پچھتاوے

“نہیں رہ سکتی میں اس کے ساتھ مزید۔ وہ شراب پیتا ہے، نامحرم عورتوں سے معاشقے چلاتا ہے۔ اس کی وجہ سے میری اولاد خراب ہوجائے گی۔”

مجھے محسوس ہوا جیسے اس کی ہسٹیریائی کیفیت میں ڈوبی آواز میرے پردہ سماعت سے ایک بار پھر ٹکرائی ہو۔ مگر یہ کیا؟ یہ تو میرے لاشعور سے سے آتی ایک یادداشت تھی جو مجھے ایک بار پھر عبرت پکڑنے پر آمادہ کر رہی تھی۔ پچیس سال پرانی وہی آواز مگر آج بہت کچھ بدل چکا تھا۔ 

تلاش تو مجھے ایک ادھیڑ عمر ملازمہ کی تھی مگر وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ سیمی مجھے یہاں اس حالت میں ایک ماسی کی صورت میں ملے گی۔ اس کا لباس کئی جگہ سے رفو شدہ تھا۔ اس کی چادر سیاہ مگر میلی کچیلی اور چادر سے چھلکتے بال سفید۔ اس سفیدی میں امارت کی گریس کی جگہ مفلسی جھلک رہی تھی۔ گھر کی صفائی اور کچن سنبھالنے والی خاتون کی تلاش میں ملنے والے نتائج عموماً اسی قسم کے ہوسکتے تھے مگر سیمی؟ وہ تو اچھے بھلے گھرانے سے تھی؟ میں سوچ میں پڑ گیا۔ 

“وہ جانتا نہیں ہے مجھے، ابھی میرے بھائی بھی زندہ ہیں اور ابا بھی۔ یہ سب نہ بھی ہوں تو میں لعنت بھیجتی ہوں اس پہ، خود کما کر پال لوں گی، برتن دھو لوں گی، صفائی کر لوں گی۔ اتنی ہمت ہے مجھ میں ابھی”۔ 

مجھے تب بھی خوف آیا تھا۔ آج میں ایک بار پھر خوف زدہ تھا۔ اس کا حال مجھے ایک دردناک ماضی کی داستان سنانے کے درپے تھا۔ مجھے یہ داستان سننے سے وحشت ہورہی تھی۔ 

“صاحب جی، میں برتن بھی دھو لوں گی، کپڑے بھی اور صفائی بھی کر دیا کروں گی۔ صاحب مجھے استری کرنا بھی آتی ہے صاحب۔”

اس کے لہجے میں جھوٹی بناوٹ اور سچی التجا تھی۔ وہ “صاحب جی” کے ذریعے مجھے یقین دلانا چاہتی تھی کہ ان پڑھ ہے، مگر اصرار بتا رہا تھا کہ اس کے لیے یہ چند ہزار روپے جانے کتنے اہم ہوں۔ میں جانتا تھا کہ وہ مجھے پہچان چکی ہے۔ شاید انا کے آخری قطروں کی رمق اس کی ذات میں ابھی باقی تھی۔ 

“سیمی! یہ کیا ہے؟ کیا ہوگیا؟”  

مجھ سے رہا نہ گیا۔ آخر وہ میرے بہترین دوست کی سابقہ بیوی تھی۔ تیس سال پہلے دو جوان دوست اور ان کی محبت کی شادی جس میں شرکت نہ کرنے کا جرمانہ میں نے دبئی کے بہترین ریستوران میں ڈنر کی صورت میں ادا کیا تھا۔ شادی کے پہلے پانچ سال شاید واصف کی زندگی کا کل سرمایہ رہے ہوں۔ 

اور پھر اس کا کاروبار ڈوب گیا۔ ایسے ہی، اچانک سے۔ میں نے کئی بار اسے اندھے اعتماد سے روکنے کی کوشش کی تھی مگر کاروباری شراکت دار نے موقع پاتے ہی وہی کیا جس کا مجھے خدشہ تھا۔ ایک جعلی دستاویز اور واصف سڑک پر۔ تب تک دونوں میاں بیوی پیارے سے لڑکے زید کو پال پوس کر چار سال کا کر چکے تھے۔ مجھے یاد ہے، زید اپنے باپ کی کاربن کاپی تھا۔ واصف نے خراب حالات کے ہاتھوں سیمی اور زید کو واپس پاکستان بھیج دیا تھا۔ سیمی تب چار ماہ کی حاملہ تھی۔ اگلے پانچ ماہ میں سب پلٹ گیا۔

واصف شراب نوشی سے انکاری نہ تھا تاہم کاروبار ختم ہونے پر شراب اس کی عادت بن گئی تھی۔ یہ بات کسی طرح اس کے سسرال تک پہنچ گئی جہاں سے سیمی تک پہنچتے پہنچتے شراب کے ساتھ شباب کا ناکردہ گناہ بھی واصف کے کھاتے میں شامل ہوچکا تھا۔ سیمی نے فوراً ہی طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ واصف کے انکار پر سیمی نے عائشہ کی پیدائش کا انتظار کیا اور پھر فوراً خلع لے لیا۔ 

“سیمی، تم نے میری مرضی کے خلاف علیحدگی اختیار کرنی تھی سو کر لی مگر مجھے ایک بار اپنی بیٹی کو گود میں تو لینے دو؟”

مجھے واصف کا وہ گڑگڑانا آج بھی یاد ہے جس کا جواب دھتکار اور چیخ و پکار کی شکل میں دیا گیا۔ 

“سعدی بھائی سب ختم ہوگیا”۔ 

اس کی آواز مجھے ماضی کے جھروکوں سے واپس حال کی بے حالی میں گھسیٹ لائی۔ اس کے بھائیوں کا تو مجھے اندازہ تھا کہ جلد ہی پیٹھ دکھا دیں گے مگر میں زید اور عائشہ کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ 

“زید اور عائشہ کہاں ہیں؟”  

میں نے ہمت کرکے پوچھ ہی لیا۔ 

آنسؤوں کا ایک جھرنا تھا جو اس کے مفلوک الحال حال کو دکھ اور پچھتاوے کے احساسات سے تر کرنا شروع کر چکا تھا۔ واصف کی موت کے بعد یہ دوسری بار تھی کہ میں اس کی بھرائی ہوئی آواز اور بہتی ہوئی آنکھوں کو محسوس کر رہا تھا۔

“مگر میں تو واصف کے پاس واپس آنا چاہتی تھی؟ یہ بچے۔ سعدی بھائی یہ بچے میں اکیلی نہیں بڑے کر پاؤں گی۔ مجھے احساس ہوگیا ہے سعدی بھائی، میرے بچے تباہ ہوجائیں گے۔ واصف کیسے مر سکتا ہے؟ زید اور عائشہ کو اس کی ضرورت ہے۔ میں کیسے پالوں گی اکیلی انہیں سعدی بھائی؟”

میں تب اسے اس کی پرانی رعونت یاد دلانا چاہتا تھا جب واصف یہی منت سماجت کرتے اسے علیحدگی سے روک رہا تھا اور وہ اسے اپنے خاندان اپنے بھائیوں کی طاقت کے نشے میں دھتکار رہی تھی۔ واصف نے اپنی تباہی کا سوگ پانچ سال منایا اور پھر ویسے ہی اچانک ایک دن اپنی جان لے لی۔ تب سیمی کو یہ اطلاع دینے کی ذمہ داری میرے ذمہ آئی تھی۔

“سب ختم سعدی بھائی سب کچھ ختم ہوگیا۔”

میں ایک بار پھر واپس حال میں آگیا۔ 

“بچے کہاں ہیں سیمی؟ زید کہاں ہے؟ اور عائشہ؟” میں نے ایک بار پھر پوچھا۔ 

“عائشہ نے پانچ سال پہلے گھر چھوڑ دیا تھا۔ وہ اپنی پسند سے شادی کرنا چاہتی تھی، لڑکا کردار کا اچھا نہ تھا۔ منع کرنے پر وہ اپنی کمائی کا طعنہ دے کر گھر چھوڑ گئی۔”

“اور زید؟ اپنے باپ کی کاپی، وہ کہاں ہے؟”

وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ 

“زید بچپن سے میرے ہاتھوں سے نکل چکا تھا۔ عائشہ کی نسبت اسے اپنا باپ یاد تھا۔ وہ مجھ سے ہمیشہ واصف کا پوچھا کرتا اور میں کبھی اسے مطمئین نہ کر پاتی۔ دو سال پہلے وہ مجھ سے لڑ کر دبئی چلا گیا۔”

“چلا گیا؟ کیسے چلا گیا؟ میں اسے واپس لاسکتا ہوں۔ مجھے محسوس ہوا جیسے میں سیمی کو اس کا بیٹا واپس لا کر دے سکتا ہوں۔ میں ملوں گا اس سے۔ اسے بتاؤں گا کہ تمہیں اس کی ضرورت ہے”۔  مجھے اچانک سے امید کی ایک کرن نظر آئی۔ 

“مجھے پتہ دو اس کا۔ کوئی فون نمبر۔ میں ڈھونڈتا ہوں اسے۔”

“سب ختم ہوگیا سعدی بھائی۔ ایک دن اسے واصف کے کاروبار، ہماری علیحدگی اور واصف کی خودکشی کا کسی طرح پتہ چل گیا۔ اسی رات کثرت شراب نوشی کی وجہ سے زید کی موت ہوگئی”۔ 

سیمی کے آنسو اب خشک ہوچکے تھے۔ وہ مسلسل خلاء میں نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ میرے پاس اب کہنے کو کچھ نہ تھا۔

میرا ذہن جلدبازی، غصے اور جذبات کی رو میں بہہ کر کیے جانے والے ایک فیصلے کو قبول کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو چار افراد پر مبنی ایک خاندان کو کھا چکا تھا۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *