدہ کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا چاہا تو بی بی دو عالم ؑ جس طرح مباہلے کے روز اسلام کی حفاظت کے لئے گھر سے نکلی تھیں اُسی طرح پیغمر اسلامﷺ کے بعد اپنے موقف کو بیان کرنے کے لئے گھر سے نکلیں اور ارباب اقتدار سے متعارض ہوئیں۔ اگر جہانِ اسلام کی خواتین، اس معظمہؑ بی بی کو نمونہ عمل سمجھ کر ان کی اطاعت میں اسلام کا دفاع کریں تو آج بھی معاشرے سے بدعات و انحرافات ا ور خرافات کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔

مجموعہ اوصاف:
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ایک شخصیت میں بہت زیادہ صفات خصوصاً متضاد صفات جمع نہیں ہو سکتیں اور اگر ایسا کہیں ہوا بھی ہے تو زیادہ سے زیادہ حضرت امام علیؑ کے بارے میں یہ اعتراف کیا جاتا ہے کہ آپ میں متضاد صفات جمع تھیں، مثلا آپ بیک وقت ادیب بھی تھے اور جنگجو بھی، نرم دل بھی تھے اور عدالت میں سخت بھی، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت امام علی ؑ کے علاوہ حضرت فاطمہ الزہراؑ نے بھی ایک ایسی مختصر اور بھرپور زندگی گزاری ہے کہ گویا کائنات کے تمام کمالات کو آپ نے اپنے اندر سمو لیا ہے۔ آپ جس طرح  اپنی کم سنی کے باعث نوعمر ننھی سی بچی ہیں اُسی طرح  اپنی لطافت و نزاکت اور فہم و شعور  کے باعث اُمُّ ابیھا بھی ہیں، آپ جس طرح ایک گھریلو خاتون اور ماں ہیں اُسی طرح اپنے شوہر کی مشیر اور شریکِ جہاد بھی ہیں، آپ جس طرح شرم و حیا اور حجاب کا مجسمہ ہیں اُسی طرح دشمنانِ اسلام کے خلاف پیکرِ غضب ہیں، آپ جس طرح خواتین کے لئے اسوہ ہیں اسی طرح مردوں کے لئے بھی نمونہ عمل ہیں۔

آپ جس وقار کے ساتھ ، اسلام کی حقانیت کو بیان کرنے کے لئے نجران کے عیسائیوں کا سامنا کرنے کے لئے نکلتی ہیں،آپ اسی طرح خلافت کے منصب کو بچانے کے لئے مدینے کے مسلمانوں کے دروازوں پر دستک دیتی ہیں، آپ جس طرح  محرابِ عبادت میں کامل یکسوئی کے ساتھ مشغولِ حق ہو جاتی ہیں، آپ اسی طرح مسلمانوں کے دربار میں کامل فصاحت و بلاغت کے ساتھ خطبہ ارشاد فرماتی ہیں، آپ ایک طرف تو روزے کے باوجود اپنے سامنے کا کھانا افطار کے وقت سائل کو دے دیتی ہیں لیکن دوسری طرف اصولوں کی پاسداری کے وقت فدک کو معاف نہیں کرتیں۔ آپ ایک طرف  جنگ و جدال میں مشغول اپنے والدِ ماجدﷺ اور اپنے شوہر نامدارؑ کا ہاتھ بٹاتی ہیں اور دوسری طرف حسنین کریمین ؑ اور زینبؑ و کلثومؑ جیسی اولاد کی تربیت کرتی ہیں۔ ہاں آپ سو فیصد علی ابن ابیطالبؑ کی ہم کفو اور ہم پلہ ہیں۔ آپ صرف مختلف فضائل اور اوصاف کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ آپ اپنے شوہر نامدار کی طرح عالم بشریت کے لئے ایک نمونہ عمل اور اعمال کی کسوٹی ہیں۔

نتیجہ:
دینِ اسلام اس لحاظ سے غنی ہے کہ اس کا دامن عظیم شخصیات سے بھرا پڑا ہے۔ دینِ اسلام کے مطابق ہر دور میں انبیائے کرام کو بنی نوعِ انسان کے لئے ایک رول ماڈل اور نمونہ عمل کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ سب سے آخر میں پیغمبرِ اسلام ﷺ کو پورے عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل اور رول ماڈل قرار دیا گیا ہے۔ امتِ مسلمہ کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے کہ اس کا ہر عمل پیغمبرِ اسلام  کے اعمال کے مطابق ہو، اللہ نے پیغمبرِ اسلام کو مبعوث ہی اس لئے کیا ہے تاکہ لوگ اُنہی کے نقش قدم اور انہی کے راستے پر چلیں چونکہ پیغمبرِ اسلام ﷺ کی ظاہری زندگی صرف تریسٹھ برس ہے جبکہ آپ قیامت تک کے لئے اسوہ حسنہ اور نمونہ عمل ہیں۔ اس لئے پیغمبرِ اسلامﷺ نے  اپنے بعد بھی کچھ ہستیوں کو نمونہ عمل قرار دیا ہے جنہیں ہم اہل بیت ؑ کہتے ہیں۔ پیغمبرِ اسلام کا ارشاد ہے، “مَثَلُ أهلِ بَيتي مَثَلُ سَفينَةِ نُوحٍ؛ مَن رَكِبَها نَجا و مَن تَخَلّفَ عَنها غَرِقَ” میرے اہلبیت سفینہ نوحؑ کی مانند ہیں جو اُس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے منہ موڑا وہ ہلاک ہوا۔

ان اہلبیتؑ میں سے ایک ہستی حضرت فاطمۃ الزہراؑ بھی ہیں، آپ کی شان میں قرآن مجید کی متعدد آیات نازل ہوئی ہیں اور آپ کے فضائل کے بارے میں بے شمار احادیث وارد ہوئی ہیں، جن کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بھی اپنے والد ماجد ﷺ کی طرح عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل ہیں۔ آپ کی سیرت اور تاریخ پر مختلف زاویوں سے تحقیق کرنے کی گنجائش ہر دور میں موجود رہی ہے تاکہ ہر دور کے تقاضوں کے مطابق آپ کی شخصیت سے استفادہ کیا جا سکے۔ اس تحقیق سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بہت ہی کم عمر پانے کے باوجود حضرت فاطمۃ الزہراؑ اپنے اندر مختلف فضائل و مناقب اور اوصاف حسنہ کا سمندر لئے ہوئے تھیں اور آج کے مضطرب اور پریشان زمانے کو ضرورت ہے کہ وہ امن و سکون، تعلیم و تربیت، عدل و انصاف، مساوات و معنویت اور زہد و تقویٰ کے حصول کی خاطر  آپ کی عملی زندگی اور جدوجہد سے آشنائی حاصل کرے۔

منابع:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
14۔ بن شهرآشوب‌، المناقب، ج 3، ص 357، قم‌، 1379 ق
15۔ شیخ طوسی، الأمالی، ص 43، دار الثقافة، قم، 1414ق.
16۔ انصاری، اسماعیل،الموسوعة الکبرى عن فاطمة الزهراء،ج‌4،ص21، دلیل ما، قم، 1428ق
17۔ بحارالانوار، ج 43
18۔ استفادہ از ناسخ التواريخ ، حالات حضرت فاطمه (سلام الله عليها)، ص ‍ 417
19۔ رحمانی همدانی/ فاطمة الزهرا بهجة قلب مصطفی/ ص 578/ به نقل از مجمع الروایة.
20۔  سیدمحمد کاظم قزوینی/ فاطمة الزهرا من المهد الی اللحد/ دارالصادق بیروت/ چاپ اول/ صص610- 609
21۔ شیخ صدوق، الامالی، ص 57،‌ بیروت، اعلمی، چاپ پنجم، 1400ق؛ هلالی، سلیم بن قیس، کتاب سلیم بن قیس الهلالی، محقق، مصحح، انصاری زنجانی خوئینی، محمد، ج 2، ص 734
22۔ ميزان الحكمه : ح 22691
23۔ بحار الانوار ج ۴۳ ص ۸۱ و ۸۲
24۔ مختلف تفاسیر کی طرف رجوع کریں
25۔ در مكتب فاطمه ، ص 171
26۔ بحارالانوار، ج 43، ص 172
27۔ الكشاف، ج 4، ص 670؛ مجمع البیان، ج 10، ص 611 ـ 614؛ روح المعانى، مج 16، ج 29، ص 269 ـ 270.
28۔ آل عمران ۶۱
29۔ زمخشری، تفسیر الکشاف

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *