سوشل میڈیا اورکشمیر

ایک بڑی جمہوریت کہلانے والا ملک بھارت اپنے علاوہ ہر چیز سے خوفزدہ ہے، ابھی کبوتروں کا خوف دل سے نکلا نہیں کہ سوشل میڈیا کا خوف سر پر سوار کرلیا ، گذشتہ دنوں مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا کو بند کردیا گیا جس کی ایک ہی وجہ ہے کہ مظلوم کشمیریوں پر بھارتی فوجیوں کے ظلم و ستم ڈھانے کی ویڈیوز اور تصاویر دنیا کے سامنے نہ آنے دی جائیں کیوں کہ اس سے بھارتی حکومت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آتا ہے ، پاکستان پر ہر الزام تھوپنے والا بھارت کشمیر کے بچوں تک سے خوفزدہ نظر آتا ہے، سوشل میڈیا پر روزانہ سینکڑوں ویڈیوز اور تصاویر جاری ہوتی ہیں جس میں بھارتی فوج کے کشمیریوں پر ظلم کے ساتھ ساتھ پاکستان سے دشمنی بھی صاف نظر آتی ہے جن میں معصوم بچوں اور بچیوں پر تشدد کرکے پاکستان مخالف نعرے لگوائے جاتے ہیں ۔ بھارت ایک مرتبہ پھر تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کیلئے ناکام اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ ماضی میں جہاں مقبوضہ کشمیر میں عوام کیلئے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے پر پابندیاں عائد کی جاتی رہی ہیں، تو اب نام نہاد حکومت نے سوشل میڈیا پر ہی پابندی عائد کر دی ہے کیوں کہ سوشل میڈیا کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو دنیا کے سامنے دکھانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
جن سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے ان میں فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر اور واٹس ایپ سمیت 16 معروف سائٹس شامل ہیں۔ بھارتی حکام کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ان سوشل میڈیا ویب سائٹس کو اگلے احکامات تک معطل رکھا جائے گا۔ بھارتی حکام نے ایک حکم نامے میں 1885ء میں برطانوی دور کے دوران بنائے گئے انڈین ٹیلی گراف ایکٹ کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ حکومت امن عامہ کے مفاد میں یہ اقدام اُٹھا رہی ہے۔
یہ قدم اُس وقت اٹھایا گیا ہے جب وادی کشمیر میں طالب علموں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔ کشمیر میں کئی ہفتوں سے طلبہ و طالبات بھارت کیخلاف مظاہرے کر رہے ہیں جس میں اب تک ہونے والے مظاہروں میں 10 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی نام نہاد کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ بھارتی حکام کی جانب سے تمام انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نام جاری کردہ احکامات میں کہا گیا ہے اگلے ایک ماہ تک فیس بک، واٹس ایپ، ٹویٹر، قیو قیو، وی چاٹ، اوزون، ٹمبلر، گوگل پلس، بیدو، سکائپ، وائبر، لائن، سنیپ چیٹ ، پنٹرسٹ، ٹیلی گرام اور ریڈاٹ کے ذریعے آئندہ ایک ماہ تک وادی کشمیر کے بارے میں کوئی بھی پیغام، ویڈیو یا تصویریں یا کوئی بھی دیگر مواد منتقل نہیں کیا جائے گا۔ انٹرنیٹ کمپنیوں کو اس حکم نامے پر فوری اطلاق کا پابند کیا گیا ہے۔
اب یہاں حکم نامے کے مندرجات کو پڑھنے کے بعد تشویش اس امرپر ہے کہ آخر اب بھارت آنے والے ایک ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں ایسا کیا کرنے جارہاہے جس کے بارے میں وہ قطعی نہیں چاہتا کہ دنیا کو آگاہی ہو ، وادی کشمیر میں بھارت مخالف جذبات جڑ پکڑ چکے ہیں جہاں موجود بھارتی فوجیوں کی تعداد دنیا بھر میں زیادہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت لاکھوں فوجی تعینات ہیں۔ زیادہ تر کشمیری یا تو آزادی کے حق میں ہیں یا پھر پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ کشمیر کے مشہور علیحدگی پسند باغی لیڈر برہان وانی کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں جھڑپوں کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ بھارتی حکومت ان احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے اور انہیں کچلنے کے لیے کرفیو کے نفاذ، موبائل نیٹ ورک کی معطلی اور اخبارات ضبط کرنے جیسے حربے استعمال کر چکی ہے۔ چند روز قبل ہی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک کشمیری کو بھارتی فوج کی طرف سے گاڑی کے آگے باندھ کر ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا ، یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی کئی بار مظلوم کشمیریوں کو بھارتی فوجی اہلکاروں نے انسانی ڈھال کے طور پر استمال کیا ہے ۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کی گرفتاری اور پھر سزائے موت کے اعلان کے بعد بھارتی حکومت کو آگ لگی ہوئی تھی کہ احسان اللہ احسان کے اعترافات میں بھارت کے پاکستان میں حالات خراب کرنے میں ملوث ہونے کے بیانات نے بھارت کے مکروہ چہرے سے ایک نقاب اور ہٹادیا ۔معاملہ کی شدت کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ نریندر مودی نے اپنے اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے مشترکہ دوست اور بھارت میں مشہور کاروباری شخصیت سجن جندال کو وزیر اعظم پاکستان سے ملاقات کے لیئے بھیج دیا، جندال کے پاکستان میں داخل ہوتے ہی پاکستانی میڈیا میں ایک بھونچال سا آگیا ،تجزیے ،تبصرے اور ٹاک شوز شروع ہوگئے، جس میں زیادہ تر بیک ڈور ڈپلومیسی کی طرف اشارہ کیا گیا ،معاملے کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے محترمہ مریم نواز صاحبہ کو بذریعہ ٹویٹ بتانا پڑا کے سجن جندال کا کوئی سیاسی دورہ نہیں بلکہ وہ ایک کاروباری سلسلے میں وزیر اعظم سے ملنے آئے ہیں اور عین ممکن ہے ایسا ہی ہو لیکن اس ملاقات کی ٹائمنگ نے کئی شکوک و شبہات پیدا کردیئے۔اب یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا کو بند کرکے اور سجن جندال کو پاکستانی وزیراعظم سے ملاقات کے لیے بھیج کر بھارت کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس عمل سے کشمیریوں کی تحریک کو کوئی نقصان پہنچایا جاسکا یا نہیں۔

ارشد قریشی
ارشد قریشی
محمد ارشد قریشی کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ شاعری کا شغف بھی رکھتے اورم الف ارشیؔ کے تخلص کے ساتھ اشعار کہتے ہیں ، پاکستان فیڈرل کونسل آف کالمسٹ کے انفارمیشن سیکریٹری ہونے کے ساتھ انٹرنیشنل ریڈیو لسنرز آرگنائیزیشن پاکستان کےصدر اور چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کے پروگرام مانیٹر ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اچھا سچا اور مخلص صحافی دنیا کو پرامن اور خوبصورت بنا سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *