ہسٹری کا پیریڈ ۔۔۔ قمر سبزواری

 

یونیورسٹی کی کینٹین میں اکثر اُن کی بحث ہوتی۔

وہ ہمیشہ نوک جھونک کرتا اور وہ مسکرا دیتی۔

آج پھر وہ وہ شرارت کے موڈ میں تھا۔

کیا  یار !  یہ تم لڑکیاں بھی نا، عجیب وضع کا لباس پہنتی ہو۔

اوپر سے بالوں میں ، جوتوں پر، چہرے پر ہاتھوں پر جہاں دیکھو یہ شوخ و بھڑکیلے رنگ ہی رنگ۔

ہمارا مردوں کا لباس دیکھو، سنجیدہ رنگ، سلجھا ہوا انداز اور  باوقار سادگی۔

جی جی بالکل   ،وہ  دھیرے سے مسکرائی،  کیونکہ تم  نے ہمیں دکھانا ہوتا ہے  ، باوقار اور سادہ۔

اور ہم  تمھاری مرضی کا پہنتے ہیں، اوچھا اور بھڑکیلا۔۔

ارے باپ رے میرا ہسٹری کا پیڑید تھا۔

وہ ماتھے پر ہتھیلی مارتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *