بند ہوتے دروازے (28)۔۔وہاراامباکر

دماغ پر اپنے ابتدائی دنوں میں اس قدر تیزی سے نشان پڑتے ہیں کہ کئی بار اس وجہ سے مشکل ہو جاتی ہے۔ مثلاً، مرغابی کا بچہ انڈے سے نکلتا ہے اور پہلی حرکت کرتی ہوئی چیز کو اپنی ماں سمجھ لیتا ہے۔ یہ کامیاب حکمتِ عملی ہے کیونکہ پہلی چیز ماں ہی نظر آئے گی لیکن اسی وجہ سے گڑبڑ بھی ہو سکتی ہے۔ کونراڈ لورینز نے اس پر 1930 کی دہائی میں تجربہ کیا تھا۔ ان کے انڈوں سے نکلنے کے بعد ان کے سامنے آ گئے تھے اور پھر یہ بچے ان کے پیچھے پیچھے ہی رہتے۔
مرغابی کے لئے والدہ کا نشان بننے کے لئے ایک مختصر سا وقت تھا جس کے بعد یہ دروازہ بند ہو گیا۔ لیکن اس کے علاوہ وہ اپنی زندگی میں کئی اور چیزیں سیکھتی رہتی ہیں۔ مثلاً، دریا کہاں ہے، خوراک کہاں سے ملے گی۔ یا پھر دوسری مرغابیوں کو پہچاننا زندگی بھر میں سیکھا جاتا ہے۔
مختلف کاموں کے لئے حساس دورانیے بھی مختلف ہوتے ہیں۔ دماغ کے تمام علاقے ایک ہی جتنے پلاسٹک نہیں ہیں۔
کیا اس کے پیچھے کوئی پیٹرن بھی ہے؟
محققین نے ویژویل کورٹیکس کو سٹڈی کیا کہ بالغ کے لئے آنکھ میں پہنچنے والے ضرر کے بعد کیا ہوتا ہے؟ کیا ہمسائے علاقے اس نا استعمال ہونے والے ٹشو پر قبضہ کر لیں گے۔ نہیں، اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔ غیرفعال علاقہ غیرفعال ہی رہا۔ یہ جواب غیرمتوقع تھا۔ اس کے مقابلے میں چھونے اور موٹر علاقوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ اور یہ وہ وجہ ہے کہ ہم بڑے ہو کر بھی گلائیڈنگ یا سکیٹنگ سیکھ سکتے ہیں۔
تو پھر یہ فرق کیوں؟ پرائمری ویژویل کورٹیکس میں چند برسوں کے بعد تالا کیوں لگ جاتا ہے؟ ایسا کیوں کہ آٹھ سالہ لڑکا جو بھینگے پن کا شکار ہو، وہ ایک آنکھ سے دیکھنا ہمیشہ کے لئے کیوں بند کر دیتا ہے۔ جبکہ مفلوج ہو جانے والا اٹھاون برس کا مریض بھی روبوٹک بازو کا استعمال سیکھ لیتا ہے؟
دماغ کے مختلف علاقے لچک کے مختلف شیڈول پر عمل کرتے ہیں۔ کچھ مختصر وقت کے لئے حساس ہیں، کچھ دیر تک۔ کچھ تبدیل نہیں ہوتے، کچھ ہر وقت ہوتے رہتے ہیں۔
کیا اس کے پیچھے کوئی عمومی اصول بھی ہے؟ اس کا تعلق کسی حصے میں پراسس ہونے والی انفارمیشن کی ساخت سے ہے۔ کچھ حصے پوری عمر کے لئے سیکھنے کے لئے ہیں۔ مثال کے طور پر الفاظ کے ذخیرے میں اضافہ۔ نیا چہرہ پہچان کر سٹور کر لینا۔ کسی جگہ کا راستہ سیکھنے کی صلاحیت۔ یہاں لچک قائم رہے گی۔ کچھ علاقے مستحکم رہیں گے۔ مثال کے طور پر دیکھنے کی صلاحیت، کھانا چبانے کا طریقہ، گرائمر کے عمومی اصول۔ اور یہاں پر جلد تالا لگا دینے کی ضرورت ہے۔
اگلا سوال یہ کہ دماغ کو کیسے پتا ہے کہ کس حصے کو جلد تالا لگانا ہے اور کس حصے کو نہیں؟ کیا یہ جینز میں ہے؟ ممکن ہے کہ اس کا کچھ حصہ ہو لیکن اس کا تعلق بیرونی دنیا سے بھی ہے۔ اگر ڈیٹا کی ساخت مستحکم ہے تو اس کو پراسس کرنے والا سسٹم سب سے پہلے پختہ ہو جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انفارمیشن کی تنظیم تہہ در تہہ ہے۔ مثال کے طور پر بصارت میں نچلی سطح پر رنگ، زاویوں، کونوں کی پہچان ہے۔ اوپر والی سطحوں پر اپنی گلی کا نقشہ، گاڑی کا ماڈل وغیرہ۔ انفارمیشن کی سب سے نچلی سطحیں زندگی کی بالکل ابتدا میں سیکھ لی جاتی ہیں اور ایک بار مضبوط ہو جانے کے بعد یہاں پر تبدیلی بہت کم آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی مثال سمجھنے کے لئے لائبریری کو ایسے انفارمیشن سسٹم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ چیزوں کو ابتدا میں مقفل کر دینے کی ضرورت ہے۔ عمارت کا آرکیٹکچر، شیلفوں کی جگہ، تنظیم کے لئے ڈیوی ڈیسیمل سسٹم۔ جب یہ ٹھیک طرح ہو جائے تو کتابوں کا ذخیرہ لائبریری کی تمام عمر بدلتا رہے گا۔ آمدورفت جاری رہے گی۔ پرانی کتابیں ریٹائر بھی ہو جائیں گی، نئے عنوانوں کا اضافہ بھی ہو سکے گا۔ لائبریری کی توسیع بھی کی جا سکے گی۔ مضبوط بنیاد پر اچھی لائبریری اپنی ترمیم اور توسیع آسانی سے کر سکتی ہے۔ ازسرِ نو یہ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں کہ تنظیم کے لئے اصول کیا بنایا جائے۔
ٹھیک وقت پر ٹھیک دروازوں کا بند ہوتے جانا اگلے سفر کے لئے اہم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینیات میں بھی ایسا ہی ہے۔ سائنس میں ابھی جینوم کو سمجھا جا رہا ہے لیکن جینز میں بھی ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ کچھ علاقے دوسرے کے مقابلے میں مقفل ہیں۔ ان میں تبدیلی مشکل ہے جبکہ کروموزوم کے کچھ علاقوں میں ویری ایشن زیادہ آتی ہے۔ جینیات میں ویری ایشن بھی ہماری دنیا کے فیچرز کا عکس ہے۔ مثال کے طور پر جلد کے رنگ کی پگمنٹ کے جین میں تبدیلیاں زیادہ عام ہوں گی لیکن وہ جین جو شوگر توڑنے والی پروٹین کو کوڈ کرتے ہیں مستحکم ہیں کیونکہ یہ ایک لازمی فیچر ہے۔
اگر جانداروں کو انفارمیشن مشین کے طور پر دیکھا جائے تو ایک بہت ہی نفیس نقشہ بنتا جاتا ہے جو تہہ در تہہ انفارمیشن کی آبشار ہے۔
وہ انفارمیشن جو نسل در نسل چلنے والی ہے، وہ جینز میں ہے۔ اس انفارمیشن میں بھی مختلف سطحیں ہیں۔ کچھ وہ جن میں تبدیلی شاذ ہے۔ کچھ میں تبدیلی زیادہ عام ہے۔ اس سے اوپر ایپی جینیٹکس کی تہہ جو ان جینز کا ایکسرپشن کنٹرول کرتی ہیں۔ کچھ انفارمیشن ایک نسل سے اگلی تک بھی لے کر جاتی ہیں۔ اس سے اوپر انفارمیشن کی سطح خود انفرادی جاندار میں ہے۔ اس میں سے بھی کچھ انفارمیشن پوری عمر مستحکم رہتی ہے، کچھ طویل عرصے کے لئے، کچھ وقت کے ساتھ بدلتی ہے، کچھ بالکل عارضی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر جاندار خود انفارمیشن کے بڑے جال کا ایک یونٹ ہے اور خود اس یونٹ تمام انفارمیشن کی آبشاروں کا نتیجہ ہے۔ وہ بھی جو اربوں سال میں جمع ہوئی ہے۔ وہ بھی جو عمر بھر میں نقش ہوئی ہے۔ وہ بھی جو آج ہی حاصل کی ہے۔ شوگر توڑنے کا کارنامہ، خلیوں کی تقسیم، عضو بنانے کی ترکیب، جراثیم سے مقابلہ، اندھیرے کا خوف، محبت اور خواہش، نام اور چہرے، شناخت اور یقین، علم اور وہم، سودے کی فہرست یا کسی کا فون نمبر ۔۔۔۔ اس انفارمیشن مشین کی تہہ در تہہ قسم قسم کے طریقوں سے پائی جانے والی انفارمیشن ہے۔
(جاری ہے)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *