ایک عورت۔۔۔ ایک کہانی/صدف مرزا

رات کے دس بجے تک ہلکی سی روشنی آسمان کے کناروں سے لپٹی تھی
زمین ابھی دھندلائی ہی تھی..
تاریک نہیں تھی…
خوبصورت شہر کے مغربی کونے پر خوابناک راہگزر پر وہ دونوں
دو ضدی حریفوں کی طرح آمنے سامنے کھڑے تھے….

تو تم میرے ساتھ نہیں چلو گی؟
اس نے گاڑی کی چابی انگشت شہادت کے گرد گھمائی….

تو تم پہلے اندر ماما پاپا کو سلام کرنے نہیں چلو گے؟
اس نے شولڈر بیگ دوسرے کاندھے پر منتقل کیا…..

اس وقت میں صرف تم سے بات کرنا چاہتا ہوں…
اس نے ہاتھ آگے بڑھایا….

صرف میں….
اور
صرف تم…. ”

بڑھتے ہاتھ کی کشش نے اسے متزلزل کیا…. صرف چار ماہ بعد وہ والدین بننے والے تھے….
اور آج پورے چار مہینے بعد وہ اسے لینے آیا تھا
ماما نے سمجھا دیا تھا کہ ڈٹ کر رہو.. ابھی الگ رہنے کا مطالبہ نہ منوایا تو وہ بوڑھا کھوسٹ ساری عمر ساتھ رہے گا….

اسے گھٹنے تو ٹیکنا ہوں گے ..
سول انجنئیر ہو تم… اس کے برابر کماتی ہو…
تمہارے بدن میں ان کا وارث پل رہا ہے… ہے بھی لڑکا”

وہ غیر شعوری طور پر ایک قدم پیچھے ہٹی….

ماما نے اسے کہہ کر بھیجا تھا کہ پہلے وہ اندر آ کر سلام کرے….
عزت کرنا سیکھے… پھر جانا…
آ ہی گئے ہو تو سلام کر لو
میرے ماما پاپا کو…..
اس نے دہرایا….
بڑھا ہوا ہاتھ واپس پلٹا… گاڑی کی چابی نے دور سے دروازہ کھولا….
وہ بغیر کچھ کہے گاڑی میں جا بیٹھا…..
گاڑی ریورس ہو کر اس کے پاس رکی….
خودکار شیشہ ذرا سا نیچے کھسکا… اور اس کی سرد آواز آئی…..

تم نے گھر کے اندر رہتے ہوئے بھی میرے پاپا کو کبھی سلام نہیں کیا تھا……
اب تمہاری ماما کی خواہش کے مطابق عدالت میں ہی ملیں گے.”

وہ ہق دق کھڑی رہی…. ماما نے تو کہا تھا کہ وہ سیدھا تیر ہو جائے گا…..
اسے ہونا پڑے گا… ورنہ بچے کی قربت سے محروم رہے گا….

صرف ایک برس میں کیا سے کیا ہو گیا…..
وہ سڑک پر کھڑے کھڑے سوچنے لگی……

Avatar
صدف مرزا
صدف مرزا. شاعرہ، مصنفہ ، محقق. ڈنمارک میں مقیم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *