محترمہ مریم کا ارشاد ہے کہ “عمران خان ایک بے روزگار آدمی ہے”
مریم. نواز ایسا اعتراض کرنے میں حق بجانب ہیں کیونکہ وہ اس خاندان کی دختر نیک اختر ہیں جس کے فرزندان شریف آف شور کمپنیاں پہلے کھولتے ہیں بالغ بعد میں ہوتے ہیں.
اور یہ بات کوئی الزام محض نہیں. سپیکر قومی اسمبلی نے افتخار چودھری صاحب کے جس ریفرنس کو مسترد کیا تھا اس میں ثبوت موجود تھا کہ آف شور کمپنی کھلواتے وقت معصوم بچوں کے شناختی کارڈ نہیں بنے تھے اس لیے بانالغ بچوں کے فارم ب لگا کر کام چلایا گیا.
———-
نونہالان انقلاب کو جب رائے ونڈ کے جی ٹی روڈ پر بریکاں لگیاں اور قائد انقلاب ابرار الحق نے دعوت مبارزت دی کہ “کپتان خاں دے جلسے اچ اج میرا نچلے نوں جی کردا”…….. تو رائے ونڈ میں زلزلہ تو لازمی آئے گا. البتہ یہ معلوم نہیں کہ ریکٹر سکیل پر اس کی شدت کیا ہو گی
———
آزاد میڈیا کو دیکھتا ہوں تو نواب زادہ نصراللہ خان یاد آتے ہیں. ترنگ میں ہوتے تو کہا کرتے : “اگےبھابھو نچنی اتوں ڈھولاں دے گھمکار.
نواب صاحب تو جنت مکانی ہو گئے ہمارے حصے میں ایسی بھا بھو نچنیاں آئی ہیں جو 24/7 ڈگڈگی بجاتی ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔
نجی ٹی وی پر ایک ڈرامہ چلتا ہے. “بلبلے”
اس میں مو مو اپنے شوہر محمود سے کہتی ہے چلو اندر چل کر آرام کریں. محمود صاحب کہتے ہیں وہ جو ہم. اندر چل کر کریں گے کیا وہ آرام ہو گا؟

یہی حال آج عمران اور شیخ رشید کا ہے. آدمی سوچتا ہے یہ دونوں جو کچھ کر رہے ہیں کیا اسے انقلاب کہا جائے گا۔
Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں