2018-19 کا فنانس بل ترامیم کے ساتھ منظور

 قومی اسمبلی نے 5 ہزار 200 ارب روپے مالیت کا مالی سال 2018-19 کا فنانس بل ترامیم کے ساتھ منظور کرلیا۔ قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ جو لوگ ڈالر اکائونٹ رکھتے ہیں ان کے لئے ٹیکس فائلر ہونا لازم ہوگا، نان ٹیکس فائلر ڈالر اکائونٹ نہیں رکھ سکیں گے ، سمندر پار پاکستانیوں کے ملک میں زرمبادلہ بھیجنے پر کوئی پابندی نہیں، اگر سمندر پار پاکستانی ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ بھیجیں گے تو ذرائع پوچھے جائیں گے، ایک کروڑ روپے سے زائد کے زرمبادلہ آئے تو ایف بی آر پوچھ گچھ کرے گا اور پیسے بھیجنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے ، بیرون ملک مقیم افراد پیسہ وطن لاکر2 فیصد ٹیکس ادا کرکے ایمنسٹی  سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، بیرون ملک مقیم افراد پیسہ ڈکلیئر کرکے باہر رکھیں تو 5 فیصد ٹیکس ادا کرکے  سکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب کہ جو بیرون ممالک میں غیر منقولہ پراپرٹی ظاہر کرے وہ 3 فیصد ٹیکس دے کر سکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ، مخصوص فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، اس پر پیپلز پارٹی کی رہنما عذرا افضل نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص نہیں تمام فلاحی اداروں کو ٹیکس چھوٹ دیں۔ وزیر خزانہ نے عذرا افضل کے جواب میں کہا کہ ایف بی آر کو اختیار ہے کہ وہ فیصلہ کرے کس فلاحی ادارے کو ٹیکس چھوٹ ہو۔ پی پی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ حکومت نے فنانس بل میں تمباکو پر لیوی لگاکر اب اسے ختم کر دیا ہے، تمباکو پر ٹیکس لگا کر اس کا استعمال کم کیا جائے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *