اُردو کے سو پسندیدہ شعر۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ/قسط3

اُردو کے سو پسندیدہ شعر۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ/قسط2

مخدوم محی الدین خالصتا مزدور طبقہ کے شاعر اور نمائندہ تھے۔ عملی سیاست میں آکر بھی اہل اقتدار سے لے کر تانگے والے تک، ہر کسی سے تعلق برقرار رہا۔ انہوں نے حیدرآباد دکن میں جاگیرداری نظام کے خلاف لڑتے ہوئے وہاں کے عام کسانوں کی قیادت کی اور باقاعدہ مسلح جدوجہد کی۔ مخدوم کا احقر کے رجسٹر میں درج پسندیدہ شعر ملاحظہ ہو کہ:

کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر

بعد ازاں وفات داغ دہلوی، ان کی جانشینی پہ کافی لڑائی اور بحث مباحثے ہوئے تھے۔ بالآخر یہ طے کیا گیا کہ جانشینی کسی ایک کی بلکہ قابل شاگردوں کو جانشینی کی اسناد پیش کی جائیں، جن میں اول نام نوح ناروی کا تھا۔ نوح ناروی نے اردو غزل کی آبیاری کی تھی۔ اُن کا ایک شعر دیکھتے ہیں کہ:

دوستی کو بُرا سمجھتے ہیں
کیا سمجھ ہے وہ کیا سمجھتے ہیں

شاہ نصیر دہلوی جن کا طوطی دہلی میں بولتا تھا کے شاگرد شیخ محمد ابراہیم جو ایک فوجی سپاہی کے بیٹے تھے اتنے بڑے شاعر بنے کہ آخری مغل بادشاہ نے اُن سے شاعری سیکھی۔ غالب کے ساتھ اُن کی رقابت بہت مشہور ہوئی۔ مغل بادشاہ نے ماہانہ چار روپے تنخواہ پہ اپنا استاد مقرر کیا تھا جو بڑھتے بڑھتے سو روپے ماہانہ تک پہنچ گئی تھی۔ ذوق کا شعر پڑھتے ہیں کہ:

ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے

کراچی کے مشہور شاعر سلیم کوثر کا شعر دیکھتے ہیں کہ:

آئینہ خود بھی سنورتا تھا ہماری خاطر
ہم ترے واسطے تیار ہوا کرتے تھے

امیر مینائی کے شاگرد مضطر خیر آبادی جو کہ مشہور اردو فنکار جاوید اختر کے دادا ہیں کو خان بہادر، اعتبار الملک اور افتخارالشعرا جیسے کئی القابات و اعزازات سے نوازا گیا۔ اُن کا کمال شعر دیکھتے ہیں کہ:

علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا
تم اچھا کر نہیں سکتے میں اچھا ہو نہیں سکتا

سرسید نے اکبر اعظم کے زمانے کی مشہور تصنیف ’’آئین اکبری‘‘ میں کچھ اضافے اور کمیاں کرکے اسے دوبارہ شائع کیا، مرزا غالب نے اس معاملے پہ فارسی میں ایک منظوم تعارف لکھ دیا۔ غالب نے سر سید کو مخاطب کرکے کہا کہ ’’مردہ پرورن مبارک کارِنیست‘‘ یعنی مردہ پرستی اچھا کام نہیں ہے۔ ہمیں انگریزوں سے سیکھنا چاہیے کہ کیسے فطرت کی طاقتوں پہ قابو پاکر اپنے اجداد سے بہت آگ نکل آئے ہیں۔ مزے کی بات تو یہ کہ غالب نے اس منظوم تعارف میں انگریزوں کی ثقافت کی تعریف میں ایک لفظ بھی نہیں کہا بلکہ ان کی سائنسی ترقیوں اور ایجادات کے بارے میں مختلف مثالوں سے یہ بتایا ہے کہ یہی انگریزوں کی ترقی کا راز ہے۔ اردو کے پسندیدہ اشعار والے میرے رجسٹر میں غالب کا یہ شعر بھی درج ہے کہ:

مانعِ وحشت خرامی ہائے لیلےٰ کون ہے؟
خانۂ مجنونِ صحرا گرد بے دروازہ تھا

کراچی کی مشہور شاعرہ نینا عادل کا شعر بھی قابل داد ہے کہ:

سچے موتی چھپائے رکھتے ہیں
ہیں انوکھے سمندروں کے ڈھب

زمین، دنیا، پتھر اور کہہ جانڑاں جیسے مقبول ٹی وی ڈراموں کے رائٹر مشہور ڈراما نگار، ادبی تنقید نگار، صحافی اور کالم نگار، میانوالی کے پیدائشی منصور آفاق کا شعر بھی راقم کے رجسٹر میں تھا کہ:

شب تھی خالی چاند سے
دل رہا اندیشوں وات

بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا کہ مولانا الطاف حسین حالی اور مرزا غالب کو آپسی متعارف کروانے والے جہانگیر آباد کے مشہور جاگیردار مصطفیٰ خان شیفتہ تھے۔ 1857ء کے غدر کے دوران غداری کے جرم میں گرفتار بھی ہوئے۔ مصطفیٰ خان شیفتہ کا درج ذیل شعر بھی کمال ہے کہ:

وہ مجھ سے خفا ہے تو اسے یہ بھی ہے زیبا
پر شیفتہ میں اس سے خفا ہو نہیں سکتا

کہنے والے کہتے ہیں اگر اردو شاعری میں سے مجید امجد کو نکال لیں تو باقی بس باتیں شاتیں ہیں۔ مجھے نہیں علم یہ دعویٰ کسقدر درست ہے۔ مگر مجھے یہ ضرور معلوم ہے کہ انکے اخیری دن کافی عسرت اور تنگدستی میں گزرے۔ اُن کو زندگی انہیں ملازمت کی پینشن نہ مل سکی حتی کہ نوبت تقریباً فاقہ کشی تک پہنچ گئی۔ ایک دن کوارٹر کے کمرے میں مردہ پائے گئے۔ اُن کا شعر بھی کربناک ہے کہ:

پھونک کر بانسری میں آگ اک بار
گانے والے سرودِ باراں گا

اردو شاعری کے قدیم و جدید لہجوں سے آشنا اور پچاسوں کتب کے مصنف شاد عظیم آبادی کا شعر بالاتر از داد ہے کہ:

کس طرح تڑپتے جی بھر کر یاں ضعف نے مشکیں کس دیں ہیں
ہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم

گلزار کا ایک یہ شعر بھی احقر کے رجسٹر میں کچھ یوں درج ہے کہ:

میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو
مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے

جب فیض احمد فیض نے اپنے خاندان کو ایلس کے بارے بتایا تو پورا خاندان بھڑک اٹھا کہ فیض ایک غیرملکی سے کیوں ک رہا ہے۔ مگر بعد ازاں فیض نے آہنی بہنوں کی امداد سے خاندانی سیاست بھی اپنے حق میں کر لی۔ فیض اور ایلس کا نکاح سرینگر میں ہوا تھا جبکہ نوبیاہتا جوڑے نے مہاراجہ ہری سنگھ کے پری محل میں ہنی مون گزارا تھا۔ فیض کا یہ والا شعر بھی قابل ذکر ہے کہ:

جانتا ہے کہ وہ نہ آئیں گے
پھر بھی مصروف انتظار ہے دل

غالب کا شعر یاد کیجیے کہ:

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی درد بے دوا پایا

عادل اسیر دہلوی اصل میں تو بچوں کی شاعری کے لیے مشہور ہیں مگر ان کا یہ شعر بھی ملاحظہ ہو کہ:

کاغذ تمام کلک تمام اور ہم تمام
پر داستان شوق ابھی ناتمام ہے

اکبر الہ آبادی بھی کیا خوب فرماتے ہیں کہ:

عشق نازک مزاج ہے بے حد
عقل کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا

اور حفیظ جالندھری کا یہ شعر بھی پسندیدہ ہے کہ:

ہم سے یہ بار لطف اٹھایا نہ جائے گا
احساں یہ کیجئے کہ یہ احساں نہ کیجئے

پنڈت آنند کمار زتشی جنہیں اردو شاعری گلزار دہلوی کے نام سے پہچانتی ہے کا شعر کچھ یوں ہے کہ:

عمر جو بے خودی میں گزری ہے
بس وہی آگہی میں گزری ہے

منور رانا کا نام جدید ہندوستانی شاعری میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ منور رانا کا سارا خاندان حتی کہ دادی اور نانی بھی پاکستان ہجرت کر گئے تھے صرف منور رانا کے والد کے جو بھارت میں ہی مقیم رہے۔ اُن کا درج ذیل شعر بھی دیکھتے جائیے کہ:

تمہاری آنکھوں کی توہین ہے ذرا سوچو
تمہارا چاہنے والا شراب پیتا ہے

اردو کے صف اول کے شاعر اور مصنف امیر مینائی نے بھی بہت اعلی شعر فرمایا ہے کہ:

کون سی جا ہے جہاں جلوۂ معشوق نہیں
شوق دیدار اگر ہے تو نظر پیدا کر

گورنمنٹ کالج لدھیانہ سے ایک لڑکی کے عشق کے چکر میں نکالے جانے والے لڑکے کے بارے میں اُس وقت کوئی یہ نہ جانتا ہو گا کہ ساحر لدھیانوی ہند و پاک کے مشہور فنکاروں کا سرخیل بنے گا۔ ساحر کا شعر دیکھتے ہیں کہ:

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

اردو کے مشہور فلسفی، عالم، سوانح نگار اور شاعر جون ایلیا کا شعر دیکھیے کہ:

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم

رجسٹر میں آس جھانسوی کے نام سے یہ کمال شعر درج ہے مگر میں شاعر کے بارے کچھ نہیں جانتا۔ شاید شعر کی خوبصورتی نے اِس شعر کو رجسٹر میں درج کروا دیا ہو گا،بہرحال شعر دیکھیے کہ:

اس کا پتہ کسی سے نہ پوچھو بڑھے چلو
فتنہ کسی گلی میں تو ہوگا اٹھا ہوا

ابھینندن پانڈے اردو کے نوجوان شاعر ہیں، اُن کا یہ غضب شعر ملاحظہ ہو کہ:

غور سے دیکھتے رہنے کی سزا پائی ہے
تیری تصویر ان آنکھوں میں اتر آئی ہے

ملتان کے نوجوان شاعر عابد ملک کا یہ شعر بھی پسندیدہ ہے کہ:

شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ہے
ہر طرف نقشے ـپہ  کہرام بپا ہوتا ہے

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *