سرپنچ تلسی داس کی لاش اور ’’نیا پاکستان‘‘ ۔۔مشتاق علی شان

 یہ خبر’’نئے ‘‘ اور’’ پرانے‘‘ پاکستان کے کسی اخبار کی شہ سرخی ، کسی نیوز چینل کی بریکنگ نیوز بن سکی اور نہ ہی ہر مسئلے پر اپنی ’’ماہرانہ رائے‘‘ دینے والے اینکرز کی توجہ پاسکی البتہ سوشل میڈیا پرگردش کرتی اس خبر نے اعلیٰ انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے ہر انسان کے قلب وضمیر پر چرکا ضرور لگایا کہ گزشتہ دنوں فوت ہو نے والے پشاور کے سرپنچ تلسی داس بعد از مرگ پشاور میں شمشان گھاٹ موجود نہ ہونے کے باعث اپنے مذہبی عقائد کے مطابق آخری رسومات کی ادائیگی سے محروم رہے ۔سرپنچ تلسی داس کو لواحقین نے مجبوری کے مارے اپنے مذہبی عقائد کے برعکس نوتھیہ قدیم کے قبرستان میں دفنا دیا ۔ معلوم نہیں کہ ان کے اس عمل سے اب تک ’’ اسلام خطرے‘‘ سے دوچار ہوا کہ نہیں ورنہ ہم سندھ کے باسیوں کو تو اب تک اپنے زمین زادے بھورو بھیل کی لاش یاد ہے جسے بدین کے ایک قبرستان سے زمین پر آسمان کے نمائندے کہلانے والوں نے قبر سے نکال کر اچھال پھینکاتھا ۔

پختونخوا کے مختلف اضلاع پشاور،کوہاٹ، ہنگو،سوات ، بونیر، نوشہرہ، ڈیرہ اسمعیل خان، بنوں وغیرہ اور فاٹا میں  ہندو اور سکھ برداری بڑی تعداد میں قرن ہا قرن سے آباد ہے ۔ ان کی سب سے زیادہ تعداد پشاور میں رہتی ہے لیکن ان کے انتم سنسکار کے لیے کوئی شمشان گھاٹ موجود نہیں ہے ۔ اٹک کا پرانا شمشان گھاٹ پشاور سے ایک سو پچاس کلو میٹر دور واقع ہے جہاں ایک عام محنت کش ہندو یا سکھ اپنے مردے جلانے کے لیے لے جانے کی مالی استطاعت ہی نہیں رکھتا۔معلوم نہیں ’’نئے پاکستان‘‘ کے حاکم یہ بات جانتے ہیں یا نہیں کہ زندگی میں زندہ درگور کیے جانے والے یہ وہ زمین زادے ہیں جو نہ تو فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی گونج اور نہ کسی جبری یا شعوری ہجرت کے نتیجے میں یہاں آن وارد ہوئے تھے بلکہ یہ تو ان کا وہ صدیوں پرانا تاریخی وطن ہے جس سے ایک خونی تقسیم کا ریلا بھی انھیں جدا نہ کر پایا ۔ شنید ہے کہ ’’ نئے پاکستان‘‘ کے اُس حصے کے حاکموں نے جون 2017 میں شمشان گھاٹ کے لیے تین کروڑ روپے مختص کیے تھے لیکن طرفہ تماشا کہ اس کے لیے زمین ایک لاکھ روپے فی مرلہ خریدنے کی شرط لگا دی ۔ان انھیں کون بتائے کہ حضور آپ کے ’’فارغ البالی ‘‘ کے ’’عہدِ عظیم‘‘ میں اس قیمت پر پشاور میں زمین کی دستیابی بجائے خود کسی مذاق سے کم نہیں ۔

کیا ہی اچھا ہوتا کہ سرکاری اراضی یا اوقاف کی زمینیں شمشان گھاٹ اور دیگر مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے مختص کرتے ہوئے ان کا یہ دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا جاتا ۔ سِکھ برادری کے رہنما رادھیش سنگھ ٹونی نے اس صورتحال پر بجا طور پر یہ مطالبہ کیا تھا کہ انھیں پشاور میں سرکاری زمین یا محکمہ اوقاف کی کوئی قریبی جگہ شمشان گھاٹ کے لیے فراہم کی جائے ۔انھوں نے اس کے لیے سرکاری زمین کی نشاندہی بھی کی لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی کہ یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے ۔ کوئی سال بھر گزرا جب پشاور میں’’ آل پاکستان ہندو رائٹس‘‘ کے چیئرمین ہارون سرب دیال نے ملکی آئین کی شق 25کا حوالہ دیتے ہوئے حکمرانوں کو یاد دلایا تھا کہ وہ برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور اقلیتوں کے لیے قبرستان اور شمشان گھاٹ کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے جس سے پہلوتہی کی جا رہی ہے ۔

انھوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی تھی کہ ملک بھر کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں اقلیتوں کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہوں پر حکومت یا لینڈ مافیا کے کارندوں نے قبضہ کر کے ان پر زمین تنگ کر دی ہے ۔ جہاں زندہ انسانوں کا کوئی پرسان حال نہ ہو، جہاں حکمران طبقات کے لیے صرف اقتدار اوراس کی جنگ ہی سنسار کی سب سے بڑی حقیقت ہو وہاں کسی سرپنچ تلسی داس کی بعد از مرگ ایک مذہبی رسم سے محرومی کی کسے پرواہ اور غم ہو سکتا ہے ؟ اور’’نئے ‘‘ یا ’’پرانے‘‘ پاکستان کے حاکموں کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟۔ہاں البتہ سرپنچ تلسی داس ہم ایسوں کو ایک بار پھر شرمندہ ونگوں سار کر گیا ۔

پشاور کی فضاؤں پراس گھڑی بین کرتی ہزاروں انقلابی آتماؤ !ان جنوں زادوں کو معاف کر دینا جو تمھارا یہ بین ،یہ ماتمی شور سن سکتے ہیں ، آپ کا کرب محسوس کر سکتے ہیں ۔جو اس مار پر بخوبی وارد ہیں کہ تم وطن کی آزادی کے لیے دین ، دھرم سے بالاتر  ہو کر برطانوی استعمار سے ٹکرائے،قید وبند اور عقوبت خانوں کی صعوبتیں جھیلیں،سولیوں پر چڑھائے گئے لیکن تمھاری کسی یادگار کے لیے پہلے ہی یہاں کوئی جگہ نہ تھی اور آج تمھارے سرپنچ تلسی داس شمشان گھاٹ تک سے بھی محروم ٹھہرے ۔

سرپنچ تلسی داس!ہم تم سے ہی نہیں پشاور سمیت خطے کے ان سارے ہندو انقلابی مساعی پسندوں، ترقی پسند شعرا وادبا سے شرمندہ ہیں جنھوں نے برطانوی راج کے خلاف انقلابی جدوجہد کی، جو آزادی کے گیت گاتے ہوئے زینت دار بنے اور پھر وطن بدر بھی۔

رام سرن نگینہ !اے جبری ہجرت کے دوش پر سوار کیے گئے پشاور کے انقلابی فرزند ! ہم شرمندہ ہیں! تم نے برطانوی استعمار کے خلاف ’’لال جھنڈا‘‘ کے نام سے پشاور سے پہلا خفیہ انقلابی پوسٹر شایع کیا، راج تلک چڈھا کے انقلابی پمفلٹ ’’بالشویک‘‘کو جان ہتھیلی پر رکھ کر پشاور سے کابل تک تقسیم کیا تھا، نیتا جی (سبھاش چندر بوس) کو پشاور سے باحفاظت نکلنے میں مدد فراہم کی اور اس کی پاداش میں انگریزوں کی قید بند اور بد ترین تشدد کا سامنا کیا۔

رام سرن نگینہ ! ہم تمھاری انقلابی آتما سے شرمندہ ہیں۔تم نے پشاور سے ہزاروں میل دور ہند میں بیٹھ کراپنی جنم بھومی پشاور کی یاد، قصہ خوانی کے ایک ایک شہید کی یاد کو جاوداں کیا تھا نا؟۔رام سرن نگینہ !تم جوشخصی عقائد سے کہیں بلند مقام پر متمکن تھے ، تم جو فرنگی کی جیل میں مولانا عبدالرحیم پوپلزئی اور باچا خان کے احترام میں رمضان کے روزے رکھ سکتے تھے ،اچھا ہوا یہ دیکھنے، سننے کے لیے زندہ نہیں رہے کہ آج اسی پشاور کے سرپنچ تلسی داس کی لاش چتا کی آگ سے محروم ہے۔

شہید ہری کشن! اے غلہ ڈھیر (مردان)میں جنم لینے والے انقلابی شہید ہم تمھاری انقلابی روح سے شرمندہ ہیں!۔تم نے دسمبر 1930میں پنجاب یونیورسٹی کے کانووکیشن میں پنجاب کے گورنر پر گولیاں برسا کر اس کے ایک دیسی محافظ کو جہنم رسید کیا تھا اور بدلے میں پھانسی پھندا پایا تھا نا، اس لیے کہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، برصغیر کے سارے انسان آزاد ہو سکیں لیکن آج تمھارا تاریخی وطن سرپنچ تلسی داس کو اس کی دھرتی ماتا پر شمشان گھاٹ تک دینے سے قاصر ہے۔ ہاں وہی تلسی داس جو پشاور کا اصل دھرتی جایا، ہزاروں سال سے اس دھرتی کا بیٹا ،اس کا وارث ہے۔ ہم اس دھرتی کے برج موہن طوفان، شری رام چندر جیسے انقلابی رہنماؤں سے ہی شرمندہ نہیں بلکہ اسی پشاور کے انقلابی نوجوان عبدالرشید شہید اور ڈیرہ اسماعیل خان کے پریتم خان شہید کی پاکیزہ روحوں کے حضور بھی نگوں سار ہیں جنھوں نے انگریزوں سے شہید کامریڈ بھگت سنگھ، شہید کامریڈ راج گرو، شہید کامریڈ سکھ دیو کا بدلہ لیا تھا اور پھر خود بھی پھانسی پھندا جھول گئے تھے۔

خان چند! اے پشتو زبان کے انقلابی شاعر !تم نے اسی پشاور میں فرنگی سامراج کو للکارنے ہوئے کہا تھا نا؛ د دی وطن سرہ پختو پالمہ گنی بلا یی بہ لمبو پالمہ (ترجمہ: میں اس وطن کے ساتھ پشتون ولی آگ کے شعلوں میں بھی نبھا رہا ہوں ) خان چند! اے آزادی کے شہید شاعر! تم یہ پشتون ولی نبھاتے ہوئے ایک دن قاتل کی گولی کا نشانہ بن گئے لیکن تمھاری شہادت کے برسوں بعد وہ پشتون ولی عنقا ہوئی ،اب وہاں صحنہ ء سیاست میں اقتدار کی نکیل ’’ گل خان‘‘ نامی مخلوق کے زیر پا ہے ۔ ’’گل خان‘‘ اس اصطلاحِ سیاسی کے بموجب وہ پرستارانِ مرگ وظلمات جو ہر چڑھتے سورج کی سلامی کو اپنا دھرم مانتے ہیں ،انھیں اعلیٰ انسانی آدرشوں اور پشتون ولی سے کیا علاقہ ؟۔یہ بس تیرے تلسی داسوں کو ان کے آخری شمشان گھاٹوں سے ہی محروم کر سکتے ہیں ۔یا پھر اس صبح کے طلوع میں کچھ اور تاخیر کا سبب ٹھہر سکتے ہیں جس کے لیے تم نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے ۔

خان چند ! لدھا رام اداس! جیتومل! سپین کش!اے انقلاب کے بیٹو! اے تحریک آزادی کے سربازو ! دھرتی کے سارے حریت پسند بیٹو! اے میدانِ عمل سے لے کر شعر وادب تک کے مورچوں سے برصغیر کی آزادی کی تحریک میں اپنا بھرپور حصہ ڈالنے والو ! پشاور کے ا قتدار کی غلام گردشوں کے ’’گل خان ‘‘ تمھارے شعروں کی آبرو رکھنے کے،تمھاری فکر ونظر سے الہام پانے کے اہل نہیں ہیں ۔لیکن ہم نگوں سار و شرمسار تمھاری انقلابی روحوں سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم تمھارے انقلابی آدرشوں کو حرز جاں بناکر ، سارے صبح پرستوں کے ہمراہ اس سویرے کے طلوع میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *