کچھ تو کہیے خدارا

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آج کل لاقانونیت کا دور دورہ ہے ۔۔۔عدم برداشت حد سے بڑھ چکی ہے اور ظلم کی چکی خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کے نام پر معصوموں پر چلتی ہے ۔ خواہ وہ مسجد کے منبر سے باآواز بلند اعلانات کے جواب میں چلے یا منتشر ہجوم کے اس شور پر چلے کہ ہاں میں جانتا ہوں اسی نے توہین کی ہے ۔اس کے فیس بک اکاونٹ نے توہین کی ہے ۔۔اس کے نتیجہ میں جرم کے ثابت ہونے سے پہلے اس مبینہ جرم کی سزا نافذ کردی جاتی ہے۔وحشیانہ بربریت کے بعد تحقیق کرنے پر ان کا مظلوم ہونا ثابت ہوتا ہے۔
ایسے میں عہدیداروں اور حکومتی اداروں کا ایسے واقعات کے بعد خاموش رہنا اور ضمیر کو مردہ کئے رکھنا ۔۔۔ بے رحمانہ قتل و غارت گری کی تصاویری جھلکیاں دیکھنے پر اگر مردہ ضمیر نے کچھ ہوش پکڑی،نفس کو کچوکےلگائے تو اس پر پرائم ٹائم کے پروگرامز میں بیٹھ کر گزری ہوئی وحشیانہ بربریت کی داستان پر درد بھرا بھاشن دے کر وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکلنے کی کرنا کہ
ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں
سرکار اصل مجرموں کو پکڑنے کے لئے سرگرم ہے۔
اور مقتول کے اہل خانہ کو سرکاری خزانہ سے چند سکوں کی جائیداد دی جائے گی ۔۔۔۔

Avatar
سعودرفاقت
لکھاری ،سوشل ایکٹویسٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *