ستارے کیسے مرتے ہیں ۔۔۔۔شمس رضا خاں

فزکس کے استاد بتا رہے تھے جب یہ چمکتے دمکتے ستارے مرتے ہیں تو بے نور ہو جاتے ہیں ،اتنے بے نور کہ جلتی کہکشاؤں کے سبھی ستارے مل کر بھی انہیں روشن نہیں کر پاتے اور انہیں بلیک ہولز کہا جاتا ہے ۔۔

میں نے پوچھا سر ستارے کیسے مرتے ہیں۔۔؟؟

تو جواب تھا بیٹا! سانحہ ہوتا ہے، بہت بڑا سانحہ۔۔ سمجھنا بہت مشکل ہے کیونکہ وہاں فزکس کے اصول و قوانین الگ ہیں ۔۔۔

جب خیال کی مضطرب لو تڑپی اور اپنے ارد گرد چمکتے دمکتےستاروں جیسے لوگوں کو وقت سے پہلے مرتے دیکھا اور دیکھا کہ ہزاروں دعاؤں ،التجاؤں اور کوششوں کے باوجود سیاہی ہی ان کا مقدر ٹھہری تو سمجھ آیا اور بہت خوب آیا کہ آخر یہ ستارے کیونکر مرتے ہوں گے ہیں ۔۔۔۔

ان کے ہاں بھی مذہب ہوگا ،فرقے ہوں گے ،سیاست ہوگی ،بڑے بڑےخاندان ،ظالم وڈیرے اور چودھری ہوں گے،وہاں بھی جنسی درندوں سے سہمی بنت ِ حوا ہوگی ،وہاں بھی ماؤں کی گود اجڑتی ہوگی ، وہاں بھی اپنوں کی اناؤں اور جفاؤں کے طوفان اٹھتے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔

وہاں بھی اسی رب کا قانون ہوگا۔۔۔زمین کے سانحے ہوتے ہوں گے !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *