سقراط کے ساتھ ایک شام ۔۔۔۔۔ادریس آزاد/قسط2

 سقراط کی بات ختم ہوئی تو پروٹاغورث کے چہرے پر سب نے ایک عارفانہ قسم کی مسکراہٹ محسوس کی۔ سب کی توجہ خود بخود سقراط سے ہٹ کر پروٹا غورث کی جانب مبذول ہوگئی۔ محفل میں موجود سبھی لوگ جو پہلے سے ہی پروٹا غورث کے یا تو شاگردان ِ رشیدان تھے اور یا اُسے دیوانہ وار چاہنے والے اُس کے مریدین۔ چنانچہ سب کو توقع تھی کہ اب وہ کوئی ایسا نقطہ اُٹھائے گا کہ سقرا ط کی ساری بات کا اثر زائل ہوجائے گا۔ اور وہی ہوا۔ پروٹاغورث نے کہا۔

سقراط تم جانتے ہوکیا کہہ رہے ہو؟……… تم ارتقاءکے خلاف دلائل دے رہے ہو۔ بدلاو کوکون روک سکتا ہے؟ وہ جو اقبالؒ نے کہا کہ، ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں کیا تم نہیں مانتے کہ دنیا ایک مسلسل ”حرکت“ ہے۔ اگر تمہاری بات کو درست مان لیا جائے تو یہ ماننا بھی لازم آتا ہے کہ ارتقائی عمل جو کہ قدرتی طور پر واقع ہوتا ہے ناجائز ہے۔

دنیا میں اب تک جو کچھ بھی ہوا ہے، یہ سب ارتقاءکی بدولت ہوا ہے۔ تبدیلی معاشرے کی روح ہے۔ تم نے اقبالؒ کے خطبات نہیں پڑھے؟جب وہ کہتا ہے کہ’ “کسی معاشرے میں حد سے بڑھا ہوا نظم و ضبط اُس معاشرے کے مردہ ہونے کی دلیل ہے” سقراط اپنے بیان پر ازسرِ نو غور کرو۔ مجھے تم سے ایسی توقع نہیں تھی کہ تم معاشرے کی حرکت کا ہی انکار کردوگے“۔

پروٹاغورث کے شیدائی فخر سے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ اُن کے چہروں پر مسکراہٹیں پھیل گئیں۔ انہیں تسلی ہوئی کہ اُن کا حکیم سب پر بھاری ہے۔ مگر کریٹو؟

کریٹوبے چین ہوگیا ۔ وہ اپنی جگہ ناچ کر رہ گیا۔ اُس کی تسلی نہیں ہوئی تھی۔ وہ زمانے کی حرکت کے موضوع پر سقراط کے دلائل سے واقف تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جمہوریت کے بارے میں سقراط کا مدعا یہ لوگ نہیں سمجھے تھے۔ کریٹو پُر اُمید نظروں سے سقراط کی طرف دیکھنے لگا کہ وہ اب پروٹاغورث کو تسلی بخش جواب ضروردے گا۔

سقراط چند ثانیے خاموش رہا ، اُس کی نگاہیں مجمع کی طرف اُٹھی ہوئی تھیں۔ اُس نے پروٹاغورث کے مریدوں میں سے ایک بزرگ شخص کی طرف اشارہ کیا اور اُسے مخاطب کرکے پوچھا۔

”تم پالینوس ہو ناں؟………. وہ ایشیائی گھوڑوں کا بیوپاری؟ ………. “

ادھیڑ عمر شخص گڑبڑا گیا۔ اُس نے خفیف نظروں سے ادھر اُدھر دیکھا اور پھر قدرے بلند آواز میں سقراط کے سوال کا جواب دیا۔

”ہاں“

سقراط نے اُسے دوبارہ مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

’’پالینوس تمہارے کتنے بیٹے ہیں؟‘‘

سب اہل ِ محفل حیران تھے کہ سقراط آخر چاہتا کیا ہے۔ وہ پروٹا غورث کی بات کا براہ ِ راست جواب کیوں نہیں دیتا۔ وہ پہیلیاں کیوں بجھوانا چاہتا ہے۔پروٹاغورث ابھی تک سنجیدگی کے ساتھ سقراط کے جواب کا منتظر تھا۔ سقراط کے سوال کا جواب دینے کے لیے پالینوس پھر گویا ہوا۔

’’پانچ‘‘

سقراط نے فوراً اگلا سوال داغ دیا۔

’’تمہارے بیٹے کیا کرتے ہیں؟ میرا مطلب ہے وہ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘

اب پالینوس پریشان ہورہا تھا۔ اُس نے کسی قدر چڑچرے سے لہجے میں جواب دیا۔

’’سب سے بڑا سفر میں رہتا ہے ، زیادہ تر کاروباری اسفار میں ۔ کیونکہ میں اب اکثر گھر پر رہتا ہوں۔ منجھلا اُستاد پروٹا غورث کی خدمت میں ہوتا ہے۔ علم حاصل کررہا ہے۔ اور سب سے چھوٹا میرے ساتھ ہوتا ہے۔ گھر کے کام کاج سنبھالتا ہے اور گھوڑوں کی دیکھ بھال کرتاہے اور نوکروں کی بھی‘‘

اب سقراط کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔اُس نے پالینوس کی گھبراہٹ کا خیال کرتے ہوئے اپنے لہجے کو مزید حلیم بناتے ہوئے پوچھا۔

‘‘پالینوس بس ایک آخر سوال ۔ تمہارا اپنے بیٹوں سے اکثر کس بات پر اختلاف رہتا ہے ۔ اگر رہتا ہے تو؟’’

پالینوس نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ محفل میں مرکز ِ نگاہ ہے۔ حتٰی کہ پروٹاغورث بھی اُس کی جانب گہری نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہوا اُسے داناؤں کی محفل میں اہمیت دی جارہی تھی۔ اس بار اُس نے حکیمانہ اندازو اطوار اپناتے ہوئے نہایت متانت سے جواب دیا۔

سقراط! میرا اپنے بڑے بیٹے کے ساتھ سب سے زیادہ اختلاف اس بات پر رہتا ہے کہ وہ ہمارے دیوی دیوتاوں پر ہندوستانی دیوی دیوتاوں کو ترجیح دیتا ہے۔ وہ مجھ سے بحث کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہندوستان کی لکشمی دیوی ہماری افرودیتی سے اچھی ہے۔ کیونکہ وہ صرف اچھی خبریں دیتی ہے، جبکہ ہماری افرودیتی اچھی اور بری دونوں خبریں دیتی ہے۔

ایک دیوی کے شایان ِ شان یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اچھی خبریں دے۔ لیکن میں اُسے دلیل سے سمجھاتا ہوں کہ جب تک ہمیں آنے والے برے وقت کی بابت علم نہیں ہوگا ہم اُس کے لیے خود کو کیسے تیار کریں گے؟…….. جبکہ دوسرے بیٹے کے ساتھ مجھے کوئی اختلاف نہیں ہے، کیونکہ یہ استاد پروٹا غورث کے پاس ہونے کی وجہ سے عقل مند ہے اور علم کی باتوں کو سمجھتا ہے۔ میں اُلٹا اس سے علم کی باتیں سیکھتا ہوں۔ تیسرے بیٹے کے ساتھ میرا صرف ایک ہی بات پر اختلاف ہوتا ہے کہ وہ لا پرواہ ہے۔ وہ کام کی طرف دھیان نہیں دیتا۔ اُس کا دھیان ہر وقت اولمپکس کی طرف ہوتا ہے۔ اس سال کون سا گھوڑا جیتے گا؟ ………….. شاید وہ ابھی بچہ ہے اور کھیل کود میں اُس کا دل زیادہ لگتا ہے……….. کیوں! …….. یہی وجہ ہے ناں سقراط؟“

اب سب سقراط کی طرف متوجہ ہوگئے ، کہ پالینوس سے ذاتی سوالات کا سلسلہ ختم کرکے اب سقراط کون سی دلیل کے ذریعے سمجھاتا ہے کہ جمہوریت معاشرے کی حرکت کے لیے ضروری نہیں ہے۔ حتیٰ کہ پروٹا غورث بھی اپنی پیشانی پر گہری سوچ کی لکیریں لیے سقراط کے بولنے کا انتظار کررہا تھا۔ تب سقراط نے کہنا شروع کیا۔

”اس سے پہلے کہ میں پالینوس کی مثال سے کام لوں ، میں کچھ سمجھانا چاہتا ہوں۔کسی معاشرے کی حرکت دوطرفہ ہوتی ہے۔ دومونہے سانپ یا کسی کینچوے کی طرح۔ وہ ایک خط پر دونوں طرف حرکت کرسکتا ہے۔ یعنی آگے اور پیچھے، دونوں طرف۔ کسی معاشرے کی آگے کی طرف حرکت کو ارتقاءکہتے ہیں، جبکہ اگر معاشرہ اُلٹی ، یعنی پیچھے کی طرف حرکت کررہا ہوتو اُسے انحطاط کہتے ہیں۔

ہرمعاشرے میں ہمہ وقت دوقوتیں برسرپیکار ہوتی ہیں۔ ایک معاشرے کو آگے کی طرف متحرک کرنے والی قوت اور دوسری معاشرے کو پیچھے کی طرف متحرک کرنے والی قوت۔ آگے کی طرف متحرک کرنے والی قوت کے پیچھے نوجوان ہوتے ہیں جبکہ اُلٹی سمت میں حرکت کے پیچھے ہمیشہ پرانے لوگ ہوتے ہیں۔ کسی معاشرے میں سب سے نمایاں چیز ثقافت ہوتی ہے۔ ثقافت محض اُس معاشرے کے رسم ورواج کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ اُن کی زبان، لباس، میلے، ٹھیلے، تہوار، اقدار، اخلاق……. حتی ٰ کہ مذہب تک کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

جب کسی معاشرے کی حالت بگڑتی ہے تو اُس کی ثقافت میں بد رسوم داخل ہوجاتی ہیں۔ رسوم ِ بد سے اخلاق تنزل کا شکار ہوتاہے۔ اور معاشرہ مستقبل میں حرکت کرنے کی بجائے ، واپس ماضی کی طرف حرکت شروع کردیتا ہے۔ یہی ارتقاءکے بمقابلہ انحطاط ہے۔ اگر کسی معاشرے کو نشاة ِ ثانیہ کی دولت نصیب ہوتی ہے تو اُس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اُس معاشرے میں کوئی نئی تحریک جنم لیتی ہے جو بنیادی طور پر رسوم ِ بد کے خلاف ایک ارتقائی عمل ہوتی ہے۔ ایسی ہر تحریک کے پیچھے فردِ واحد ہوتا ہے۔ جسے شارع یا مصلح کہتے ہیں۔ شارع کی تحریک کی کامیابی کا واحد راز رسوم ِ بد کی تشخیص اور اُن کے خلاف نفرت کا رجحان پیدا کرنا ہوتا ہے۔

ایسے کسی بھی شارع یا مصلح کی سب سے بڑی طاقت اُس معاشرے کا نوجوان خون ہوتا ہے۔ پرانی قدروں کے رکھوالے مزاحمت کرتے ہیں۔ اور ایسی تحریک کے خلاف پورے زور اور جوش و جذبے سے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ الغرض سب سے پہلے یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ معاشرہ حرکت تو کرتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ حرکت آگے کی طرف ہو۔ ممکن ہے کوئی معاشرہ پیچھے کی طرف حرکت کررہا ہو۔ تو ایسی حرکت کو ہم نہ تو بدلاو کہتے ہیں اور نہ ہی ارتقاٗ‘‘۔

اتنا کہہ کر سقراط تھوڑی دیر کے لیے رُکا۔ لوگ ہکا بکا ………….اُس مفلوک الحال بڈھے کی طرف دیکھ رہے تھے، جسے سقراط کے نام سے پکارا جارہا تھا۔ پروٹاغورث ابھی تک شش و پنج میں مبتلا تھا کہ سقراط آخر اپنی پٹاری سے کونسا سانپ نکالنا چاہتاہے۔ آخر وہ جمہوریت جیسے متحرک نظریہ ءریاست کا مخالف ہوکر بھی معاشرے کی حرکت کو کیسے بیان کرے گا؟وہ بدستور سقراط پر دیدے ٹِکائے ہوئے تھا۔کریٹو …….. اب مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ سقراط اب اپنے موقف کو بخوبی سنبھال لے گا۔ اُس نے قدرے غرور سے پروٹاغورث کے شاگردوں کی طرف دیکھا جو اندر ہی اندر سقراط پر کسی حد تک خار کھائے بیٹھے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد سقراط نے پھر بولنا شروع کیا۔

پالینوس کا بڑا بیٹا…… ہندوستان آتا جاتا ہے۔ وہ وہاں ہندووں کے دیوی دیوتاوں کے قصے بھی سنتاہے۔اور پھر اپنے دیوی دیوتاوں سے جب اُن کا موازنہ کرتا ہے تو اُس کے ذہن میں طرح طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں۔ یوں وہ ہندوستان سے ایسے خیالات درآمد کرنے کا باعث بنتا ہے ، جو معاشرے کے مذہبی عقائد میں چپکے چپکے نفوذ کرتے چلے جاتے ہیں۔

پالینوس کا دوسرا بیٹا محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ پروٹاغورث کا شاگرد ہونے کے ناطے پالینوس اُس سے متاثر اور مرعوب رہتا ہے۔ اس لیے باپ بیٹے کے درمیان موجود اختلافات بھی چھپے رہتے ہیں۔ پالینوس کا تیسرا بیٹا…….. جو ابھی پالینوس کے خیال میں بچہ ہے،اُسکے دونوں بڑے بیٹوں کی نسبت زیادہ سمجھدار ہے۔ وہ باپ اور بھائیوں سے بیزار ہے۔ وہ لاپرواہ نہیں ہے وہ صرف اپنے اوپر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کرتارہتا ہے۔ جسے پالینوس اُس کی لاپرواہی کہہ کر اُسے مزید اشتعال دلاتا رہتا ہے۔ بے شک پالینوس سے پوچھ لو کہ وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو گھڑسواری سے منع نہیں کرتا؟

جب وہ دیکھتا ہے کہ اصطبل کے نوکر تک ،جب چاہیں اچھے سے اچھا گھوڑا اصطبل سے نکالیں اور جہاں چاہیں چلے جائیں مگر وہ ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ اُس کے باپ کے خیال میں وہ ابھی کم عمر ہے اورتیزرفتار گھڑ سواری اُس کے حق میں مضر ثابت ہوسکتی ہے“۔سقراط کا اتنا کہنے کی دیر تھی کہ تمام اہل ِ محفل کی نگاہیں ایک ساتھ پالینوس کی طرف اُٹھ گئیں۔ وہ پالینوس سے سقراط کی بات کی تصدیق چاہتے تھے۔ پالینوس ایک بار پھر بری طرح سٹپٹا گیا مگر جواب تو اُسے دینا تھا۔ اُس نے نہایت دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا،

”ہاں !………. اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میں ”کارمیاس“ کو اکثر بلااجازت گھڑسواری کرنے پر ڈانٹتا ہوں۔وہ ابھی بچہ ہے۔ اُسے صرف گھڑسواری کے سکول میں ………. اپنا شوق پور ا کرنے کی اجازت ہے“۔

پالینوس کی بات ختم ہوئی تو سقراط نے اپنی بات کا ٹوٹا ہوا سلسلہ پھر سے جوڑا۔

”تو یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ والدین اپنی اولاد کو رجحانات منتقل کرتے ہیں۔اور وہ چاہتے ہیں کہ اولاد وہی سب کچھ پسند کرے جو اُن کے زمانے میں پسندیدہ شمار کیا جاتا تھا۔اگر اولاد کوئی ایسی تبدیلی کی خواہاں ہو جو نئی ہونے کی وجہ سے اجنبی ہو تو والدین نامعلوم کے خوف میں مبتلا ہوکر اُس تبدیلی کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ یوں معاشرے میں دو متوازی مگر مخالف طبقے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ والدین کا اولاد کو نامعلوم کے خوف سے نئی چیزوں سے منع کرنا فطری ہے لیکن اولاد کا نئی چیزوں کی طرف مائل ہونا بھی فطری ہے۔ ان دونوں طبقوں کے درمیان جاری جنگ کو ہم جدید و قدیم کی جنگ سے موسوم کرتے ہیں۔

جب کوئی مصلح یا شارع معاشرے کی بدرسوم کے خاتمے کے لیے اُٹھ کھڑا ہوتا ہے تو اُس معاشرے کے نوجوان دو طبقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ ایک وہ جو اپنے والدین سے یا تو راضی ہیں یا اُن کو راضی دیکھنا چاہتے ہیں ، وہ ہمیشہ شارع اور مصلح کی تحریک کے خلاف اپنے والدین کا ساتھ دیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو اپنے والدین سے ، یا اُن کی عادات سے ناراض ہیں وہ نئی تحریک کے بانی شارع یا مصلح کا ساتھ دیتے ہیں اور اس کے لیے قربانیاں بھی دینے سے دریغ نہیں کرتے۔

اگر نئی تحریک غالب آجائے تو وقتی طور پر قدامت پسند طبقہ اُن میں شامل ہوجاتا ہے ۔اور ظاہر کرتا ہے کہ اُسے نئی تبدیلی پسند ہے ، مگر شارع یا مصلح کی وفات کے بعد قدامت پسند طبقہ کے لوگ پھر سے پلٹ جاتے ہیں اور نئی تبدیلی کے خلاف ایک نئے انداز سے برسرپیکار ہوجاتے ہیں ۔ وہ جدید اصطلاحات کو بدستور اختیار کیے رکھتے ہیں مگر قدیم مفاہیم کے ساتھ ۔اور انسانی تاریخ میں یہ سلسلہ جاری رہتاہے۔

بات کہاں سے کہاں نکل گئی تھی۔ پاکستان میں جمہوریت کا خواب دیکھنا عبث ہے ، سے شروع ہونے والی گفتگو اب معاشرے کے جدت پسند اور قدامت پسند طبقے کے درمیان چپقلش تک آپہنچی تھی۔ موضوع کو یوں بکھرتے دیکھ کرکیلیاس کے بیٹے سفیانس نے سقراط کو شہ دی۔

”سقراط ! تم موضوع سے ہٹ گئے ہو! اب تم یہ تسلیم کررہے ہو کہ معاشرے میں حرکت جاری رہتی ہے۔ مگر گفتگو کے آغاز میں تم نے پاکستان میں جمہوریت کی مخالفت کرتے ہوئے اس حرکت سے انکار کیا تھا۔ کیا تم اس بات کو سمیٹ سکتے ہو؟“

سقراط نے مسکراتی ہوئی نظروں سے سفیانس کی طرف دیکھا اور کہا۔

”میں اُسی طرف ہی آرہا ہوں۔ یہاں ہم ایک نہایت لطیف مقام پر کھڑے ہیں۔ تم جسے جمود سمجھ رہے ہو، یعنی جمہوریت کے ذریعے پیدا ہونے والی ارتقائی تبدیلی سے بچنے کی جو میں نے بات کی ………….. وہ جمود نہیں ہے۔ جمود تو یہ ہے کہ تم جمہوریت جو کہ اقلیت کی ، اکثریت پر حکومت کے سوا کچھ نہیں، کی لکیر کو ہمیشہ پیٹتے رہو۔ ایک مصلح کی تحریک اور جمہوریت میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ اول الذکررسوم ِ بد کے خلاف ایک فطری ارتقائی عمل ہے جب کہ ثانی الذکر ایک مصنوعی ارتقائی عمل ہے…………… یعنی…………. “۔

یکلخت پروٹاغورث نے قدرے سخت لہجے میں سقراط کی بات کاٹتے ہوئے سوال کیا،”۔

سقراط ! تم بار بار رسوم ِ بد کس چیز کو کہہ رہے ہو؟ ………..کیا تم ہمارے حال پر مہربانی فرماتے ہوئے ہمیں رسوم ِ طیب اور رسوم ِ بد کے درمیان فرق بتانا پسند کروگے، اگر زحمت نہ سمجھو تو!“۔

سقراط نے اپنی گھنگریالی داڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے پروٹا غورث کی بات سنی اور پھر ساتھ ہی کہا،”۔

کیوں نہیں!……….. رسم ِ بد وہ ہوتی ہے جسے معاشرے کے لوگ دل سے تو برا جانیں مگر اُس کو جاری رکھنے پر مجبور ہوں۔ جیسا کہ جہیز کی رسم ۔ پروٹا غورث تم جانتے ہوکہ یہاں موجود ہر شخص تسلیم کرتا ہے کہ جہیز ایک بری رسم ہے، مگر ایسا کوئی بھی نہیں جو اِ س رسم بد سے پرہیز کرتا ہو۔ اپنے اپنے وقت پر سب جہیز دیتے ہیں اورایک دوسرے سے بڑھ کر دیتے ہیں۔ چنانچہ یہ ایک رسم ِ بد ہے۔ اس کے برعکس رسم ِ طیب وہ ہے جسے نہ تو لوگ دل سے برا جانتے ہوں اورنہ ہی ظاہری طور پر۔

میں تمہیں ایک رسم ِ طیب کی مثال دیتا ہوں۔ ہمارے ہاں دستور ہے کہ عید کے دن شادی شدہ بیٹی یا بہن کے گھر والدین یا بھائیوں کے گھر سے کھانا بھیجا جاتا ہے۔ یہ ایک رسم ِ طیب ہے۔ پورے شہر میں کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہوگا، جو اِس رسم کو ظاہری طور پر یا دل سے برا جانتا ہو۔ چنانچہ اس رسم کو ختم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور نہ کبھی ہوگی“۔سقراط نے اتنی زوردار مثال دی تھی کہ اہل ِ محفل بے ساختہ اُس کی تائید میں سرہلانے لگے۔ پروٹا غورث نے سقراط کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا،”

بے شک سقراط ! تم نے بڑی اچھی مثال سے سمجھایا ہے۔ مگر اب بھی ہمارا اشکال باقی ہے۔ کیا جمہوری ملک میں ایسا خود بخود نہیں ہوتا رہتا کہ وقت کے ساتھ ساتھ بری رسموں کو نئے نئے سیاستدان اجاگر کرتے رہتے ہیں اور اپنے آئندہ حکومتی سالوں کے منشور کے طور پر پیش کرتے اور پھر اسمبلی میں اُن کے خاتمے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ جیسا کہ ”ونی“ کی رسم……… ”ستی“ کی رسم……….. ”وٹے سٹے “ کی رسم …… وغیرہ وغیرہ؟………. تو پھر اس ارتقاءکے بارے میں تم کیا کہوگے؟“

اب سقراط کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ اُس نے نہایت نرم لہجے میں پروٹا غورث سے کہا،

”بس یہی میرا مدعاہے کہ جمہوری حکومت میں رجحانات کو مصنوعی طور پر تبدیل کیا جاتا ہے ، فطری تقاضوں کے مطابق نہیں۔ تحریکوں کا قدرتی وجود ………… وہ تبدیلی لاتا ہے ، جس کی ضرورت عالم ِ مشہودات کی آنکھ پہلے سے محسوس کررہی ہوتی ہے“۔

۔سقراط تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہوا تو……….. پروٹاغورث کے ایک اور قابل شاگرد جو کافی دیر سے خاموش بیٹھا تھا، گلا کھنکھار کر گویا ہوا، یہ برناسیس تھا۔

”سقراط………. تم نے اپنی گفتگو میں معاشرے کی حرکت کی اصطلاح بار بار استعمال کی ہے۔ تم معاشرے کی حرکت کو کیا سمجھتے ہو؟ …………. کیا تمہاری نظر میں ایک جمہوری معاشرہ غیر متحرک معاشرہ ہوتا ہے؟……… کیا دنیا میں موجود جمہوری ممالک اِس بات کی کافی و شافی مثالیں پیش نہیں کرچکے کہ جمہوریت ایک متحرک معاشرے کو تخلیق کرتی ہے؟

جاری ہے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *