انتہا پسندی کیوں پھیل رہی ہے؟۔۔۔آصف محمود

ہوٹلوں پر ہوٹل کھلتے جا رہے ہیں مگر ڈھنگ کی کسی لائبریری کا سراغ نہیں ملتا۔دماغ سکڑتے جا رہے ہیں اور توندیں پھولتی جا رہی ہیں۔کتابیں گرد سے اٹے فٹ پاتھوں پر ملتی ہیں لیکن جوتے کی دکانیں جگمگا رہی ہوتی ہیں۔نیم خواندہ لوگوں کے ہاتھ میں زمام اقتدار ہوتی ہے اور علم و دانش کی مسند پر غیر سنجیدہ لوگ براجمان ہو گئے ہیں۔ایسے سماج میں تعصب اور انتہا پسندی نہیں پھیلے گی تو کیا فکر و دانش کے چشمے پھوٹیں گے؟ اسلام آباد کے بلیو ایریا سے گزروں تو حیرت ہوتی ہے۔ کھابوں کے مراکز آباد ہیں۔فٹ بال کی طرح اچھلتی توندیں آتی ہیں اور مشکوں کی طرح بھر بھر کر لوٹ جاتی ہیں۔کتابوں کی یہاں ایک دکان نہیں۔ فیصلہ سازوں کی بلند فکری کو داد دیجیے شہر بھر میں ایک ہی پبلک لائبریری ہے اور وہ بھی ریڈ زون میں جہاں عام آدمی کا تو داخلہ ہی کسی کوہ کنی سے کم نہیں۔ ایوان صدر ، پارلیمان ، وزیر اعظم ہائوس، اور سپریم کورٹ کے سامنے سے گزر کر کسی میں ہمت ہے تو اس لائبریری کا رخ کر کے دکھائے۔ اس لائبریری سے تھوڑا ہی دور پارلیمانی لاجز ہیں۔ یہاں وہ عظیم اور عالی مرتبت ہستیاں رہتی ہیں جنہیں قوم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے۔لاجز اور لائبریری کے سٹاف میں اس بات کا اتفاق ہے کہ کوئی معزز رکن کبھی لائبریری کی طرف جاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ کاٹن کے ایسے کڑکڑاتے لباس زیب تن فرما کے ، جن کی دھار سے بلاشبہ تربوز کاٹا سکتا ہے ،یہ عالی دماغ جب قانون سازی فرما رہے ہوتے ہیں تو ان کے پیش نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ قیادت کا حکم کیا ہے ۔معاملہ فہمی ، ذوق مطالعہ اور تحقیق کے بارے میں آپ میں سے کسی کو ان کو صلاحیتوں پر کوئی شک ہو تو کسی روز نواز شریف ، آصف زرداری، اور عمران خان سے پوچھ لیجئے کہ حضرت صاحب سماج کا ستیا ناس توآپ ہی کے ویژن کے مطابق ہو گا لیکن یہ تو بتاتے جائیے آج تک آپ نے کتنی کتابیں پڑھ رکھی ہیں اور آخری دفعہ اس غلطی کا ارتکاب کب کیا تھا۔جواب سن کر آپ کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔تو کیا یہ قیادت اس قوم کی فکری تہذیب کرے گی؟ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت کے مرکزی دفتر میں چلے جائیے آپ کو لائبریری نہیں ملے گی۔ پڑھنے کا کوئی رجحان نہیں ہے۔علم و ادب کا ذوق نہیں ہے۔ اہل دربار میں سے کوئی رہنمائی کرے تو معلوم ہو بنی گالہ ، بلاول ہائوس اور جاتی امرا میں کیا کوئی لائبریری موجود ہے؟ کیا قیادت نے کبھی پڑھنے جاننے کی کوشش کی کہ دنیا میں فکری سطح پر کیا کچھ ہو رہا ہے؟کیا کبھی ان قائدین کے دربار میں حاضری دینے والوں نے وہاں کوئی کتاب دیکھی؟جو قائدین فائل تک نہ پڑھ سکیں اور وہ بھی کسی درباری کی ذمہ داری ہو کہ پڑھ کے سنا دے وہ لطیفے تو سنا سکتے ہیں بیانیہ نہیں دے سکتے۔بیانیہ دینے کے لیے اتنی فکری صلاحیت ضرور چاہیے جو کم از کم دو فقرے ادا کرنے کے لیے تو آپ کو پرچی اور چٹوں سے بے نیاز کر دے۔ نیم خواندہ سیاسی قیادت اور یخ بستہ بیوروکریٹ جب باہم مل کر سوچتے ہیں تو اس چاند ماری کے نتیجے میں یہی بے ہودگی جنم لیتی ہے کہ فوڈ سٹریٹس قائم کر دینے سے سماج ترقی کر جاتا ہے۔ لاہور میں فوڈ سٹریٹ بنی پھر اسلام آباد میں۔فوڈ سٹریٹ بنوانے والے کامران لاشاری صاحب نے ایک محفل میں پوچھ لیا اسلام آباد کی میں کیا خدمت کر سکتا ہوں۔پروفیسر نیاز صاحب نے کہا فوڈ سٹریٹ میں ایک ایسا گوشہ بنوا دیجیے جہاں کتابیں رکھی ہوں۔ کھانے کا آرڈر دے کر اس گوشے کا رخ کر کے اتنا تو معلوم ہو جایا کرے گا کہ نئی کتاب کون سی آئی ہے۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید صاحب نے نیشنل بک فائونڈیشن میں بہت کام کیا ہے۔وہ کارنر تو بہت مزے کا ہے جس کے اوپر لکھا ہے یہاں جو کتابیں پڑی ہیں ان میں سے کوئی پسند آئے تو آپ لے جا سکتے ہیں اور آپ کے گھر کوئی کتاب پڑی ہو جس کی آپ کو ضرورت نہ ہو ازرہ کرم یہاں چھوڑ جائیے۔ڈاکٹرشاہد صدیقی صاحب نے بھی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے بنجر ماحول میں علم دوست رویوں کی آبیاری کی ہے۔لیکن یہ ایسے ہی ہے جیسے تپتے صحرا میں دو بوندیں پڑی ہوں۔سماج کا رویہ بدلنا ہے تو بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ کتاب کلچر کو فروغ دینے کے لیے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کتاب بینی کو ایک عادت بنانے کے لیے ریاست بھی بروئے کار آئے تو یہ اس کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔مجھے یاد ہے گذشتہ بجٹ کے موقع پر ایک ہوٹل کے مالک نے تجویز دی تھی کہ حکومت ہوٹل مالکان کو پابند کرے ہر ہوٹل میں ایک گوشہ علم و ادب ہو جہاں کچھ کتابیں پڑی ہوں۔ہوٹل یہ کتابیں اپنے خرچ پر بھی رکھ لیں تو کوئی حرج نہیں اور اگر ٹیکس کی مد میں یہ ان کی ذمہ داری قرار دے کر جمع تفریق کر لی جائے تو اس میں بھی مضائقہ نہیں۔کالجوں میں اتنی اچھی لائبریریاں ہیں مگر طالب علموں کو کتابیں ایشو نہیں کی جاتیںکہ طلباء انہیں ضائع نہ کر دیں۔ یہ نفسیاتی گرہ کھولنے کی ضرورت ہے۔طالب علم چند کتابیں ضائع کر کے چند کتابیں پڑھ لے اور اس میں مطالعے کا شوق پیدا ہو جائے یہ بہتر ہے یا یہ کہ کتابوں کو لائبریری میں ایک دن دیمک کھا جائے اور طالب علم اس سے محروم رہے۔ہمارا فکری افلاس دیکھیے ، ہم نے میٹرو کو روزانہ ایک کروڑ کی سبسڈی دے دینی ہے لیکن شہروں میں ڈھنگ کی لائبریری بنا کر کتاب کلچر کو فروغ نہیں دینا۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی لازم و ملزوم ہیں۔ انتہا پسندی تھیوری ہے اور دہشت گردی اس کا پریکٹیکل۔دہشت گردی کو آپ طاقت سے کچل سکتے ہیں لیکن انتہا پسندی کو کچلنے کے لیے فکری سطح پر کام کرنا ہو گا۔سوال یہ ہے کہ ان سالوں میں حکومت نے فکری سطح پر کیا کیا ہے؟ہم سب نے اپنے اپنے دائرہ کار میں انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے۔میڈیا نے ہیجان پیدا کیا اور مہمانوں کو لڑا لڑاکر ریٹنگ لینے کی دوڑ میں مہذب مکالمے کی ہماری تہذیبی روایت تباہ کر دی۔اہل سیاست نے ایک دوسرے کے بارے میں جو لب و لہجہ رکھا وہ بھی (باقی صفحہ13پر ملاحظہ کریں) آپ کے سامنے ہے۔ اہل مذہب جنہیں سراپا خیر ہونا چاہیے تھا وہ بھی اقتدار کی کشمکش میں اپنے حریفوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے لگے اور ان پر یہودی ایجنٹ سے لے کر جانے کیا کیا فتوے لگانا شروع کر دیے۔تعلیمی ادارے جو علم و شعور کا مرکز ہونے تھے وہ ہم نے مختلف اقسام کے انقلابی لونڈوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے۔این جی اوز کو کوئی پوچھنے والا نہیں وہ کس کے ایجنڈے پر کس کی زبان بول رہی ہیں۔بچے ریاست کی امانت ہوتے ہیں، ریاست ان کی فکری ساخت کے بارے میں حساس ہوتی ہے ہم نے ہر مدرسے کے منتظم کو اجازت دے دی وہ جس طرح چاہے ان معصوم ذہنوں کو ڈھال لے۔ ہم سب نے مل کر اپنی فکری خندق میں ریت بھری ہے۔ منافقت دیکھیے اب ہم سب ایک دوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں کہ سماج میں انتہا پسندی کیوں پھیل گئی ہے؟

Avatar
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *