عظیم مغلوں کی ہندوستان کیلیے لا جواب خدمات۔

حسین مجروح، حلقہ ارباب ذوق کے پرانے ممبر ہیں اور آجکل اسکے سیکریٹری ہیں، انکے ساتھ ہماری گفتگو کے لمبے سلسلے چلتے رہتے ہیں۔ ہم ایک مشترکہ دوست کے آفس میں بیٹھے ہوے تھے کہ مغلوں کے دور اقتدار کا ذکر ہو گیا۔ وہاں پر بیٹھے ایک صاحب نے کچھ عرصہ قبل لوکل ٹی وی پر چلنے والے ایک کمرشل ایڈ کی طرف توجہ دلائی جس میں کسی عاقبت نااندیش نے چند ایسی غیر اہم اور ناقابل فہم باتیں کی تھیں جو عموما سماجی تاریخ کے جغادری لکھاریوں کی کتابوں یا علم کیمیا کے ذریعے سونا بنانے والے گھٹیا کاغذکے رسایل میں ملتی ہیں، جو انارکلی بازار میں پان دس روپے میں بغیر کسی تکلف کے مل جاتے ہیں۔ مثلا یہ کہ جب عزت مآب شاہ جہاں تاج محل کی تعمیر کے ذریعے تاریخ اور رومانوی ادب دونوں کی خدمت کر رہے تھے تو اس وقت فلاں فلاں ملک میں فلاں فلاں نام کی یونیورسٹی تعمیر ہو رہی تھی، وغیرہ وغیرہ۔

بعض اوقات کوئی دانشورانہ بات بڑے زور سے آجاتی ہے لیکن اس کا کوی خاص مطلب نہیں ہوتا ماسواے اسکے کہ اہل محفل کو اپنی موجودگی کا ناگوار احساس دلایا جاے، یا اگر کوی کام کی بات ہونے لگے تو اسے غطر بود کر دیا جاے، یا کسی دوسرے ادیب یا شاعر کی ناجایز حد سے طویل تعریف ہونے لگے تو اسے کمال مستعدی اور لاجواب استادی سے کسی مناسب سمت میں موڑ دیا جاے۔یہ کمرشل ایڈبھی کچھ ایسی ہی دانشمندانہ باتوں پر مبنی تھا۔

ایسے دانشورانہ شوشے عموما بائیں بازو کے وہ دانشور چھوڑتے ہیں جن کو اب ان کے گھر والے بھی سنناپسند نہیں کرتے اور اگر بالفرض ناشتے کی میز پر بہ امر مجبوری سنتے بھی ہیں تو ایسے جیسے آجکل کے نوجوان،باپ دادا کی نصیحت کو۔۔۔۔یا لا کالج میں پروفیسر امان اللہ ملک کے لیکچر میں ان طالبعلموں کی طرح جوعین لیکچر کے دوران اپنے سیل فون پر کسی خاتون سے ٹیکسٹ میسیج کے ذریعے قانون فطرت سمجھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے دانشوروں کے بارے میں معروف صوفی بزرگ حضرت بلھے شاہ نے بوہتے علم کے شیطانی ہونے طعنہ دیتے ہوے اس سے بچنے کی نصیحت کی تھی۔

ہم کچھ دیر ان صاحب کی ایسی بے علمی پر مبنی باتیں سنا کیے۔ پھر جب حسین مجروح نے اپنی فطرت کے عین مطابق عظیم مغلوں کی خانگی زندگی پر کچھ تبری کیا، تو ہم نے ان سے گزارش کی کہ وہ اپنے طعنے عالمی سامراج کیلیے سنبھال کر رکھیں یا رعایت اللہ فاروقی صاحب کو دیں جو ایسا جوابی بغدہ ماریں گے کہ کامل تشفی ہو جاے گی۔ پھر ان صاحب کے اس سوال پر کہ آخر مغلوں کی خدمات کیا ہیں؟ ہمیں یہ یقیں ہو گیا کہ موصوف علم کے میدان سے کوسوں دور ہیں۔ ہم نے ان سے عرض کی ویسے تو مغلوں کی خدمات کے مکمل احاطہ کیلیے دفتر کے دفتر درکار ہیں، لیکن جن چیدہ چیدہ خصوصیات کا ہمیں علم ہے وہ گوش گزار کیے دیتے ہیں۔

سب سے پہلی خصوصیت تو یہ ہے کہ انہوں نے 332سالہ بادشاہت قائم کر کے ساری دنیا میں ہماری آبرو بچالی۔ آپ دیکھیں کہ دنیا میں جتنی عظیم قومیں ہیں وہ لمبی لمبی بادشاہتوں کے نتیجے میں ہی پیدا ہوی ہیں۔ انگلستان میں دیکھو کتنے سو سال سے بادشاہت قائم ہے، مصر میں 3070سال تک بادشاہت قائم رہی، نیپال میں 250 سال۔ اگر آپ ان قوموں کے لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوں اور یہ سوال اٹھایا جاے کہ کس قوم میں کتنی لمبی بادشاہت رہی تو کیا آپ میاں نوازشریف کی بادشاہت کا ذکر کریں گے؟ اور بتایے آپ مغلوں کے ذکر کے بغیر اپنا وقار کیسے بچایں گے؟

اب آپ اپنی کم علمی کی وجہ سے لازما سوال کریں گے کہ بادشاہت کا لمبے عرصے تک چلنا کہاں سے قابل تکریم ہو گیاتو میں عرض کیے دیتا ہوں کہ حضور جہالت کا کوئی علاج آج تک دریافت ہو سکا ہے بھلا؟ جہاں لمبی بادشاہت ہو وہیں تو وہ پر سکون ماحول ملتا ہے جس سے تمدن پیدا ہوتا ہے جس کی بدولت لوگ ذہنی طور پر صحت مند رہتے ہیں۔ تمدن کا شہنشاہیت سے گہرا تعلق ہے، شہنشاہ کو اپنے درمیان حاضر موجود دیکھنے سے جو روحانی وارفتگی اور ذہنی تعیش حاصل ہوتا ہے اور دل کو جو اطمینان اورراحت نصیب ہوتی ہے اور چہرے پر جو شادابی آتی ہے وہ آجکل تو صرف عدالت عالیہ کے ریڈروں کے چہروں پر ہی نظرآتی ہے۔ جب بادشاہ کی ایک جھلک دیکھنے سے اتنی تجلیات کا ظہور ہوتا ہے تو اس کے قرب کا کیا عالم ہوتا ہو گا یہ صرف دہلی کے مکین ہی جانتے ہیں جو حقیقی طور پر مغلوں کے ان احسانات کے حقیقی وارث ہیں جو مغلوں نے جلی و خفی طور پر تمدن پر کیے۔ یہ باتیں بارڈر ایریا کے پاس موضع کنگن پور تحصیل چونیاں کے سادہ لوح دیہاتی کہاں سمجھ سکتے ہیں؟ آپ دیکھیے کہ دہلی والوں نے کیا کمال کا تمدن پیدا کیا تھا اور کیسی کمال کی ریختیاں تخلیق کی تھیں۔ اور بادشاہت کے بعد انکی ذہنی حالت کیا ہوئی، بالکل ویسے ہی جیسے سویت یونین کے انہدام کے بعد مارکسسٹی دانشوروں کا حال ہوا تھا۔

ایک عظیم تمدن کے علاوہ انکا دوسر ا احسان یہ ہے کہ انہوں نے اشوک کے بعد ہندوستان کو مرکزی حکومت کی نعمت بخشی تھی جس سے ہندوستان کے باسی نہ صرف افغان حملہ آوروں سے محفوظ ہوے بلکہ ہمیں کورس کی کتابوں سے ان نیک طینت حملہ آوروں کی اسلامی خدمات یاد کرنے کی بلاجواز تکلیف سے نجات حاصل ہوئی۔ قریشی صاحب کا لکھاہوا سرکاری سچ آخر کہاں تک یاد رکھا جا سکتا ہے؟

انکا تیسرا احسان یہ ہے کہ انہوں نے ساری دنیا کو بتا دیا کہ ہم صرف گرم مصالحے، ململ، لونڈیاں اور غلام ہی نہیں ایکسپورٹ کرتے رہے بلکہ عالی شان عمارات کی تخلیق میں بھی ہمارا نام قوموں میں بڑے تپاک سے لیا جاتا ہے۔ جو طرز تعمیر انہوں نے متعارف کرایا اسکی جملہ خصوصیات تو نیر علی دادا کا دادا بھی نہیں گنوا سکتا لیکن آپ ملاحظہ کیجیے کہ تاج محل کو کون نہیں جانتا؟ تاج کی خوبصورتی کو سمجھنے کیلیے آپ کا آرکیٹیکٹ ہونا لازم نہ ہے اور وہ وایسئسراے کی بیوی آپ کو بھول گئی جس نے تاج کو دیکھتے ہی اپنے میاں سے کہا تھا کہ اگر وہ اسکے لیے ایسا مقبرہ بنوا نے کا وعدہ کرے تو وہ اسی وقت مرنے کو تیار ہے۔ ان یونیورسٹیوں سے پڑھا لکھا کوی ماں کا لال کر کے دکھاے نہ ایسا! اور ساحر لدھیانوی نے تو محض اپنے کسی ذاتی رنج کی وجہ سے تاج محل کو بدنام کرنے کی اپنے تئیں کوشش کی جو بفضل خدا بری طرح ناکام ہوئی۔ اس نے جو کہا تھا کہ

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق۔

بھلا غریب آدمی کا محبت سے کیا تعلق؟ ارے بھائی،غریب آدمی کو کوئی خوش ذوق محبوبہ منہ ہی کہاں لگاتی ہے؟ وہ بیچارہ تو کسی منکسر المزاج محبوبہ کی شاپنگ کے اخراجات ہی نہیں اٹھا سکتا۔کسی نیک بخت کو عید، شب برات پہ قیمتی تحائف دینا تو بہت دور کی بات ہے۔ ہاں البتہ بے سروپ ا غزلیات لکھ کر اپنی ناآسودہ خواہشات پر آٹھ آٹھ آنسو رو سکتا ہے۔

اس سے ہر گز یہ مطلب نہ لیا جاے کہ ہم عشق و محبت کے بالکل خلاف ہیں بلکہ ہم تو اسکے بہت داعی ہیں۔ لیکن انسان کو محبت کرنے سے قبل اپنی اوقات بھی تو دیکھنی چاہیے۔ یہ کیا کہ نرے ادبی ذوق کے ساتھ کسی عزت دار شریف خاتون کے پیچھے پڑ جاے اور اگر وہ تمیز کے دائرے میں رہتے ہوے اوقات یاد دلا دے تو لمبی لمبی غزلیں لکھنا شروع کر دے، شاعرانہ وضع قطع اختیار کرے اور حلقہ ارباب ذوق میں جا بیٹھے۔ جو عمارات مغلوں نے تعمیر کی تھیں انہوں نے ساری دنیا میں ہمارا نام روشن کیا، ہارورڈ یا آکسفورڈ کا تاج محل سے مقابلہ کرنا تو حد درجے کی بدذوقی ہے۔

اور صاحب مغلوں کے کیا کہنے، ابھی تک تو آپ نے صرف انکی قائدانہ صلاحیتیں ہی سنیں، لیکن آپ کیا جانیں کہ کتنے خوبرو جوان مغل شہزادے انسان کی مسرت کے ذریعے سے روحانی بالیدگی کی تحقیق میں اپنی جان کی بازی لگا گئے۔ طب یونانی کے فروغ میں انکی خدمات سونے کے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔محض اس امر کی تحقیق کیلیے کہ نشاط کے ذریعے انسانی روح ابدیت کیسے حاصل کرتی ہے، انہوں نے افیون جیسی پاکیزہ صوفیانہ شئے کے ایسے ایسے مرکبات کو بذات خود پر استعمال کرنے کی جرات رندانہ کی جن کا واحد مقصد لمحات نشاط کو ابد تک بڑھاناتھا۔ کئی ناتجربہ کار روسیاہ حکما و اطبا کے بناے ہوے کشتہ جات کے استعمال سے، کئی متوقع تاجدار مسافر راہ عدم ہوے۔ پورے انگلستان اور یورپ میں ایسا ایک بھی جری بے باک اور جراتمند شہزادہ تو دکھائیے۔

اگر آپ اس آخری پیراگراف کو نہیں سمجھ سکے تو، یا تو آپ ابھی بالغ نہیں ہوے یا آپ نے گرو رجنیش کے عظیم فلسفہ نشاط کی فکر کا مطالعہ نہیں کیا۔ ہر دو صورت میں قصور آپکا نہیں ہے بلکہ برادرم انعام رانا کا ہے جن کی طنزیہ کالم کی فرمائش پر یہ تحریر راقم کے قلم سے نکلی۔

Avatar
میاں ارشد
لاہور میں مقیم، پیشہ وکالت سے وابستہ۔ بے ضرر ہونے کو انسان کی معراج سمجھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *