کیا سناؤں داستان درد دل کی ۔۔۔سلمیٰ اعوان

دفع دور کریں اس ناہنجار سیاست، اس کے گند اور گُنجلوں کو اور دو حرف لعنت کے بھیجیں اِن سیاست دانوں اور اُن کی تقریروں پر۔ہم غریب ووٹروں کا تومار کلیجہ ساڑ دیا ہے انہوں نے۔مانا کرسی کے لیے باؤلے ہورہے ہیں۔پر کچھ سوچیں تو،بولنے سے پہلے اُسے تولیں تو۔ یہ کیا جو منہ میں آیا بولے چلے جارہے ہیں۔ دائیں بائیں والے سمجھ داروں سے ہی کچھ صلاح مشورہ لے لیں۔ ان پر بھروسہ نہیں تو سیانے کہتے ہیں دیواروں سے پوچھ لیں اُن کے بھی کان ہوتے ہیں۔سار ے جگ میں تو ئے توئے کروا دی نا ہماری۔
اور اِن پاسبانوں کو بھی دیکھ لیں۔یہ کیاتماشے کر رہے ہیں۔ہم تو ابھی پہلے والے کی ایک بات کو ہی رو رہے تھے یہاں تو کُپا ہی اُلٹ کر سر پر آن گرا ہے۔ PDFایڈیشن واٹس ایپ کے راستے چلا آرہا ہے۔اب خیر سے لاکھ انکاری ہیں،لاکھ تاویلیں دیں،لاکھ عذر پیش کریں کہیں کہ نہیں بھئی ہرگز ہرگز مل بیٹھ کر لکھنے لکھانے والا کوئی پروگرام یا کوئی اِس نوع کی بات ہی نہیں تھی۔بس ذرا چند ملاقاتیں ضرور ہوئی تھیں۔یہیں کھٹمنڈو،بنکاک اور استنبول کے پر فضا مقامات پر۔لاکھ دشمن ملک ہے پر بھئی اُن کے لوگ وہ بھی ہیں تو ہم پیشہ، یوں بھی جڑیں، بولی،رنگ اور کلچر سبھی تو مشترکہ ہیں تو پھر گپیں ہانکنے میں حرج ہی کیا تھا۔یوں ہمارے درمیان ادیتیہ  سہنا بھی تھا۔ساری کارستانی اسی کی لگتی ہے۔گفتگو جب ہوتی ہے تو پھر بہت سے معاملات پر باتیں ہوتی چلی جاتی ہیں۔نوٹس لیتے ہوئے تو دیکھا نہیں گیااُسے، ہاں کچھ اندر خانے معاملہ ہوتو کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ ممکن ہے کہ مسٹر دلت کا کوئی ارادہ ہواس سے پیسہ کمانے کا۔اس سے شہرت بٹورنے کا۔اب جناب کی طلبی جی ایچ کیو میں ہوئی ہے۔دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟ہے نا ہمارے لیے پریشانی  کی بات۔

بھئی اِن میزان والوں نے بھی جان ضیق کردی ہے۔ہر پھڈے میں اِن کی ٹانگ۔ہر مسئلے میں ان کی منہ ماری۔ارے بابا اپناکوڑا ہی صاف کرلو تو وہی کافی ہے۔ اس کے ڈھیر لگے پڑے ہیں۔اور ہاں رہا اب چوتھا ستون جو ایسا شتر بے مہار ہوا پڑا ہے کہ صبح سے رات گئے تک بھیجا چاٹتا رہتا ہے۔ایک تو بہتر سو چینل آگئے ہیں۔ہر چینل رٹینگ اور پہلے خبر دینے کا ڈھنڈورا کچھ اِس انداز سے پیٹتا ہے کہ لگتا ہے بیچارے ابھی بالغ بھی نہیں ہوئے۔بحث مباحثو ں میں بھی کچھ ایسا ہی حال ہے جو بولتا ہے وہ خود کو افلا طون سے کم کیا سمجھتا ہے۔اب زچ آکر یہی کہوں گی نا کہ چھوڑو انہیں۔مت دھیان دو کہ کیا کہہ رہے ہیں۔آخر ذ ہنی سکون بھی تو ضروری ہے۔ہاں اب میری سُنو کہ میرے اپنے رنڈی رونے ہیں۔

رمضان شروع ہورہا تھا۔ہائے وے میر یا ربّا کی کراں۔ٹھیک ہے گیارہ مہینے ہمارے ایک مہینہ تیرا۔پر یہ ایک مہینہ بھی تجھے دیتے ہوئے میری جان نکلی جارہی ہے۔”سُنو کاغذ قلم سمیٹ دو۔اوپر جو طاق میں قرآن شریف دھرا ہے اس پر جمی گرد پونچھو اور اُسے کھولو۔“میرے اندر نے بڑی زوردار قسم کی لتاڑ دی۔

یہ سب تو ہوجائے گا مگر اس پانی کے مسئلے سے کیسے نمٹنا ہوگا۔ڈی ہائیڈریشن کی شکار عورت۔پانچ گلاس صبح اور پانچ شام پینے کا طے کیا اور روزے میں جان ڈالنے کے لیے تراویح کی نیت باندھ لی۔تو صبح ایک بجے سے گھونٹ گھونٹ پانی پینا شروع ہوا اور کھگو بجتے تک وبصوم غدً نویت من شہر رمضان پڑھ کر آخری گھونٹ بھرا اور روزہ دار ہونے کا ٹائٹل ماتھے پر سجایا۔نماز اور تھوڑا سا قرآن۔اب تھوڑی سی آیات کا ورد کرو۔اب بھونچکی سی ہوکر خود سے کہتی ہوں۔”کلمے تو صرف تین آتے ہیں۔“ ”قسمت اچھی ہے تمہاری نہ ہوئی تم کوئٹہ میں۔اگلوں نے بس سے اُتار کر کہنا تھا سُناؤ چھٹا کلمہ۔تم نے تو اسی وقت قیں ہوجانا تھا۔گاٹا تمہارا کہیں اور دھڑ کہیں۔چلو عبرت پکڑو۔ابھی بھی سیکھ لو۔قبر میں بھی منکر نکیر ایسے ہی سوال پوچھ سکتے ہیں۔“اب نماز ڈھونڈی اور چھٹا کلمہ لگی یاد کرنے لگی ۔ہائے وے میریا ربّا یہ تو بڑا مشکل ہے۔ یہ تو حج والی صورت پیدا ہوگئی۔وہاں تو چلی گئی تھی اوپر والے نے بلا لیا تھا۔پر بات وہی تھی کہ پلّے نہ سیر آٹا تے گوندی دا سنگھ پاٹا۔کروں کیا۔تیسرے کلمے پر حج تو نہیں ہونا تھا۔پر میری بھی ڈھٹائی تھی۔ تینوں کو چھوڑا اور امجد اسلام امجد کی “حمد” میں حاضر ہوں،میں حاضر ہوں۔اے رب ملائک جنوں بشر میں حاضر ہوں کو پکڑا۔ساتھ جانے والی ممیری چچیری بہنوں کو جنہوں نے ساری سورتیں یاد کررکھی تھیں اور طواف کرتے ہوئے زور و شور سے پڑھتی تھیں۔ہوا تک نہ لگنے دی۔دراصل گالوں پر روانی سے بہتے آنسو ؤں نے لاج رکھ لی تھی۔

تو اب تھوڑی ہی دیر بعد سانس پُھولنے لگا تھا۔ہونٹ تو پہلے ہی خشک ہورہے تھے۔اب کتاب کو پیار سے قرآن پاک پر رکھتے ہوئے خود سے کہا۔بڈھے طوطے نے ہُن کی پڑھنا۔اللہ سوہنیا توں شرماں رکھن والا ایں۔
مغرب تک نڈھالی کاوہ عالم کہ روزہ کھولا اور دھڑام سے بستر پر نہ مغرب کا ہوش نہ عشا کا۔گھر والوں نے سونے دیا۔اب فجر کے وقت آنکھ کھلی تو ساری آگاہی ہوئی کہ خیر سے ہوا کیا؟ بڑا بیٹا تو پہلے ہی بضد تھا کہ اللہ نے بہت سی آپشنز رکھے ہیں۔ دین میں جبر تو ہے نہیں۔یوں بھی آپ اب سیونٹی (70) پلس میں جارہی ہیں۔بندہ بھی کیا چیز ہے کیسے بڑھتی عمر اور بڑھاپے سے خائف رہتا ہے۔یہ پلس اللہ جانے کِس نیک بخت نے عمر کی دہائیوں کے ساتھ نتھی کرکے ہم جیسوں کو ایک سے نو تک ڈنڈیاں مارنے کی سہولت فراہم کردی ہے۔اللہ بھلا کرے اس کا۔اطمینان ہی اطمینان نہ کوئی جھوٹ،نہ مبالغہ آمیزی، نہ ہیرا پھیری۔بس تھرٹی (30) ، فورٹی(40) ، ففٹی (50) ،سکسٹی(60) ، سیونٹی (70) کے ساتھ پلس لگا دو۔مارنے دیں اگلے کو ٹامک ٹوئیاں۔لگانے دیں اندازے۔آپ کا کیا جاتا ہے۔

میں نے بھی چپکے سے ایک سے 9 تک کے درمیانی ہندسوں میں صحیح والا سیونٹی (70) کے ساتھ لگا کر اپنے آپ کو تسلی دی۔
اب متبادل راستوں پر غوروغوض شروع ہوا۔گھر کی دونوں ملازم لڑکیوں جو روزے سے تھیں سوچا اُن کا کام کرتی ہوں۔پھل خود خرید کر لاتی ہوں اور اللہ کے بندوں کی خدمت کرتی ہوں۔

ظہر کے بعد خریداری کے لیے  نکلی۔فروٹ چاٹ کے لیے  کیلے ضروری۔ بھاؤ پوچھا۔ لڑکے نے بے اعتنائی سے کہا۔”ڈھائی سو روپے۔“ ”ہیں ڈھائی سو۔“سانس اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ابھی مہینہ بھی نہیں ہوا تھا۔40 روپے اور پچاس روپے درجن کیلا ریڑھیوں پر رُلتا پھرتا تھا۔ روز کا ایک درجن کھاتی تھی کہ ڈاکٹر نے کہا تھا۔ گولی کھانی ہے یا کیلے۔ ڈاکٹر صاحب کیلے۔تو چھ کیلے روز کھا جائیے۔اور میں نے چھ چھوڑ بارہ کھانے شروع کردئیے تھے۔جب جب یہ میٹھے چتری والے سستے کیلے کھاتی۔وینس کو یاد کرتی کہ جب وینس اسٹیشن سے تین یورو کے چھ کیلے خریدے تھے۔پہلے تو یورو کی روپوں میں ضرب تقسیم ہوئی۔میلان اسٹیشن پر اُتری تو دیکھا تین کیلے تو گل گئے تھے۔پھینک دوں ایک سوچ۔ ہائے اتنے مہنگے یہ تو بیمار گوڈوں کا سستا اور دیسی علاج ہے۔دوسری سوچ بس تو اللہ شافی اللہ کافی کہتے ہوئے انہیں رس ملائی جان کر ہڑپ کرگئی تھی۔
اور اب ڈھائی سو کا سُن کر جھٹکے کھانے والی بات تو ہوگئی تھی نا۔”کچھ خدا کا خوف کرو۔“بولنا پڑا تھا۔”کیوں کریں لڑکا بھی بڑا تیز طرار تھا۔ ارے بھئی گیارہ مہینے آپ کے اور یہ مہینہ ہمارا۔سارے سال کا نفع ہم نے بھی تو اسی ماہ کمانا ہے۔میں تو سچ کہوں گا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔“خربوزے 80روپے کلو۔چلو خوبصورت سا ایک خربوزہ چنا۔ صورت من مو ہنی سی،مہک بھی بڑی میٹھی سی۔دفعتاً یونہی ہاتھ میں لیا کہ سُننے میں آرہا تھا کہ خربوزوں،تربوز کو مٹھاس کے لیے ٹیکے لگاتے ہیں۔اب جو غور سے دیکھا تو ڈنڈی کے پاس سے باریک باریک نشان اور چھوٹے چھوٹے کیڑے رینگتے نظر آئے۔دہل کر خربوزہ ریڑھی پر پھینکا اور چلائی۔”ارے اتنی بے ایمانی۔دیکھو تو ذرا۔“
”مائی چلّا چلی کی ضرورت نہیں۔ہم بے ایمان تو آپ کون سا ایمان دار ہیں۔“چلو تو تو میں میں ہوگئی۔بمشکل جان چھڑائی۔کالا کلو سیب چار سو کا سُن کر جہاں سے اٹھایا تھا وہیں رکھ دیا۔ اب اُسی کی طرف لپکی۔کچے پکے ہیں تو خیر،ہیں تو گولڈن نا۔اونچی دکان پھیکے پکوان والی بات تو نہیں نا۔چار سو والے بھی کون سا سُرسواد والے ہیں۔
”چلو بھئی لڑکیوآرام کرو۔نماز پڑھو۔قرآن پڑھو۔چاٹ پکوڑے میں بناتی ہوں۔“پرتین گھنٹوں میں ہی جان گئی کہ یہ خدمت خلق والا کام تو روزے سے بھی مشکل ہے۔ اب کیا کروں؟بس یہی کہ نیلی چھت والے سے کہوں۔بڑی ہی تُھڑدلی ہوں۔ ایمان بھی بڑا کچا ہے۔بس تو کرم کردے۔کاغذ قلم بھی پکڑا دے اور اتنی توانائی بھی دے دے کہ یونان نہیں دیکھا اسے بھی دیکھ لوں۔مولا دعا قبول کر۔ہم گناہ گار بھی کیا کریں۔گوڈے گوڈے دنیا داری میں دھنسے پڑے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *