اردو کی بیٹھک اور پشتو کا حجرہ۔۔۔عارف خٹک

 

کہتے ہیں کہ پشتون بندہ اگر پی ایچ ڈی بھی ہو تو تب بھی اس کی اُردو گلابی ہی رہےگی۔ بلکہ میں نے تو ثابت کردیا ہے،کہ اُردو کا جنازہ نکالنے کیلئے فقط آپ کا پشتون ہونا ہی کافی ہے۔
اب لدھروں کے وسی بابا کو دیکھ لیں۔جس نے اُردو زبان کو ایک نئی جہتوں سے روشناس کرایا ہے۔ پشتو اور اُردو کا تو پتہ نہیں،لیکن آپ کی آبائی زبان کے متاثرہونے سے ایک نئی ڈکشنری وجود میں آنے لگی ہے۔ حالانکہ وہ پشتون ہر گز نہیں ہے۔ بلکہ اس کا بچپن پشتونوں کے بیچ گزرا ہے۔اور المیہ دیکھیں کہ مشر کےساتھ گزرا ہے۔ ایسوں کیلئے پشتو میں ایک بہت ہی بُرا لفظ ہے۔

عابد آفریدی کو جب  میں نے پڑھنا شروع کیا۔تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ کہ قبائل کا ایک پشتون کیسے کا،کے اور کی،کی غلطی کئے بنا لکھ سکتا ہے۔ عابد کہتا ہے وہ بھی مجھ ہی سے متاثر ہوا۔کہ لالہ کا جو مضمون مکالمہ پر چھپ جائے،وہ غلطیوں سے کیسے پاک رہ سکتا ہے۔ بالآخر ایک ہفتے بعد چلا،کہ عابد کے کا،کےاور کی کو کوئی اور ایڈیٹ کرکے دیتا ہے۔ اور میرے مضامین کی نوک پلک سنوارنا میری بیوی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔پچھلے دنوں عابد نے وٹس ایپ پیغام بھیجا،کہ لالہ بیٹک (حجرے) میں آجاو۔ لفظ “بیٹک” پر مجھے شدید اعتراض ہوا۔ سو مُجھ سمیت عابد اور اعجاز یوسفزئی،ہم تینوں نے ادبی بحث کرنے کی ٹھانی۔ تاکہ اُردو زبان کا حق ادا کیا جاسکے۔ میرا دوست عطاء کہتا ہے۔کہ اُردو زبان کےمشترکہ زنا بالجبر کو اگر کوئی ادبی بحث کا نام دیتا ہے۔تو بلاشبہ وہ شخص صرف اور صرف آپ ہی ہو سکتے ہیں۔
سو نشستیں سنبھالی گئیں۔ چائے کی پیالیاں  خالی کی گئیں۔ اور خالی سیگریٹ سُلگائے گئے۔ کیونکہ اُردو دان چرس نہیں پیتے۔ان تمام لوازمات سمیت لفظ “بیٹک” کو پکڑ لیا گیا۔ عابد کو ٹھیک ٹھاک شرمندہ کیا گیا۔کہ بیٹک لفظ غلط ہے۔ عابد نے جوابًا کہا،کہ ہمارے گاؤں میں تو اس لفظ پر آج تک  اعتراض نہیں کیا گیا۔ اس پر ہم دونوں یک زبان ہوکربولے۔ کہ آپ کے گاؤں میں اُردو بھی تو نہیں ہے۔ ہر سُو پشتو کا قبضہ ہے۔یہ سُن کرعابد لال پیلا ہوتے ہوئےبولا۔کہ اس حساب سے تو پھر کراچی کے ہر مہاجر کو اُردو داں ہونا چاہیئے تھا۔کہ جتنی غلط اُردو لہجے اور تلفظ سمیت کراچی میں بولی جاتی ہے۔ اس کی مثالیں آپ کو پشاور میں چراغ لےکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گی۔ اعجاز نے کہا کہ پشاور میں تو آپ کو پشتون اور پشتو بھی ڈھونڈے سے نہیں ملیں گے۔ البتہ پختون اور پختو باآسانی مل جاتے ہیں۔اس پرمیں نے سگریٹ کا پھیکا کش لیکر کہا۔کہ اُردو زبان کا اس سے بڑا المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ ہم بھی اُردو کی خدمت کرنے کا بیڑہ اُٹھا چکے ہیں۔ اور کراچی جیسے شہر میں،جہاں پستول کا راج رہا ہے۔وہاں کے اہل زبان کو بتاتے ہیں،کہ پستول اور پشٹل میں اتنا ہی فرق ہے،جتنا عالمی جمہوریت اور پاکستانی جمہوریت میں فرق ہوتا ہے۔
اعجاز یوسفزئی نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا۔ کہ پستول یا پشٹل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں ہی انسان کو گولی سے اُڑا دینے میں سیکنڈ بھی نہیں لگاتے۔ ہمارا اعتراض لفظ “بیٹک” پر ہے نہ کہ پستول پر۔ عابد آفریدی نے کہا کہ آپ بتاو کہ بیٹک کو بیٹک نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ اعجاز یوسفزئی نے میری طرف دیکھا،کہ آپ بتاو،کہ بیٹک کو بیٹھک کہا جائے یا حُجرہ کہا جائے؟ میں نے جواب دیا کہ عابد آفریدی کا لفظ بیٹک بالکل ٹھیک ہے۔
اب لال پیلا ہونے کی باری اعجاز کی تھی۔ کہا کہ آپ جیسے اُردو داں کی اُردو خدمت کے بارے میں مزید اور کیا کہوں جس نے گالی کے استعاروں کو گالی بنا دیا ہے۔ آپ کیسے لفظ “بیٹک” کو صحیح کہہ سکتے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ بتاؤ جس جگہ مہمان بٹھائے جاتے ہیں۔ وہاں چائے کے پیالیوں میں طوفان نہیں اُٹھائے جاتے،بلکہ چائے کےساتھ دُنبے کا نمکین گوشت رکھا جاتا ہے۔ جہاں  چرس کا سگریٹ ایک ادائے دلبرانہ کے ساتھ مہمان کو پیش کیا جاتا ہے۔ جہاں بات بات پر بندوقیں نکال کر اُردو دانوں کا خون خشک کیا جاتا ہے۔ جہاں رباب کی تاروں کے ساتھ لختئی ناچتے ہیں۔ اسے بیٹھک کہا جاتا ہے۔ اور عابد آفریدی نے جس جگہ مہمانوں کو بٹھایا ہے اسے “بیٹک” کہا جاتا ہے۔ لہذا عابد کے لفظ بیٹک پر مجھے قطعی اعتراض نہیں ہے۔ اگر آپ کو ہے تو بے شک آپ ہمیں اپنے “بیٹھک” میں لےجا کر دکھائیں۔
اعجاز نے سر جُھکا لیا اور مری مری آواز میں کہا،کہ لفظ “بیٹک” پر اسے بھی اعتراض نہیں ہے۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”اردو کی بیٹھک اور پشتو کا حجرہ۔۔۔عارف خٹک

  1. مجھے بیٹک پر اعتراض ہے. آپ نمکین کھاؤ، چرس کے سوٹے لگاؤ، چائے، گانجا سب پیو.. لیکن بیٹھک میں…
    واقعی لالا خٹک، آپ بے باک لکھاری ہو.. سلامتی ہو..

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *