بھکاری ۔۔۔ہمایوں احتشام

 تم ہسپانوی میں لکھتے ہو ؟ اس نے عجب انداز میں پوچھا۔ ۔میں نے کہا، ہاں صرف صفحے سیاہ کرتا ہوں۔ باقی کبھی بھی کوئی شاہکار نہ لکھ پایا، شاید میری اتنی سکت نہیں یا میرے اندر موجود وہ تالاب سوکھ گیا ہے جس پہ تخلیق کے پرندے پانی پینے آتے تھے۔

اس نے تفکرانہ انداز میں اپنی سلجھی ہوئی زلف میں انگلی گھماتے پوچھا، “تالاب کیوں سوکھ گیا ؟

” جب وہ یہ سوال پوچھ رہی تھی تو میں اس مخمصے کا شکار تھا کہ جب اس کی زلف بالکل سنوری ہوئی ہے تو اس میں انگشت ڈال کے الجھایا کیوں جارہا ہے۔ میں نے ویسے ہی اپنے خاک آلود بالوں میں ہاتھ پھیرا تو وہ شدید الجھے ہوئے تھے، شاید خود میری طرح۔ اس دوران اس کی چھینک نے میری الجھن سلجھانے کا تسلسل توڑ دیا۔ میں مغموم ہوا کہ جب بھی الجھن سلجھانے بیٹھتا ہوں تو ضرور کسی انہونی کی مداخلت تسلسل کو توڑ دیتی ہے، اور میں اس کو سلجھانے میں ناکام ہوجاتا ہوں۔ اس نے دوباره تالاب کے خشک ہونے کی بابت پوچھا۔ اور مجھے دنیائے خیال سے پھر واپس آنا پڑا۔ وہ خوبصورت نہیں دکھ رہی تھی، یا شاید وہ میرا تخیل تھا جو اسے حسین بنا دیتا ہے۔ اللہ کی اللہ جانے !!

میں گویا ہوا، “آلودگی”ـ وہ حیران ہوئی، اندر کون سی آلودگی ہوتی ہے؟ اندر تو کوئی چمنی بھی نہیں اور نہ ہی کوئی موٹر کاریں دوڑ رہی ہیں، نہ ہی آتشں فشاں پھٹ رہے ہیں۔ ایسے میں اندر کی آلودگی عجب اصطلاح ہے۔ میں نے اب کی بار اس کے سلجھتے بالوں کی جانب نہیں دیکھا۔ وہ بالکل عام سی  لڑکی تھی، اتنی عام کہ  اس کو خوبصورت بنا کے دکھانے پر مجھے اپنے تخیل سے نفرت کرنی چاہیے۔ جھوٹا، فریبی اور شعبدہ باز۔ میں نے ہریالی کی جانب یعنی سامنے دیکھا اور گویا ہوا، ” اندر جذبات پکتے ہیں، ظلم، ناانصافی اور جبر کے خلاف۔ ان جذبات کا اظہار نہایت ضروری ہے، مگر جب منہ پہ تالے ثبت کردیے جائیں، بولنا جرم ٹھہرے تو یہ جذبات تحلیل ہوجاتے ہیں۔ مگر یہ تحلیل پذیری کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی کیفیت پیدا کرتی ہے، اور یہی کیفیت آگے چل کر آلودگی بنتی ہے۔ انسان میں دوسرے انسانوں سے محبت کا جذبہ موجزن رہنا چاہیے، مگر جب نفرت اور استحصال کے جذبات رواں دواں ہوں تو خود سوچو کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور نائیٹروجن ڈائی آکسائیڈ سی کیفیات پیدا تو ہوں گی ہی۔پس جب اندرون خانہ درجہ حرارت بڑھا تو اندر کے تالاب کا پانی بخارات بن کر اڑ گیا  اور پانی کو ترستی زمین رہ گئی۔ جب تخلیق کے پرندے آئے، انھوں نے خشک تالاب دیکھا تو دکھ بھری نظر سے مجھ پاس کھڑے تخلیق کے بھکاری کو دیکھا اور تف دیتے اڑ گئے۔ بس تب سے میں کچھ نہیں لکھ سکتا۔ خود بتاؤ، جب پرندے ہی چلے گئے تو بھلا تخلیق کا جوہر کہاں سے پھوٹے گا؟”

میں نے اس سے پوچھا، کیا تم مجھ سے مرعوب ہو ؟۔۔۔ اس نے کھلے دل سے کہا، جب کسی سے مرعوب ہوا جاتا ہے تو اس کے اوصاف دیکھے جاتے ہیں اور تم تو بے وصف انسان ہو، تم میں متاثر کرنے والی کوئی چیز نہیں۔ سارا دن سیاست اگلتے ہوئے، پھر ملغاظات بکتے ہو، سب کی طرح بیروزگاری کو برا بھلا کہتے ہو، احتجاجوں میں جاتے ہو، اپنے استادوں کی تعریف کرتے ہو، غریبوں کے لیے نوحے لکھتے ہو، بس اس کے سوا کچھ آتا ہے؟ جو عام زندگی کے کاموں سے ہٹ کے ہو؟ میں لاجواب ہوگیا۔ بیشک اس کی باتوں میں مکمل سچائی تھی۔

پھر وہ گویا ہوئی، ہاں مگر تمہارا آئینہ بڑا حسین ہے، جس سے تم دوسروں کو ان کی حقیقی شکل دکھاتے ہو۔ لیکن اس آئینہ سے کبھی خود کو بھی دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو ابھی دیکھو۔ میں نے آئینہ نکالا اور خود کو دیکھا۔ میں ششدر رہ گیا۔ میں تو بہت بدنما اور بھدا تھا۔ دوسروں سے بھی کہیں زیادہ۔ وہ گویا ہوئی ” جب تمہاری محبوبہ کو دکھ سنانے کے لیے کسی شخص کی ضرورت تھی، تم بالٹک سے آلاسکا تک یکجہتی کی گردان سنا رہے تھے، جب اس کے آنسو پوچھنے کے لیے تمہارے ہاتھ چاہیے تھے تب تم تقریریں لکھ رہے تھے۔ جب اس کے الجھے بالوں کو سلجھنے کی ضرورت تھی تم ہاتھ میں بینر پکڑے مظاہرے منعقد کرا رہے تھے۔ تم ہاتھ سے ادب کے کدال چلاتے رہے، انقلاب کی شمع لوگوں کے دل میں جلاتے رہے مگر اپنے اندر جھانک کے نہیں دیکھا۔ تم نے اپنے پیارے کہیں پیچھے چھوڑ دیے۔

” اب کی بار میں نے اس کے چہرے کی جانب دیکھا تو یہ مزید بدنما ہوگیا تھا۔۔۔ میرا تخیل  فریبی، جھوٹا اور دغاباز ہے۔ اور میرا آئینہ وہ تو منافق ہے، تصویر کا ایک پہلو کیوں دکھاتا ہے؟ میں جذبات سے مغلوب ہوگیا اور پھر میں نے وہ آئینہ توڑ دیا۔ اب میں ایک ایسا آئینہ لوں گا جس میں، صرف میں خود نظر آؤں  گا۔

اس نے مجھ سے پوچھا، “حسن کیا ہے ؟” میں نے گٹکا نکالا اور منہ میں ڈال کے چباتے ہوئے کہا، “وہ شخص جو تمہیں گھورتا ہوا جارہا ہے، اس کے نزدیک تم حسین ہو اور بدقسمتی سے میرے  نزدیک تم عام سی لڑکی ہو۔”

اس نے میری جانب دیکھا، اس کی آنکھوں میں درد تھا۔ اس نے غم سے لبریز آواز میں کہا، “لوگوں کے دل رکھنا بھی نیکی کا کام ہے۔” میں نے اس کی بات نظر انداز کردی اور پاس کھڑے ایک بھکاری کو غور سے دیکھنے لگا، میرے دل میں اس کے لیے محبت تھی۔ ویسے عادتاً میں نے مڑ کر اس کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھوں میں وہی جذبات تھے جو بھکاری کے لیے میری آنکھوں میں تھے۔ یعنی جذبات رحم۔ کیا میں قابل رحم ہوں ؟ ویسے بھکاری اور میں دونوں ایک ہی قبیل کے نمائندہ ہیں۔ وہ اگر بھیک میں پیسے مانگتا ہے تو میں تعریف۔۔ کیا کوئی فرق ہے ؟

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *