اندھی تقلید

کیا لکھوں اس ملک کے حالات و واقعات پر جہاں پلک جھپکتے ہی کچھ بھی ہوجاتا ہے۔ابھی ایک واقعے کی گونج پر پورا ملک سیخ پاء ہورہا ہوتا ہے کہ اچانک سے دوسرا واقعہ وجود میں آجاتا ہے۔یہ ملک کم طلسماتی جزیرہ زیادہ لگتا ہے ۔جہاں روز نت نئے تماشے لگتے رہتے پیں۔ تماشے بھی ایسے کہ اللہ کی پناہ۔جہاں چور ،غدار کو سزا دینی ہوتی ہے وہاں یہ قوم اسے بچانے کی کوشش کرتی ہے لیکن اسی ملک میں جب ایک پڑھے لکھے تعلیم یافتہ نوجوان پر جھوٹا گستاخی کا الزام لگایا جاتا ہے تو یہی قوم اس بےگناہ کو مارنے پر تیار ہوجاتی ہے۔اس قوم کا یہ حال ہے کہ اگر کوئی شخص بیچ چوراہے میں ایک نعرہ لگادے کہ گستاخ ہے مارو۔۔مارو۔۔تو یہ قوم ایک بے ہنگم ہجوم کی طرح ٹوٹ پڑتی ہے اس شخص کو مارنے کے لیئے جس پر الزام لگا۔۔یہ جانے بغیر کہ اس کا گناہ کیا تھا؟ گستاخی کیا سرزد ہوئی؟ ہوئی بھی یا بس ایک جھوٹا الزام؟۔۔۔ لیکن یہاں تک پہنچا بھی نہیں پاتے اور کام تمام ہوجاتا ہے۔اسلام تو بغیر تصدیق کیئے کسی کو سزا نہیں دیتا۔ اس ملک میں ہر قسم کے لوگ موجود ہیں ،ڈاکو ،دہشتگرد، غدار ،زانی،چور لٹیرے۔۔۔اگر یوں کہا جائے کہ یہ ملک آماجگاہ ہے ،مسکن ہے ہر قسم کی برائی کا تو بے جا نہ ہوگا۔
روز چیخ چیخ کر قوم کو ٹی وی ٹاک شوز میں یہی بتایا جاتا ہے کہ کون گناہ میں کتنا ڈوبا ہوا ہے، اس ملک کی عدالتوں سے لیکر عوام تک سب جانتے ہیں کہ کون کتنا بڑا چور اور غدار ہے۔۔ لیکن نہ اسے عدالت سزا دیتی ہے۔نہ ہی قوم اس پر کوئی احتجاج کرتی ہے۔چا ہیے تو یہ تھا کہ قوم ان لوگوں کا محاسبہ کرتی،احتجاج کرتی اور ان چور لٹیروں کو سزا دلواتی لیکن افسوس۔۔۔کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، جہاں چوروں کے ہاتھ کٹنے چاہییں ، زانی کو سنگسار ہونا چا ہیے، دہشتگرد کو الٹاٹکانا چاہیے ،غداروں کو سزا ملنی چاہیےلیکن افسوس یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ۔۔۔لیکن یہاں ایسا ضرور ہے کہ ایک نوجوان اپنے باپ کو اس لیئے قتل کر دے کہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا تھا،باپ بیٹی کو قتل کر دے تو کہیں دیور بھابھی کی جان لے لے۔یہ سب غیرت کے نام پر ہوتا ہے اور اگر بات غیرت کی ہی ہے تو وہ سب سے پہلے ہمارے حکمرانوں کو آنی چاہیے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

Avatar
Khatak
مجھے لوگوں کو اپنی تعلیم سے متاثر نہیں کرنا بلکہ اپنے اخلاق اور اپنے روشن افکار سے لوگوں کے دل میں گھر کرنا ہے ۔یہ ہے سب سے بڑی خدمت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *