گھر سے قبرستان تک ۔۔۔ ایمان فاطمہ

۲۱  اپریل ۲۰۰۶ بروز جمعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی کو یہ کہہ کر کہ تم خالہ زاد بھائی کے شوروم سے جاکر اپنے لئے بائیک نکلوا لو میں ان کو بعد میں پیسے دے دوں گا اور خود ابو جان طبیعت بوجھل ہونے کے سبب دوپہر میں سوگئے ۔۔۔
شام 6 بج کر 30 منٹ پر جب آنکھ کھلی تو سگریٹ جلانے کے لئے ماچس مانگی اتفاق ایسا کہ اس دن کچن میں ماچس ختم ہوچکی تھی ۔۔۔۔ ابو کو کہیں غصہ نہ آجائے اس گھبراہٹ میں ماچس کی ایک تیلی ڈھونڈنے کی خاطر میں نے کچن میں جمع ہوئے کچرے تک کو پلٹ دیا ۔۔۔۔ لیکن گھر میں ماچس کی ایک تیلی نہ مل سکی، پھر ابو نہانے چلے گئے ۔۔۔۔۔ اور ہم سب مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔۔

اپنی امی کو بھیجو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاطو (فاطمہ امی کا نام) ۔۔۔۔۔۔۔۔میری سانس نہیں آرہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابو کی اس آواز پر ہم بھاگ کر ابو کی طرف گئے ۔۔۔۔ ابو کوریڈور میں گرگئے تھے ۔۔۔۔۔۔ اور مشکل سے سانس لے رہے تھے ۔۔۔۔۔
“بھائی جلدی سے گاڑی لے کر آؤ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابو کو سانس نہیں آرہا ” بہن نے فوراً بڑے بھائی کو کال ملائی ۔۔۔۔۔۔ امی ایک ہاتھ سے ابو کی کمر سہلارہی تھیں اور دوسرے ہاتھ میں پنجسورہ لئے کچھ قرآنی آیات ابو پر دم کررہی تھیں ۔۔۔۔ ابو مشکل سے سانس لیتے ہوئے اپنے چاروں طرف باری باری ہم سب کی جانب نظریں گھمارہے تھے اور بڑی بہن جس کی پانچ ماہ قبل شادی کی تھی اور وہ حیدرآباد میں مقیم تھی، کا نام پکاررہے تھے ۔۔۔۔۔
پریشانی اور گھبراہٹ میں ہر کوئی اپنی دسترس میں موجود سب کچھ کرنے کو تیار تھا ۔۔۔۔ بس کسی طرح ابو کی سانس بحال ہوجائے ۔۔۔۔۔۔ اور میں (گذشتہ دنوں اسکول میں دی گئ ٹریننگ جس میں مریض کو منہ سے آکسیجن دینے کا طریقہ سکھایا گیا تھا ) کو ذہن میں لا کر کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر ابو کو اپنے منہ سے آکسیجن دینے کے لئے آگے بڑھی ۔۔۔۔ لیکن شاید ابو کی سانسیں بحال کرنے کے لئے 14 سالہ ایمان کی اہلیت اس وقت ناکافی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اتنے میں بھائی گاڑی لے آئے ۔۔۔۔۔
“افضال میں مرجاؤں گا” ۔۔۔۔۔ ابو کے منہ سے نکلے ان الفاظوں نے ہم سب پر لرزا طاری کردیا تھا ۔۔۔۔۔ بھائی ابو کو ہاسپٹل لے جانے کے لئے کرسی پر بٹھاکر گاڑی تک لے گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ہم اپنے ابو کی سانسوں کی واپسی کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ ساری رات رو رو کر ابو کی واپسی کے دعائیں مانگتے رہے ۔۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ “الحی” اپنا فیصلہ سنا چکا تھا ۔۔۔۔

21 اپریل کی یہ رات جس میں ابو ہاسپٹل میں وینٹی لیٹر پر تھے ہماری زندگیوں کو بھی تاریک کر گئ ۔۔۔۔۔ اور 22 اپریل کا سورج ایسی روشنی کے ساتھ نمودار ہوا جس کی تیز ترین شعاعوں نے ہمارے خوبصورت آشیانے کو ڈھانپے سایہ دار درخت کو جلا دیا ۔۔۔۔۔۔۔

ابو جان ۔۔۔۔۔۔۔۔! جن کے بغیر ایک دن گزارنا مشکل تھا اب ہمیں باقی پوری زندگی گزارنا تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت گزرتا گیا ۔۔۔۔ زندگی پڑھائی کے ساتھ ساتھ دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئ ۔۔۔ لیکن ابو کے نہ ہونے کی کسک نے کبھی پیچھا نہیں چھوڑا ۔۔۔ منہ سے نکلتی ہر بات میں، ہر کام میں، ہر غم میں، ہر خوشی میں، ہر کامیابی میں، ہر ناکامی میں ابو کی یاد نے ہمیشہ آنکھوں کو نم رکھا ۔۔۔۔ لیکن اس وقت امی کی صورت میں ایک آسرا تھا، ایک امید تھی، جینے کی ایک وجہ تھی ، جب جب ابو کی یاد آئی امی کے گلے لگ کر تو کبھی امی کی گود میں سر رکھ کر دل بھر کر روئے اور امی کی ممتا کی گرماہٹ نے ابو کے نہ ہونے کے غم کو کسی قدر کم کردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہماری زندگیوں کا محور اب صرف امی تھیں، امی کی خوشیاں، امی کی خواہشات، امی کی زندگی ہم سب بہن بھائیوں کے لئے واحد نعمت تھی ۔۔۔۔۔ لیکن یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ ایک بار پھر تاریخ اپنے آپ کو اسی انداز سے دہرائے گی ۔۔۔۔ چودہ سال بعد 21 اپریل ہی کو وہ ظالم لمحے اسی طرح لوٹ کر پھر ہماری زندگی میں آئیں گے ۔۔۔۔۔
اور ہماری زندگیوں کی واحد قیمتی شے کو ہم سے یوں باآسانی چھین لے جائیں گے ۔۔۔

20 اپریل کا سورج معمول کے مطابق طلوع ہوا تھا ۔۔۔
عصر سے مغرب کے دوران چھوٹے ماموں اور تینوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ہر طرح کی فکر، پریشانی اور آنے والی ہر مصیبت سے بے خبر امی نے دل بھر کر باتیں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا خبر تھی کہ ہر روز امی کے بیڈ کے سامنے سارے بچوں کے ساتھ لگنے والی یہ آخری محفل ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مغرب کی اذان ہوتے ہی سب نماز کی تیاری کرنے لگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وضو کے دوران امی کو اچانک پیٹ میں درد محسوس ہوا تو باجی نے کہا ، امی آپ لیٹ جائیں

” نہیں میں نماز پڑھوں گی چاہے تین فرض ہی پڑھوں ۔” امی نے کہا

“میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا کہ امی نے کوئی نماز جان بوجھ کر چھوڑی ہو ۔۔۔۔ باوجود اس کے کہ امی کو کئ سالوں سے گھٹنوں میں درد اور Backache کی شکایت تھی لیکن تہجد سے لے کر عشاء تک پوری پوری رکعتیں کھڑے ہوکر پڑھنا امی کی عادت تھی ۔۔۔۔۔ جبکہ میں اکثر عشاء کی آدھی نماز بیٹھ کر پڑھتی تھی تو امی کو دیکھ کر حیران ہوتی تھی اور کہتی تھی کہ امی آپ کیسے کھڑے ہوکر پوری نماز پڑھ لیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ آگے سے امی کا مسکراہٹ کے ساتھ یہ جواب ہوتا تھا کہ اللہ ہمت دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اس وقت بھی امی نے پوری ہمت کے ساتھ مغرب کی نماز ادا کی میں نے یہ دیکھ کر کہ شاید امی کو گیسٹرک پین ہے جو اکثر ہو جایا کرتا تھا دوا دے دی ۔۔۔۔ بہن نے موبائل میں سورہ رحمٰن لگا کر امی کے سرہانے رکھ دیا اور امی آنکھیں بند کر کے لیٹ گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس امید کے ساتھ کہ جب امی اٹھیں گی تو طبیعت بہتر محسوس کریں گی میں چائے کا کپ ہاتھ میں لئے امی کے سرہانے بیٹھی رہی ۔۔۔۔
10 منٹ بعد جب امی اٹھیں تو امی کا ہاتھ پکڑ کر میں انہیں کمرے سے باہر تک لے آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی ۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔۔۔ امی جااان
کوریڈور میں پہنچتے ہی امی لڑکھڑاتے ہوئے میرے ہاتھوں سے چھوٹنے لگیں

بھااااائی ۔۔۔۔۔۔۔ بھائی امی گر گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے ہاتھوں سے پھسلتے ہوئے اس وقت امی کا وہ چہرہ، وہ منظر میری نظروں کے سامنے ٹھہر گیا ہے
امی کا بلڈ پریشرمکمل down ہوگیا تھا ۔۔۔ ہمیں فوری طور پر امی کو ECG کے لئے لے جانا تھا

بھائی بلکل اسی انداز سے امی کو کرسی پر بٹھاکر گاڑی تک لے گئے جیسے ابو کو لے گئے تھے اور
اس وقت ہماری زندگیوں کی ایک اور تاریک ترین رات کا آغاز ہوگیا
اپنے کندھے پر امی کا سر رکھ کر لاک ڈاؤن کی رکاوٹیں ہٹاتے ہوئے تیزی سے ہم امی کو لے کر لیاقت نیشنل ہاسپٹل پہنچے ۔۔۔۔۔ فوری طور پر امی کو ایمرجنسی وارڈ میں لے گئے ۔۔۔۔۔۔ map پر امی کا بلڈ پریشر بلکل صفر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
امی نے غنودگی کی حالت میں بلکل ویسے ہی وہ الفاظ کہے جو ابو نے بھائی کو کہے تھے
“ایمان میں مر جاؤں گی”
امی کے ان لفظوں نے مجھ پر مکمل وحشت طاری کردی تھی
“امی جان کیا ہوگیا ہے ۔۔۔ آپ کا صرف BP ڈاؤن ہوا ہے ۔۔۔ دیکھیں ڈرپ لگ رہی ہے، آپ ابھی ٹھیک ہوجائیں گی، ہم گھر جائیں گے ”

میں بھرائی ہوئی آواز میں روتی آنکھوں کے ساتھ امی کو تسلی دے رہی تھی ، اسی لمحے میری آنکھ سے بہتا ہوا آنسو امی کی برف جیسی ٹھنڈی پیشانی پر گر گیا ، اور امی نے یکدم آنکھیں کھول کر میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہوں “رونا نہیں ہے ” اور فوراً ہی آنکھیں بند کرلیں ۔۔۔۔۔۔۔

امی کے مختلف قسم کے بلڈ ٹیسٹ اور الٹراساؤنڈ کیے گئے ، جن کی رپورٹس اور رزلٹس مجھے آج بھی چین نہیں لینے دے رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
Liver cancer, Ascitis, Kidney failure
کیا ہے یہ سب ۔۔۔۔؟
یہ کیسے ہوگیا ۔۔؟
ہم ، جو ہر تین یا چار مہینے بعد باقاعدگی سے امی کا مکمل چیک اپ کرواتے آرہے ہیں اور امی کی تمام رپورٹس ہمیشہ کلیئر آتی رہیں، کبھی کوئی ایک بھی سمپٹم مجھے نہیں ملی
اچانک چند ہی گھنٹوں یہ سب امی کے ساتھ کیا ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
یاااا اللہ یہ کیسا پردہ تھا ۔۔۔؟؟؟؟؟

ایک طرف گیسٹرو ٹیم Endoscopy کے لئے تیار کھڑی تھی تو دوسری طرف یورولوجسٹ امی کا ڈائلیسز کرنے کے لئے مجھ سے پیپرز پر سائن مانگ رہے تھے
یااااا میرے اللہ ۔۔۔۔! کیا ہورہا ہے یہ سب ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟
یکایک امی کے جسم کے ہر اعضاء نے کام کرنا چھوڑ دیا
آئی این آر پوائنٹ 5 کو کراس کرگیا اور بلیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا تو امی کو فوراً ICU میں شفٹ کردیا گیا

امی ۔۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔ امی جااااان
میری نظریں موبائل پر لکھی تاریخ 21 اپریل پر ٹھہر چکی تھیں ۔۔۔۔۔ یا اللہ میری امی کو لوٹادے ۔۔۔۔۔
یااااا میرے اللہ کسی طرح یہ 21 اپریل گزر جائے ۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ ۔۔۔۔۔۔ الحئ ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنا چکا تھا

آئی سی یو میں موجود ڈاکٹرز کی زبان سے نکلے یہ الفاظ
Sorry you are too late
ایک خنجر کی طرح میرے دل میں پیوست ہوگئے جس نے اسے بری طرح زخمی کردیا اور اب یہ زخم تا عمر بھر نہیں پائے گا ۔۔۔۔۔۔

میری کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا، تو میں نے امی کے سرہانے کھڑے ہوکر زور زور سے سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کردی ۔۔۔۔ اور آخری لفظوں کے ساتھ ہی امی کی مسلسل جھپکتی ہوئی آنکھیں مکمل طور بند ہو گئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
یہ اب سمجھ آیا ہے کہ امی نے اس دن کے لئے مجھے سورہ یٰسین حفظ کروائی تھی

امی ۔۔۔۔۔۔۔ امی ۔۔۔۔۔۔۔ امی جاااااان
آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے دیکھیں امی
لیکن
امی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔ امی دور بہت دور جاچکی تھیں

ابو کے انتقال کے بعد سورہ واقعہ کی جن آیات نے مجھے حوصلہ دیا تھا ان کا مشاہدہ آج میں اپنی آنکھوں سے کرچکی تھی

” اور جب جان حلق تک پہنچ جائے، اور تم دیکھ رہے ہوتے ہو، ہم اس مرنے والے کے تم سے زیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن تم کو نظر نہیں آتے ۔۔۔ پس اگر تمہارے بس میں ہو تو اس جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے”۔۔

بے بسی، لاچارگی اور محتاجگی کی اس انتہا نے میری روح کو جھنجھوڑ دیا ہے
میری ہمت، میرا حوصلہ میری بہادری اب میرے لئے اذیت کا سامان بن چکے ہیں

امی جاچکی ہیں جہاں ابو گئے
کبھی واپس نہ آنے کے لئے
ہم اب کبھی امی کے لمس کو محسوس نہیں کرپائیں گے
اب کبھی امی کے ہاتھوں میں موجود چوڑیوں کی آواز ہمارے دلوں کو خوشی نہیں دے پائے گی
اب کبھی بھی امی کی گود کی گرماہٹ ہماری دن بھر کی تھکن کو دور نہیں کر پائے گی
اب کبھی امی کی میٹھی اور پیار بھری آواز ہمارے گھر کے سکوت اور خاموشی کو نہیں توڑ سکے گی ۔۔۔۔۔

ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اپنی کسی کامیابی کی خبر سب سے پہلے اسے سنائے جو اسے سن کر سب سے زیادہ خوش ہو ، اور سچے دل سے خوشی میں شریک ہو

والدین کے علاوہ اپنے بچوں کی کامیابیوں میں سچے دل سے خوش اور کون ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اچھی خبریں اور کامیابیاں تو والدین کے جانے کے بعد بھی ملتی ہیں مگر ان سے وہ مسرت اور تسکین حاصل نہیں ہو پاتی جو انہیں وہ خبر سنا کر حاصل ہو سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔

آہ ۔۔۔۔۔۔! امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی تو آپ کو بہت سی ایسی خبریں سنانا باقی ہیں جن کے لئے ہر دم آپ کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے رہتے تھے اور آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے تھے ۔۔۔

اگر اب آپ کے بعد وہ خبریں آ بھی گئیں تو کس کو سنانے کی بے چینی ہو گی ۔۔۔؟؟؟؟؟

کون ان کو سننے کے بعد سر پر ہاتھ پھیر کر پیار دے گا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

امی جان ابھی تو آپ کی گود میں سر رکھ کر لیٹنے سے جی پوری طرح نہیں بھرا ۔۔۔۔۔ ابھی تو ہماری ذاتوں کو آپ کی دعاؤں کے حصار کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔ ابھی تو ہماری خواہشوں کو آپ کی دعا کی سفارش کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی تو آپ کو درمیان میں بٹھا کر چاروں طرف بیٹھ کر آپ کی محبت سے پوری طرح محظوظ نہیں ہوئے۔۔۔۔۔۔ میں یہ ہر گز نہیں کہوں گی کہ ابھی تو آپ کی محبتوں، عنایتوں اور شفقت کا قرض ادا نہیں ہوا کیونکہ ہم ناقصوں اور کم کوشوں سے تو وہ ممکن ہی نہیں ۔۔۔۔۔ میں صرف یہ کہوں گی کہ
ابو کے جانے کے بعد جس قبرستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھا تھا آج آپ کے جانے کے بعد وہ قبرستان اپنی تمام تر ویرانیوں کے ساتھ ہمارے گھر میں ہی آباد ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور
اب  تو یہ ویرانی
زندگی کا خاصہ ہے
اب اس ویرانے میں  خوشی کی دھن

ترتیب دینے کیلئے کوئی موسیقار نہ ہوگا

خوشی کے ساز پھر بھی بجیں گے

لیکن ان میں ترنم نہ ہوگا

اب اس ویرانے میں کوئی
بہار کی آمد کا منتظر نہ ہوگا
بہار پھر بھی آئے گی
اور ماسوا
سرخ گلاب کے
ہر پھول کھلائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان فاطمہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *