• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جغرافیہ کے قیدی (28) ۔ مغربی یورپ ۔ بلقان، فرانس اور جرمنی/وہاراامباکر

جغرافیہ کے قیدی (28) ۔ مغربی یورپ ۔ بلقان، فرانس اور جرمنی/وہاراامباکر

بلقان کے پہاڑوں میں بہت سے چھوٹے ممالک آباد ہیں۔ آج کل یہ ایک مرتبہ پھر، کسی سلطنت کا حصہ نہیں۔ ان الگ ریاستوں کے ذمہ دار یہ پہاڑ ہیں جنہوں نے الگ جگہ پر رہنے والوں کو آپس میں یکجا نہیں ہونے دیا۔ اگرچہ اس کی کوشش بہت کی گئی۔ یہ یونین آف سدرن سلاو کا تجربہ تھا جسے یوگوسلاویہ کہا جاتا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

کمیونزم ختم ہونے کے بعد یوگوسلاویہ ختم ہوا اور 1990 کی دہائی یہاں پر جنگوں میں گزری۔ اب اس کے بعد کے وقت میں زیادہ تر ممالک مغرب کے ساتھ ہیں۔ لیکن سربیا ان سے الگ ہے۔ یہاں پر آرتھوڈوکس کرسچن اور سلاو شناخت مضبوط ہے۔ 1999 میں یہ ناٹو کی بمباری کا نشانہ بنا اور کوسووو اس سے الگ ہوا۔ روس نے اس پر ناٹو کو معاف نہیں کیا اور روس زبان، نسل، مذہب اور توانائی کے معاہدوں کی کشش سے اسے اپنے حلقے میں کھینچنے کی کوشش میں ہے۔
بسمارك نے انیسویں صدی کے آخر میں کہا تھا، “بلقان میں کسی احمق کی حرکت کی وجہ سے کسی وقت بڑی جنگ ہو جانی ہے”۔ اور ایسا ہی ہوا۔ (جب پہلی جنگِ عظیم اس طرح چھڑ گئی)۔
یہ خطہ معاشی اور سفارتی میدانِ جنگ ہے جس میں یورپی یونین، ناٹو، ترک اور روسی اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش میں ہیں۔ البانیہ، بلغاریہ، کروشیا اور رومانیہ تو اپنا انتخاب کر چکے ہیں اور ناٹو میں شامل ہیں۔ البانیہ کے علاوہ باقی سب یورپی یونین کا حصہ ہیں۔ سلوانیہ بھی یونین میں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شمال میں ڈنمارک پہلے ہی ناٹو کا ممبر ہے اور روس کی واپسی سے خوف زدہ ہو کر سویڈن بھی غیرجانبداری ترک کر کے اس کا حصہ بننے کا خواہشمند ہے۔ 2013 میں روسی جنگی طیاروں نے آدھی رات کو سویڈن پر نقلی بمباری کرنے کا آپریشن کیا۔ سویڈن کا دفاعی نظام سویا رہ گیا۔ اس کا کوئی جہاز تیار نہیں ہوا۔ ڈنمارک کی فضائیہ کے طیارے اڑے اور روسیوں کو واپس لے گئے۔ لیکن ابھی بھی سویڈن میں بہت سے لوگ “مکمل غیرجانبداری” کے حق میں ہیں۔ اس کی ایک وجہ روس کی دھمکی بھی ہے کہ اگر فن لینڈ یا سویڈن ناٹو میں شامل ہوئے تو روس کسی بھی جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یورپی یونین میں سب سے اہم تعلقات فرانس اور جرمنی کے بیچ میں ہیں۔ فرانس دفاعی لحاظ سے جزوی طور پر محفوظ ہے۔ صرف شمال مشرق کا راستہ ہے جو کھلا ہے اور یہاں پر جرمنی ہے۔ فرانس روس سے بہت دور ہے۔ فاصلے کی وجہ سے منگولوں سے محفوظ رہا۔ اور برطانیہ سے بھی خشکی کا راستہ نہیں۔ درمیان میں چینل ہے۔ یورپ کے موسم، قدرتی سرحدوں اور موافق تجارتی راستوں کی وجہ سے یہ یورپ کی سب سے بڑی طاقت تھی۔
لیکن پھر جرمنی متحد ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی کا “آئیڈیا” صدیوں پرانا ہے۔ یہاں پر بہت سی الگ خودمختار بستیاں تھیں۔ رومی سلطنت کے وقت میں یہاں پر پانچ سو کے قریب راجددہانیاں تھیں۔ 1815 میں 39 چھوٹی ریاستیں کانگریس آف ویانا میں اکٹھی ہوئیں۔ اس سے نارتھ جرمن کنفیڈریشن بنی۔ 1871 میں فرانس اور پروشیا کے جنگ میں جرمن فاتح رہے اور پیرس پر قبضہ کر لیا۔ جرمن فتح کے بعد پیرس کے قریب ورسیلز کے محل میں جرمنی کے یکجا ہونے کا اعلان ہوا۔
فرانس کے دفاع کی ایک ہی کمزور جگہ تھی جو کہ اسے لے ڈوبی تھی۔ اب اس کے پاس ایک پڑوسی تھا جو کہ اس سے بڑا تھا، صنعتی اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ تھا۔
اگلے ستر سال میں اس میں سے دو بار مزید خطرہ پیدا ہوا۔ فرانس نے اس پر جنگ کے بجائے ڈپلومیسی سے قابو پانے کی کوشش کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی کے جغرافیائی مسائل ہمیشہ فرانس سے زیادہ رہے ہیں۔ ایک تو اس کے مغرب میں طاقتور ہمسایہ فرانس ہے جو کہ بہت عرصے سے ایک یکجا ملک رہا ہے۔ اور اس کے مشرق میں بڑا ریچھ، روس، ہے۔
فرانس کو جرمنی کا خوف رہا ہے اور جرمنی کو فرانس کا اور جب 1907 میں فرانس روس اور برطانیہ نے اتحاد کر لیا تو جرمنی کو تینوں کا خوف تھا۔ اضافی خوف اس چیز کا کہ برطانیہ کی طاقتور بحریہ جرمنی کی سمندروں تک رسائی روک سکتی تھی۔ جرمنی نے اس کا حل یہ نکالا کہ پہلی فرصت میں فرانس پر حملہ کرے۔ اور ایسا اس نے دو مرتبہ کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جرمنی کی جغرافیائی پوزیشن اور جارحیت کو “جرمنی سوال” کہا جاتا تھا۔ صدیوں کی جنگیں جب دوسری جنگِ عظیم کی ہولناک تباہی تک پہنچیں تو حل یہ نکالا گیا کہ یورپ میں باہر سے آنے والی بڑی پاور کی بالادستی قبول کر لی جائے جو کہ امریکہ تھی۔ یہاں ناٹو قائم ہوئی اور پھر یہ یورپی یونین تک لے گئی۔ جنگ سے تھک ہار کر اور امریکی فوج کی “حفاظت” میں یورپیوں نے ایک حیرت انگیز تجربہ شروع کیا۔ انہیں ایک دوسرے پر اعتبار کرنا تھا!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو آج یورپی یونین ہے، یہ اس لئے بنا تھا کہ فرانس اور جرمنی ایک دوسرے سے اس قدر اچھی طرح گلے ملیں کہ ان کے بازو دوسرے کو گھونسا مارنے کے لئے آزاد نہ رہ جائیں۔ اس نے بہترین طریقے سے یہ والا کام سرانجام دیا ہے۔ اور اس سے ایک بہت بڑی جغرافیائی جگہ بن گئی ہے جو دنیا کی بڑی معاشی طاقت ہے۔
خاص طور پر جرمنی کے لئے اس نے کمال کا کام کیا ہے۔ 1945 کی راکھ سے اٹھنے والا یہ ملک اب یورپ کی عظیم صنعتی طاقت ہے۔ یہ یورپ میں اپنی فوج کی جگہ پر مصنوعات “میڈ ان جرمنی” کے لیبل والی مصنوعات بھیجتا ہے۔ اور یہ شاہراہوں اور دریاؤں سے یورپ اور دنیا بھر میں پہنچتی ہیں۔ شمال، مغرب، جنوب اور مشرق کی طرف بھی۔
(جاری ہے)

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply