مسئلہ فاروقی اور اس کا حل۔۔۔معاذ بن محمود

“ہائے میں لٹ گئی، ہائے میں برباد ہوگئی، اؤئے ایڈا ظلم، اؤئے پٹھان مینوں بلاک کر چھڈیا، ہائے، اؤئے مرگئی، ہائے ہائے ہائے”۔

آپ نے انعام رانا کی ٹائم لائن پہ اکثر اس قسم کی آہ و بکا پڑھی ہوگی۔ ٹھہریے، مجھے اپنا فقرہ بدلنے دیجیے۔ چونکہ آج کل جوتا صفائی مہم اپنے زوروں پہ ہے لہذا عین ممکن ہے کہ اکثر پڑھنے والے فاروقی مخالف کیمپ کا حصہ ہوتے بذات خود یہ دہائیاں دیتے پائے گئے ہوں۔ یوں کہنا چاہیے  کہ آپ میں سے اکثر کی ایسی ہی آہ و بکا ہم کئی بار سن چکے ہیں۔ یقین جانیے ہرگز اچھا محسوس نہیں ہوتا۔ کئی معززین و اکابرین فیس بک اکثر اپنے نازک زخم دکھانے کے لیے انعام رانا کی ٹائم لائن اور مکالمہ پہ مطبوعہ تحریروں پہ کمنٹس کا رخ کرتے ہیں۔ یہ زخم ایک خوبصورت پروفائل پکچر اور بظاہر ایک شائستہ پرسنالٹی کے پیچھے چھپی ایسی بیمار ذہنیت سامنے لاتے ہیں جو عام حالات میں منافقت کی چادر تلے پنپتی رہتی ہے۔ آج کوشش ہوگی، فقط کوشش، گو کہ کامیابی کے امکانات کافی کم ہیں، کہ ایسے بیمار زخمیوں کو آئینہ دکھا کر انہیں رو بہ صحت کرنے کی کوشش کی جائے۔

کچھ بھی کہنے سے پہلے میں اپنا تجربہ لکھتا چلوں۔

میں نے فاروقی صاحب کو 2014 میں فالو کیا۔ تب سے آج تک چار سال میں فاروقی صاحب کے ہاتھوں دو بار بلاک ہوچکا ہوں۔ دونوں بار فاروقی صاحب نے خود سے انبلاک کیا۔ پہلی بار میں نے معذرت کی۔ دوسری بار خود انہوں نے مجھ سے معذرت کر کے مجھے شرمندہ کیا۔ دونوں بار میں نے اختلاف کی جسارت کی تھی۔ یہاں تک بلاک پہ بین کرنے والوں کی بات ٹھیک لگتی ہے۔ البتہ ایک مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ یہ وہ دو مواقع تھے جب میں نے اختلاف سے آگے بڑھ کر بحث کرنے کی کوشش کی۔ دونوں بار بلاک زدگان کی لسٹ میں شامل ہوا۔ مزید سنیے۔ میں ٹھہرا نرا ملا بیزار مائل بہ لبرلزم بچہ۔ فاروقی صاحب کے اولین مشن میں نوعمر مولویوں کو مستقبل کا مدلل مولانا بنانا شامل ہے۔ ہمارے مستقبل کے راستوں میں زمین آسمان کا تنوع ہے۔ عین ممکن ہے کل کو میں پہلے کی طرح ایک بار پھر فاروقی صاحب کے اختلاف کا شکار ہوجاؤں۔ ہم ایک زندہ سلامت جیتے جاگتے ہٹے کٹے انسان کی بات کر رہے ہیں اور انسان کا گمراہ ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ ہوسکتا ہے کل میں گمراہ ہوجاؤں اور انہی روحانی زخمیوں کے رنگ میں رنگ جاؤں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خدا نخواستہ فاروقی صاحب کسی اور جانب نکل پڑیں۔ کل کی کوئی گارنٹی نہیں۔ ہم آج تک لگنے والے کچوکوں کی بات کریں گے۔

میرے سامنے انعام بھائی کی وال پہ فاروقی صاحب کا مکالمہ پہ چھپا مضمون ہے۔ یہ مضمون اب تک تین ہزار دو سو پندرہ لوگ پڑھ چکے ہیں۔ اکسٹھ دوستوں نے اسے شئیر کیا۔ مجھ سمیت دو سو سات لوگ اس مضمون پہ ردعمل ظاہر کر چکے ہیں جن میں سے ایک نے غصے کا اظہار کیا اور آٹھ حضرات کو قہقہے کی حد تک مضمون مزاح سے بھرپور لگا۔ بیس افراد نے محبت کا اظہار کیا اور ایک سو اٹھہتر نے پسندیدگی دکھائی۔ یہ تھا مضمون پہ ردعمل یعنی مضمون کے مواد پہ قارئین کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی کا تعین کرنے والے عوامل۔ ردعمل سے ثابت ہوتا ہے کہ مضمون پہ مجموعی طور پہ پسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ تاہم دلچسپ حقیقت دلوں (د کے نیچے زیر) کی وہ سڑن ہے جو کمنٹس میں بلاک شدگان نے نکالی۔

کمنٹ دراصل قاری کے والدین اور ان کی جملہ تربیت کا وہ آئینہ ہوتا ہے جو قاری کی سوچ اور خیالات کی عکاسی کرتا ہے۔ لکھنے والا اپنے خیالات کاغذ پہ لانے کے لیے محنت کرتا ہے۔ ان خیالات سے پڑھنے والا اختلاف کرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ فاروقی صاحب کے ساتھ علیک سلیک اور بات چیت نے مجھے جو سبق سکھایا وہ یہ کہ ان کی پوسٹ کے جواب میں اختلاف کی بھرپور گنجائش موجود ہے مگر اس طرح کہ ایک کمنٹ آپ کا اختلاف نوٹ جامع طریقے سے ثابت کر دے۔ فیس بک بحث یا مناظرے کا پلیٹ فارم نہیں۔ اگر آپ کی ذہنی پسماندگی آپ کو کاپی پیسٹ مجاہد بناتی ہے یا آپ کو اپنی سوچ ایک کمنٹ میں شائستہ اختلاف کا مظاہرہ کرنے کے قابل نہیں بناتی تو یقین کیجیے (یا چاہیں تو آس پاس کسی مہذب آدمی سے کنفرم کر لیجیے)، اس میں دوسروں کا کوئی قصور نہیں۔ اگر آپ کے اندر نفرت کا غلیظ گند اس قدر بھر چکا ہے کہ ایک مضمون کے جواب میں آپ اپنی انگلیوں کو مصنف پہ ذاتی حملوں سے نہیں روک پاتے تو یقیناً رعایت اللہ فاروقی آپ کو رعایت نہ دینے اور آپ میں دوسروں کے ساتھ فرق کرنے میں حق بجانب ہے۔

ماں باپ کی غلط تربیت کی عکاس کچھ مثالیں درج ذیل ہیں۔

“ان مولوی صاحب نے نچلا ہونٹ بچے کے منہ بسورنے جیسا کیوں بنایا ہوا ہے؟ یہ کمنٹ اس لئے ہے کیونکہ ان کا کالم ایسی ہی باتوں سے بھرا ہوا ہے جس میں تبصرے لائق کوئ چیز نہیں ہے۔”

صاحب کمنٹ کی تصویر دیکھی۔ اوپر والے سے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ معافی مانگی اور آگے چل پڑا۔ یقیناً ان صاحب کو ان کے نہایت ہی اپنوں کی جانب سے اوپر والے کی بنائی ہوئی شکل پہ طعنے سننے کو ملے ہوں گے تبھی موصوف کسی کے بارے میں ایسا کہہ گئے۔

ایک اور صاحب فرماتے ہیں:

“تف ہے ایسے جانبدار دانشوروں پر. جن کی گھٹیا تحریر کے جواب دلیل کی بجائے بد تمیزی کرنے کو جی چاہے۔”

اللہ اللہ! اس قدر مدلل جواب بیشک ممکن نہ تھا۔ چار سو کے لگ بھگ کمنٹس میں مشکل سے چار افراد نے مضمون کے مواد پہ بات کی جبکہ باقی اپنے زخم دکھانے میں مصروف رہے۔ خاموشی سے پڑنے والی اس قدر کاری ضرب فاروقی؟ اس قدر رونا دھونا؟

بھیا آپ کے نزدیک حق اور باطل کا معیار حضرت نیازی سے اتفاق یا اختلاف ضرور ہوگا البتہ باقی دنیا آپ کی سوچ کو فسطائیت کا نام دیتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ضرب فاروقی آپ کو ٹھیک ٹھاک کس کے لگتی ہے۔ ہمیں اچھا تو نہیں لگتا لیکن یہ طے ہے کہ آپ کی تکلیف اس قدر اہم نہیں کہ ہم اس کی خاطر لکھنا چھوڑ دیں۔ ہم جانتے ہیں کہ آپ ماضی میں بھی معصوم زینب کے نام پہ سیاسی پوائینٹ سکورنگ میں ملوث رہے ہیں، اور ہم جانتے ہیں کہ آپ پہلے بھی اس حسد کے باعث باقاعدہ فاروقی مخالف کیمپین چلا چکے ہیں۔ ایسا ہے کہ ان پھونکوں سے تو یہ چراغ بجھنے والے نہیں ۔ مسئلے کا حل یہ ہے کہ آپ مخالفین کو پڑھنا ہی چھوڑ دیں۔

بخدا راوی چین ہی چین لکھے گا۔

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مسئلہ فاروقی اور اس کا حل۔۔۔معاذ بن محمود

  1. ماشاء اللہ بہت خوب جناب.. حقائق خوب بیان کر دئیے ہیں. عقل والوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں..

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *