پھو پھو۔۔۔سیٹھ وسیم طارق

ویسے  تو سب رشتے قابل عزت ہوتے ہیں لیکن پهوپهو کا رشتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے. تقریباً ہر رشتہ دار کی کوشش ہوتی ہے کہ کہیں یہ ناراضگی کا ڈهونگ نہ رچانے پائے اس لیے اس کو ہمیشہ خوشامدی الفاظ میں یاد رکها جاتا ہے. اس کے آنے پہ آو بهگت اور پروٹو کول کا خصوصی خیال رکها جاتا ہے. اس کے بچوں کو ہر وہ چیز مہیا کی جاتی ہے جو وہ زبان پہ لے آئیں.

معاشرے میں یہ رشتہ تهوڑا سا بدنام بهی ہے جس میں ماؤں کا بڑا عمل دخل ہے. کیونکہ سارا کهیل اقتدار کا ہے. جیسے ایک سیاستدان اقتدار پہ قبضہ جمانے کی خاطر مختلف چالیں چلتا ہے ایسا ہی کچھ ماں اور پهوپهو کے درمیان تنازعہ چل رہا ہوتا ہے. جس گهر میں اب ماں کا راج چلتا ہے کسی زمانے میں یہاں پهوپهو کی بات کو حرف آخر سمجها جاتا تها. ظاہری بات ہے وقت میں ہمیشگی تو رہتی نہیں. اب چونکہ گورنمنٹ ماں کے ہاتھ میں ہے اور پهوپهو چند ایک رشتہ داروں کو اتحادی بنا کر اپوزیشن کا کردار ادا کرتی ہے. اس پہ چالاکی یہ کہ اپوزیشن لیڈر ساس یعنی اپنی ماں کو بنادیتی ہے. یہ اپوزیشن اس وقت تک رہتی ہے جب تک ساس کی سانس چلتی ہے جس دن ساس نہ رہی سمجهو حکومت پہ  ماں کا آمرانہ قبضہ جم گیا.

پهوپهو چالاکی میں تو ماہر ہوتی ہی ہے اس لیے وہ ساس کے مرنے کے بعد آمرانہ حکومت کو کچلنے اور حکومت یعنی گهر میں اپنا اثرورسوخ جمائے رکهنے کیلئے اپنی چال بیٹی کا سہارا لیکر چلتی ہے اور حکومتی کارکن یعنی اپنے بهتیجے کیلئے اپنی بیٹی کے رشتے کی آفر کرتی ہے. اگر تو رشتہ ہو جائے تو سمجهو اس کو کابینہ میں وزارت مل گئی. لیکن اگر انکار ہوجائے تو پهر دهرنہ تو اس کا جمہوری حق ہے ہی. ایسے ایسے طعنے ایجاد ہوتے ہیں کہ باپ جو کہ صدر کے عہدے پہ براجمان ہوتا ہے گهٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہوجاتا ہے. اور یوں حکومتی جنگ کو مفاہمت کی پالیسی کا نام دیکر حکومتی کارکن کے گلے میں پهوپهو کی بیٹی کی شکل میں بیوی کا ڈهول ڈال دیا جاتا ہے جس کے سامنے وہ ساری عمر دهمال ہی ڈالتا رہتا ہے.

سیٹھ وسیم طارق
ھڈ حرام ، ویلا مصروف، خودغرض و خوددار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *