• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جماعت اسلامی کی سیاست -ایک تجزیہ۔۔۔عامر کاکازئی

جماعت اسلامی کی سیاست -ایک تجزیہ۔۔۔عامر کاکازئی

پاکستان بننے سے پہلے ہی جماعت اور ان کے رہنما پاکستان کے خلاف ہو گۓ تھے۔ مولانہ مودودی “مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش” کی جلد سوم صفحہ ۳۷ میں لکھتے ہیں کہ “ افسوس کہ لیگ کے قائد اعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو کہ اسلامی ذہنیت اور فکر رکھتا ہو۔

صفحہ ۷۰ میں لکھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو محض اس لیے مسلمانوں کو قیادت دے دینا کہ وہ مغربی سیاست کے ماہر ہیں یا اپنی قوم کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں، سراسر اسلام سے جہالت اور غیر اسلامی  ذہنیت ہے۔

آگے وہ مزید لکھتے ہیں کہ جو کچھ یہ لوگ کرنا چاہتے ہیں شوق سے کریں مگر یہ اسلام اور مسلمانوں کے نام کو غلط طریقے پراستعمال کرنا چھوڑ دیں۔

  صفحہ۷۷ میں لکھتے ہیں کہ “ان میں سے اکثر کے گھروں میں نماز کے وقت جائیں تو کوئی  سمت کعبہ بتانے والا نہیں ملے گا۔ ان کی عیش و عشرت سے بھری ہوئی  کوٹھیوں میں سے ایک بھی جاۓ نماز نہ مل سکے گی۔

صفحہ ۹۳ میں لکھتے ہیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سےمیرے لیے اس مسئلہ میں بھی کوئی  دلچسپی نہیں کہ ہندوستان میں جہاں مسلمان کثیر التعداد ہیں، وہاں ان کی حکومت قائم ہو۔ “ کیا ان سب بیانات کے بعد کوئی  گنجائش  باقی ہے کہ جماعت اول  دن  سے پاکستان کے خلاف تھی؟

کہتے ہیں کہ جماعت نے پاکستان بننے کےبعد  جناح صاحب اور پاکستان کو تسلیم کر لیا تھا۔ مگر حقائق ہمیں کچھ اور بتاتے ہیں۔ جناب وجاہت مسعود صاحب نے اپنے ایک کالم میں کچھ اس طرح جماعت کی منافقت بیان کی ہے۔ ۔۔

جماعت اسلامی کے ترجمان ہفت روزہ ’کوثر ‘ نے 16 نومبر 1947 ءکو لکھا ۔ ”ہم اس تحریک کو آج بھی صحیح نہیں سمجھتے جس کے نتیجے میں پاکستان بنا ہے اور پاکستان کا اجتماعی نظام جن اصولوں پر قائم ہو رہا ہے ان اصولوں کو اسلامی نقطہ نظر سے ہم کسی قدر و قیمت کا مستحق نہیں سمجھتے“۔

مولانا مودودی نے جماعت اسلامی (لاہور )کے اجتماع میں فرمایا۔ ”ہماری قوم نے اپنے لیڈروں کے انتخاب میں غلطی کی تھی اور اب یہ غلطی نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے۔ ہم چھ سال سے چیخ رہے تھے کہ محض نعروں کو نہ دیکھو بلکہ سیرت اور اخلاق کو بھی دیکھو۔ اس وقت لوگوں نے پروا نہ کی لیکن اب زمام کار ان لیڈروں کو سونپنے کے بعد ہر شخص پچھتا رہا ہے کہ واہگہ سے دہلی تک کا علاقہ اسلام کے نام سے خالی ہو چکا ہے“۔ (بحوالہ روز نامہ انقلاب 9 اپریل 1948 ء)

حمید نظامی نے 31جولائی 1948 ءکو اداریہ لکھا ”حضرت مولانا نے دس سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کی بات کھل کر کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائداعظم مانا جائے۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے۔۔۔. اپنا پروگرام نہ بتانا اور نعروں سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائداعظم کو احمق ، غلط کار اور دین میں ہلکا ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں۔

۸دسمبر ۱۹۶۹: جماعت اسلامی کے قائم مقام امیرجناب طفیل محمد صاحب اپنے کارکنوں  سے  خطاب کرتے ہوۓ “ مجھے قوی امید ہے کہ اسلامی نظامِ حکومت کا جو سلسلہ حضرت علی کی شہادت سے منقطع ہوا تھا، اس کی بحالی کا  آغاز انشاء اللہ حضرت علی ہی کے عاشقوں میں سے ایک شخص کے ہاتھوں پاکستان کی سرزمین سے ہو گا۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ جنرل یحییٰ خان صاحب کو عزم و ہمت اور اس اخلاص کے ساتھ پاکستان میں اسلامی جمہوری نظامِ حکومت بحال کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ جس کا انہوں نے بار بار اپنی تقریر میں ذکر فرمایا ہے۔ آمین” یہ بات ایشیا دسمبر 14۱۹۶۹ کے شمارے میں شائع ہوئی۔ 

لندن سے ایک اخبار شائع ہوتا تھا جس کا نام تھا “اخبار وطن” اس میں ایک مضمون ۱۹ مئی ۱۹۷۶ کو شائع ہوا۔ اس مضمون کا نام تھا۔ “۱۹۷۰ کے عام انتخابات کی اندرونی کہا نی” اس میں کہا گیا کہ جنرل یحییٰ خان نے انتخابات کے لیے چار کروڑ کا خفیہ فنڈ قائم کیا  تھا۔ جسے جنرل عمر نے مختلف سیاسی پارٹیز کے درمیان تقسیم کیا ۔ اس میں سے پچھتر لاکھ جماعت اسلامی کو دیے گۓ تھے۔      

یہ بات “ہمیں  پاکستان اور پرویزی” نامی کتاب سے پتہ چلتی ہے۔

مگر کیا یہ بات سچ ہے کہ جماعت نے ۱۹۷۱ میں پیسہ لیا؟ آئیے پڑھتے ہیں ارشد سمیع خان کی کتاب three presidents and an aide کے پیج نمبر۱۳۱ سے پتہ چلتا ہے کہ جب جنرل  یحیی خان نے الیکشن کا رزلٹ سنا اور خلاف توقع  الیکشن کے انتخابات جنرل یحییٰ خان کی توقعات کے برعکس نکلے  تو غصہ میں آ کر جنرل عمر کو فون کیا اور کہا کہ “عمر یہ کیسے ہو گیا؟ ہم نے جو پیسے قیوم خان، عبدالصبور خان اور بھاشانی کو دیے تھے، ان کا کیا ہوا؟ میرے خدا تم نے تو سارا منصوبہ ہی چوپٹ کر دیا۔ اب سنو غور سے بات کہ کچھ دن بعد صوبائی  الیکشن ہیں، شفاف ہوتےہیں یا نہیں، مگر رزلٹ ہمارےمطلب کا آنا چاہیے۔ اس سے لوگ سمجھیں گے کہ الیکشن تو شفاف تھے مگر لوگوں نے اپنا مائنڈ تبدیل کر کے مسلم لیگ کو ووٹ دے دیا”

ارشد سمیع خان کی کتاب سے صرف یہ ہی تین نام ملتے ہیں۔اب کیا جنرل عمر نے جماعت اسلامی کو بھی پیسے دیے تھے  یا نہیں۔ یہ بات کچھ مشکوک کہلاتی ہے۔ اور یا پھر جنرل عمر نے پچھتر لاکھ دیے اور جنرل یحیی  کو نہ بتایا ہو۔

  دوسری طرف ستر اور اکہتر میں جماعت کا ٹریک ریکارڈ فوج کے ساتھ کچھ زیادہ ہی دوستانہ تھا کہ اسٹبلیشمنٹ کے کہنے پر ایسٹ پاکستان میں دہشتگرد گروپ بنا کرجو خون کی ہولی کھیلی گئی  وہ ایک بدنما داغ ہے جماعت کے دامن پر۔ دوسری طرف طفیل محمد صاحب کا بیان بھی معاملے کو مشکوک بناتا ہے   ۔۔

امان اللہ خان صاحب جو کہ امریکن ایمبیسی میں پولیٹیکل ایڈوایزر رہے  ہیں۔ وہ  اپنے کتاب tight rope walk کے پیج نمبر ۱۴۰میں لکھتے ہیں کہ ایک دن وہ ایمبسڈر مونجو کے ساتھ قاضی حسین احمد سے ملنے گۓ، جاتے ہی انہوں نے پہلا سوال کر دیا کہ قاضی صاحب آپ امریکہ سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں؟ہر وقت امریکہ کے خلاف کیوں بولتے رہتے ہیں؟ قاضی صاحب شاید اس سوال کی توقع نہیں کر رہے  تھے، اس لیے گھبرا سے گۓ اور بولے “اوہ آپ بات سمجھ نہیں رہے، میں تو امریکہ کا دوست ہوں۔ میں امریکیوں کو پسند کرتا ہوں۔ میں چاہوں گا کہ امریکہ کا دوست بنوں۔ میں جو کچھ بھی امریکہ  کے خلاف کہتا ہوں وہ عام پبلک کے لیے ہے، ورنہ میں تو امریکہ کا دوست ہوں۔ یہ واقعہ دسمبر ۱۹۹۲ کا ہے۔

اسی طرح ٹھیک دس سال بعد ۲۰۰۲   امریکہ کے اس وقت کے سفیر وینڈی چیمبرلن نے بھی امان اللہ خان صاحب کو یہ ہی بات بتائی  کہ قاضی صاحب نے ان کو بتایا کہ وہ امریکہ کے دوست ہیں اور جو کچھ بھی امریکہ کے خلاف کہتے ہیں وہ پبلک کے لیے ہوتا ہے۔

جنرل درانی نے اصغر خان کیس میں کورٹ میں یہ اعتراف کیا کہ جنرل اسلم بیگ کے کہنے پر دوسرے سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کو پانچ ملین کی رقم دی کہ وہ پیپلز پارٹی کا مقابلہ کر سکے۔ 

جب جنرل پرویز مشرف نے سول حکومت کا تختہ الٹا تو سب سے آگے جمات اسلامی ہی تھی جس نے ایک بار پھر ایک ڈیکٹیٹر کی حکومت کو خوش آمدید کہا اور دس سال تک ایک ڈیکٹیٹر  کی  حکومت کو سہارا دیا اور اس کے ہر اقدام کو اسمبلی کے ذریعے جائز کیا۔

پانچ سال پہلے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر پختونخوا میں حکومت بنائی ، حکمرانی کے مزے لوٹے، مگر جونہی ان کو احساس ہوا کہ اگلی حکومت عمران خان کی  بُری طرزِ حکومت کی وجہ سےالیکشن ہار جائے گی تو جھٹ سے  اس مولانا  جس کی کرپشن کے گیت گاتے ان کے ساتھی تھکتے نہیں تھے، گود میں جا بیٹھے۔ کیونکہ اب مولانا کے جیتنے کے چانسز  زیادہ ہیں۔ اسی طرح جس نواز شریف کی کرپشن کے خلاف جماعت عدالت چلی گئی، اسی  نواز شریف کو ہر الیکشن میں نہ صرف سپورٹ کیا بلکہ سینٹ میں بھی ووٹ دے ڈالا۔   

آخر میں سادہ سا سوال ہے جماعت اسلامی کے چاہنے والوں سے ۔آخر جماعت نے ہر دور میں مذہب کا جھوٹا سہارا لے کر ہمیشہ ڈیکٹیٹرز کا  ساتھ  کیوں دیا؟ آخر جماعت اور پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ، تحریک انصاف اور دیگر پولیٹیکل پارٹیز میں کیا فرق ہے؟

جو مشورہ مولانا  مودودی نے مسلم لیگ کو دیا تھا کیا اب  ہم وہ مشورہ  جماعت  کو دے سکتے ہیں  کہ “آپ اپنی پارٹی کے نام سے اسلام کا نام ہٹا کیوں نہیں دیتے ؟”

اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتابوں سے مدد لی گئی  ہے

پاکستان اور پرویزی

وجاہت مسعود کا ہم سب پر کالم مارچ  تیس ۲۰۱۷

Three presidents and an aid. Life power and politics by Arshad Sami Khan

Tight rope walk by Amanullah Khan

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *