اپنے دفاع میں ماہر ذہین ترین آکٹوپس

آکٹوپس کو خالص اردو میں اخبوط یا ہشت بازو بھی کہتے ہیں۔ یہ اپنے دفاع میں ماہر ہوتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ دنیا کے چند ذہین ترین جانداروں میں سے ایک ہیں ۔ آکٹوپس نے اپنی ذہانت اور مہارت کو حاصل کرنے کیلئے 296 ملین سال کا طویل سفر طے کیا ہے۔ اکثر سرپایوں میں کرومیٹوفورز نامی خلیات پائے جاتے ہیں جن کی مدد سے جلد کا رنگ تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ممک آکٹوپس مختلف جانداروں کی شکل میں خود کو ڈھال سکتا ہے۔ اس کی تکنیک صرف رنگ بدلنے سے کہیں آگے ہے۔ نیلے چھلے والے آکٹوپس کو جب خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ چمکدار نیلا رنگ مزید گہرا یا روشن ہوجاتا ہے۔ یہ آکٹوپس دنیا کے چند زہریلے ترین آبی جانوروں میں سے ایک ہے۔ سدرن سینڈ آکٹوپس میں کرومیٹافورز نامی خلیات نہیں پائے جاتے، لیکن اس کے پاس خود کو محفوظ رکھنے کے دوسرے ذرائع موجود ہیں۔ یہ ریت میں پانی کا فوارا چھوڑ کر اسے فوری طور پر دلدلی مٹی میں تبدیل کرتا ہے اور اس میں خود کو چھپا لیتا ہے۔ کوکونٹ آکٹوپس ناریل کے چھلکے، بوتلوں یا دوسری چیزوں کو اپنے شیل کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ ان چیزوں کو بعد میں استعمال کرنے کیلئے آٹھ پیروں پر چلتے ہوئے اپنے ساتھ لے بھی جاتا ہے ۔ یعنی ثابت ہوا کہ یہ  نرم سے جانوار انتہائی ذہین ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *