گھنٹیاں ۔۔۔ارشد علی/افسانہ

شہر کے چند گھروں میں راتوں رات عجیب سے درخت اگ آئے ۔ جن پر ٹہنیاں اور پتے تھے اور نہ ہی ان کے تنے دکھائی دیتے تھے۔ زمین سے نکلتے ہی گھنگھریالے بالوں سے مشابہہ  عجیب سا سبزہ چاروں جانب دائرے میں لپٹ جاتا۔ اور جو ڈالیاں نظر آتیں وہ بھی کسی نازک بیل کی مانند دکھائی دیتی ۔ اس دائروی سبزے میں طاقچے سے بنے تھے جیسے یہاں کچھ چھپا کر رکھا گیا ہو۔ پتے یا پتے نما جو بھی اس درخت پر تھا وہ چھوٹی چھوٹی ایل ای ڈی لائٹس سے مشابہہ  تھا جو کبھی جل اٹھتی اور کبھی بجھ جاتی۔

وِکٹم جو شہر کے ان لوگوں میں سے تھا جن کے گھر راتوں رات یہ درخت اگ آئے تھے ابھی نیند سے بیدار بھی نہ ہوا تھا کہ اس کے دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں ، جسے موبائل کی رنگ ٹون سمجھتے ہوئے وِکٹم نے والیم بٹن دباتے ہوئے خاموش کرنے کی کوشش کی مگر گھنٹیوں کی آواز بند ہونا تھی نہ ہوئی۔ الٹا ان کی شدت میں اضافہ ہونے لگا۔ آخر تنگ آکر وہ اٹھ بیٹھا تو احساس ہوا کہ آواز باہر صحن سے آ رہی ہے۔ جس پربمشکل اٹھ کر صحن کی جانب بڑھ گیا جہاں وہ سبز سے سرخ ہوتا درخت دیکھ کر چونک گیا۔ اسے حیرت کے شدید جھٹکے سے بیدار ہونے پر احساس ہوا کہ گھنٹیوں کی آواز اسی اجنبی درخت سے آ رہی ہے۔ جو تیزی سے سبزہ کھوتا اور سرخی پہنتا جا رہا ہے۔ وہ محتاط انداز میں درخت کے قریب پہنچا اور محتاط تر انداز میں ایک ٹہنی کو چھوا، اسی پل ایک نامانوس اور کرخت آواز اس کے کانوں میں گونج اٹھی اور کچھ ہدایت دینے کے بعد خاموش ہو گئی۔ جس کے بعد درخت کا سرخی سے سبزے کی جانب لوٹنے کا سفر شروع ہوگیا۔

آنے والے دنوں میں یہ صورتحال بتدریج معمول بن کر رہ گئی۔ وِکٹم دفتر میں، بس میں ،کار میں، ہوٹل پر ،کہیں بھی ہوتا اور اس کے کانوں میں گھنٹیاں بجنے لگتیں  جو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیز سے تیز تر ہونے لگتی۔ بسا اوقات ان کی آواز اتنی شدید اور تیز ہو جاتی کہ اسے دماغ پھٹتا محسوس ہونے لگتا۔ ایسی صورت میں وِکٹم کو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر درخت کی حاضری بھرنا پڑتی ۔ غصے سے سرخ ہوتا درخت اسے جھاڑ پلا کر سبزے کی پوشاک اوڑھ لیتا۔

اچھنبے کی بات یہ ہے تھی کہ گھنٹیوں کی آواز صرف اسی کو سنائی دیتیں۔ گردوپیش میں اول تو وہ کسی کو بھی اس بارے بتانے سے اجتناب برتتا اور اگر بتا بھی دیتا تو سب اسے وہم گردانتے ۔ آہستہ آہستہ اس کی زندگی درخت کی بھینٹ چڑھ   کر رہ گئی اور اس کے لیے ماتھے ٹیکے بنا سانس لینا بھی ممکن نہ رہا۔ اس کی ہمت جواب دے گئی تھی یا دیگر جو بھی وجہ رہی ہو آخر ایک دن وِکٹم پوچھ ہی بیٹھا کہ اس قید سے رہائی کی کیا صورت ہے؟
اپنی زبان دان کر دو۔۔۔
اس جواب کے ساتھ ہی خاموشی چھا گئی۔ اور درخت اپنی رنگت میں لوٹ آیا جو اس بات کا اشارہ تھا کہ مزید کسی سوال جواب کی گنجائش نہیں ۔

وِکٹم اس بارے سوچنے لگا لیکن خلاف معمول کئی روز کوئی آواز سنائی نہ دی تو زبان دان کرنیکا خیال ترک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر ایک شام گھنٹیاں یوں بجنے لگی کہ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے کسی پل بھی چین لینا دوبھر کر دیا۔ اس اذیت ناک اور جان کنی کی سی حالت سے چھٹکارا پانے کے لیے وِکٹم نے اپنی زبان درخت کی بھینٹ چڑھا دی جس کے نتیجے میں گھنٹیوں کی آواز فوراً  بند ہوگئی اور اگلے چند دن بعد وہ سو کر اٹھا تو درخت بھی موجود نہ تھا۔ وِکٹم اس وقوع پر غور کرنے لگا اور کبھی اسے حقیقت اور کبھی وہم پر قیاس کرتا رہا اور پھر اس نے حتمی فیصلہ لیا کہ یہ سب وہم کے سوا کچھ نہیں تھا ۔اس فیصلے کے ساتھ ہی وِکٹم نے پوری توانائی سے بولنا چاہا لیکن اس کی گویائی سلب ہو چکی تھی۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *