زبانِ غیر کی شرحِ آرزو پر انحصار نہ کیجیے۔۔۔حافظ صفوان محمد

مولانا سید ابوالحسن علی ندوی علیہ الرحمہ آخری مرتبہ پاکستان تشریف لائے تو مجھے ڈیڑھ گھنٹہ وقت دیا۔ یہ ملاقات کئی حوالوں سے یادگار تھی۔ اس کے لیے وقت ملنے کی وجہ یہ ہوئی کہ میں ان دنوں موسسِ تبلیغ حضرت جی مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کے “ملفوظات” مرتبہ مولانا محمد منظور نعمانی کا انگریزی ترجمہ کر رہا تھا جو ازاں بعد Words & Reflections of Molana Muhammad Ilyas کے نام سے شائع ہوا۔ اس ترجمے میں کچھ جگہوں پر اہم معلومات نیز کئی ضروری پس منظری واقعات کی تفہیم کے لیے ان سے وقت لیا تھا، اور ان کی کرم گستری کہ مجھ ہیچمداں پر یہ شفقت ارزاں فرمائی۔

اس طویل ملاقات میں کئی باتوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی فرمایا کہ مولانا محمد الیاس کے ملفوظات کا ترجمہ کرنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ آپ ان کے ّمکاتیب” کا گہرا مطالعہ کریں۔ فرمایا کہ مولانا محمد الیاس کے ملفوظات تو reported مواد ہے جو میرے بھائی مولوی محمد منظور نعمانی نور اللہ مرقدہ نے بہت عرق ریزی سے جمع کیا تھا، لیکن مولانا کے خطوط میں چونکہ ان کے اپنے الفاظ ہیں اس لیے نہ صرف ان کی استنادی حیثیت اہم تر ہے بلکہ وہ مخاطب کو اپنا دردِ دل منتقل کرنے کی تفصیلی کوشش فرماتے ہیں۔ ترجمے کے اس پراجیکٹ کے لیے میں “مکاتیب مولانا محمد الیاس” کو پہلے بھی بہت کھنگال چکا تھا لیکن اس رہنمائی کے بعد اس کتاب پر زیادہ حصر کیا۔

یہ باتیں کرتے ہوئے مولانا علی میاں علیہ الرحمہ نے مجھے بہت دعائیں دیں کہ میں مولانا محمد الیاس کے ملفوظات کا انگریزی ترجمہ کرتے ہوئے ان سے براہِ راست ملے ہوئے لوگوں سے فرداً فرداً ملنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں۔ فرمایا کہ آپ کے سامنے لمبی زندگی ہے اور آپ کئی کام کر سکتے ہیں۔ بس یوں کیجیے کہ کسی تحریک یا شخصیت کے بارے میں قلم اٹھاتے وقت کسی کے حاصلِ مطالعہ پر انحصار نہ کرنے بلکہ مآخذ کا براہِ راست مطالعہ کرنے کی عادت ابھی سے بنا لیجیے۔ فرمانے لگے کہ میں نے مولانا محمد الیاس کی سوانح لکھتے وقت ان کے خاندان اور تحریک سے متعلق حاضر باش لوگوں سے بذاتِ خود معلومات لیں تبھی یہ کتاب لکھی۔ فرمایا کہ میں نے قادیانیت پر کتاب لکھی تو مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی فلاں فلاں کتاب کا مطالعہ کیا اور بیسیوں فہیم و خلیق احمدیوں سے ملاقات کی اور ان کی تفہیمِ احمدیت کو سمجھنے کی کوشش کی۔ “مرزا غلام احمد صاحب قادیانی” کے الفاظ انھوں نے اپنی گفتگو میں پانچ مرتبہ ادا کیے۔ میں نے عرض کیا کہ میں غلام احمد پرویز اور سر سید احمد خاں وغیرہ کے خلاف جذباتی نعرے لگانے لگا تو میرے والد پروفیسر عابد صدیق صاحب نے کالج لائبریری سے خطباتِ احمدیہ لاکر دی اور کہا پہلے اسے پڑھ لو۔ مطالعے کی چاٹ تھی اس لیے ہفتے بھر ہی میں یہ منزل سر کرلی۔ اس کے بعد سے سر سید کے خلاف زبان درازی سے رک سا گیا ہوں۔ مولانا علی میاں کی آنکھوں میں چمک آگئی اور فرمانے لگے کہ آپ کے ابا نے بہت اچھا کیا، ان کو میرا سلام کہیے۔ پھر فرمایا کہ سر سید پر کچھ لکھنے والے ہی کو نہیں بلکہ اردو میں ادبی و اصلاحی موضوعات پر کچھ بھی لکھنے والے کو سر سید کے خطبات و مقالات ضرور پڑھ لینے چاہییں۔

مولانا علی میاں علیہ الرحمہ سے اس ملاقات نے میرا یہ مزاج بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا کہ اول مخاطب کی عزت نہ اچھالی جائے اور ہدفِ تنقید کا اکرام و احترام ہرگز کم نہ کیا جائے، اور ثانیًا کسی کے حاصلِ مطالعہ پر اپنی نظریات کی عمارت تعمیر کرنے کے بجائے براہِ راست مطالعہ کرکے اپنا نقطہ نظر تعمیر کرنا۔ اپنی تعمیر کچی اینٹ اور مٹی گارے کی ہو تو بھی اپنی ہے۔ زبانِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے!

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *