دو روپے سے دو لاکھ تک۔۔۔۔ محمد افضل

انسان کی زندگی میں کبھی کبھی ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ جب صرف ایک ٹھوکر سے اس کے تمام سنہرے خواب بکھر جاتے ہیں۔ وقت ایسا زخم چھوڑ جاتا ہے،جس کا کوئی علاج نہیں کر سکتا۔ پھر ہم سوچتے ہیں کہ کاش ہم کوئی بے جان تصویر ہوتے، جذبات و احساسات سے عاری، ہماری نہ کوئی خواہش ہوتی، نہ آرزو۔ یہ وقت یہ تقدیر بھی عجیب چیز ہے، کسی کو مانگے بغیر سب کچھ دے دیتی ہے اور کسی کے قریب سے مسکرا کر گزر جاتی ہے۔

آج سے تینتیس سال قبل جہاں میں نے آنکھ کھولی ایک ڈھائی مرلے کا بوسیدہ سا کرائے کا مکان تھا۔ جہاں سیورج سسٹم کا نظام ایسا تھا کہ نہا کر نلکے کے ساتھ کھودے گڑھے میں سے جب دوباہ پانی نکالا جاتا تو پھر سے نہانا پڑ جاتا تھا۔ ایک ہی کمرے میں چھ لوگوں کے رنگ برنگے بستر الگ سے قوسِ قزاح کا منظر پیش کر رہے ہوتے تھے۔

دادا جی 1947 سے بہت پہلے کے انڈیا سے ایف اے پاس تھے جب میٹرک پاس بندہ ڈھونڈنا بھی جوئے شیر لانے کے برابر ہوا کرتا تھا۔ لیکن بد قسمتی کہہ لیں کہ تقسیمِ ہند کے بعد اپنا گھر بار سب لٹا کے جب پاکستان آئے تو وہ یہ تعلیم اور وسائل اپنے بچوں میں منتقل نہ کر سکے ۔ والد صاحب فجر کے بعد گلی گلی ہمارے لیے روزی روٹی کمانے، مزدوری کرنے نکلتے تو شام ڈھلے گھر آتے، تب جا کے ہمارے معدوں اور چہروں پر پھر سے زندگی کی لہر دوڑ جاتی۔ گھر میں ماں تھی، مائیں سبھی کو عزیز ہوتیں لیکن میرا ماں سے لگاؤ اس قدر تھا کہ آج بھی تنہائی میں بیٹھ کے ان کے ہاتھوں کا لمس محسوس کر لیتا ہوں، آنسو بہا لیتا ہوں۔ میرے ہوش سنبھالتے ہی ماں کو ٹی بی اور شوگر جیسی بیماریوں نے گھیرا ہوا تھا۔ بڑے بھائی جو آج بھی والد کے بعد والد کی جگہ ہیں پرائمری کے بعد حالات کے ہاتھوں تنگ آکر سکول سے پکی چھٹی لے کے گھر کے معاملات میں والد صاحب کا ہاتھ بٹانے لگے۔ انہوں نے ہمارے لیے اپنے خواب، بچپن اور جوانی تک قربان کر دی۔ آج ہم زیادہ کچھ تو نہیں ہیں لیکن جو کچھ بھی ہیں جتنا بھی ہیں اس میں بڑے بھائی کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ اور مجھے اپنا ماضی بتانے میں کوئی آر یا شرم نہیں کیونکہ میرا ماضی میرے لئے باعثِ فخر ہے۔

 یہ سب بتانے کا مقصد آپ کو یہ تھا کہ وقت بہت بڑا استاد ہے۔ وقت بہت ظالم ہے۔ وقت ہی مرہم بھی ہے۔ انسان کے بس میں اپنا پیدا ہونا نہیں ہے کہ وہ جگہ منتخب کر کے پیدا ہو ہاں البتہ پیدا ہونے کے بعد بہت کچھ منتخب کرنا اور زندگی کے نشیب وفراز کا زندہ دلی سے مقابلہ کرنا ہمارے بس میں ہمارے انتخاب میں ہمارے اختیار میں ضرور ہوتا ہے۔

گھر کے حالات دیکھتے ہوئے ایک بات تو طے تھی کہ بچے پڑھے گا نہیں تو بڑے بھائی کی طرح گلی گلی ریڑھی دھکیلنا پڑے گی۔ گھر کے ساتھ ہی کچھ گلیاں چھوڑ کے سرکاری سکول میں جانا شروع کیا۔ یہ وہ سکول تھا جہاں ایک عدد گَٹُوّ ہمارا ڈیسک بھی تھا بستہ بھی تھا اور وقت پڑنے پر ہتھیار بھی بن جاتا تھا۔ صبح اس گَٹُوّ کو نیچے بچھا کے بنچ بنا لیتے تھے۔ چھٹی ہوتے ہی اسی گَٹُوّ میں تختی، سلیٹ، قاعدہ اور اپنی ٹوٹی چپل ڈال کے بستہ بنا لیتے تھے۔ اور وقت پڑنے پر اسی گَٹُوّ کو گُھما کر ہتھیار کا کام بھی لے لیتے تھے۔ سکول جانے سے پہلے بھائی کی ریڑھی چمکا چُمکو کے جاتے تھے اور پھر سکول سے آتے اپنا گَٹُوّ پھینک کے بھائی گھر آرام کرتے تھے تو ہم بزنس مین بن جاتے تھے۔ ان فرائض کی ادائیگی کے عوض ہمیں دو روپے روزانہ ملا کرتے تھے۔ تب یہ دو روپے میرے لیے بہت بڑی اماؤنٹ ہوا کرتے تھے جن کو میں اپنی تعلیم یا کرکٹ کی انٹری کے علاوہ کہیں خرچ نہیں کرتا تھا۔ پرائمری پاس کی تو سرکاری ہائی سکول بھلوال میں داخلہ لے لیا۔

یہ آٹھویں جماعت کی بات ہے جب سکول کے بعد بھائی کے پاس جانے کی بجائے حسن میڈیکل سٹور پر جانا شروع کیا اور ہماری آمدن دو سے بڑھ کے دس روپے روزانہ ہوگی ۔ سائنس کے ساتھ میٹرک پاس کیا تو رزلٹ کے انتظار تک تین مہینے بلال کلاتھ ہاؤس پر لگا کے اپنے کالج کا داخلہ جمع کر لیا۔اب میری آمدن دو ہزار مہینہ ہو چکی تھی۔ داخلہ دینے کے بعد کالج جانے کے لیے ایک عدد سائیکل خریدی ۔ اُس سائیکل کی مُجھے اتنی ہی خوشی تھی جیسے آج کوئی نئی بی ایم ڈبلیو خرید لے۔ ڈی کام پارٹ ون کے پیپر دیے تو رزلٹ کے انتظار میں دوست کے ساتھ مل کے مارکے ( کنو مالٹا ایکسپورٹ کرنے کے لیے پیٹیوں اور ڈبوں پر جو پرنٹنگ ہوتی ) کا سیزن لگایا اور ڈی کام پارٹ ٹُو کا داخلہ جمع کر لیا۔ جائے مارکہ بالکل ہمارے کالج کے سامنے والے روڈ سے تھوڑا آگے ہوا کرتی تھی۔ ہمارے کالج جونئیر اور اساتذہ وہاں سے گزرتے تھے پتہ نہیں وہ ہمیں دیکھ کے کیا محسوس کرتے تھے لیکن ہم اپنا کام دل جمی سے جاری رکھے ہوئے تھے کہ ہمیں ریڑھی نہیں دھکیلنی تھی۔ اس تمام مصروفیات کے باوجود اپنی پڑھائی میں کوئی حرج نہیں آنے دیا۔ اللہ کی خاص کرم نوازی ہوئی کہ جب ڈی کام کا رزلٹ آیا تو ہم تحصیل بھلوال کامرس کالج کے رنر اپ تھے۔ اور بھلوال کامرس کالج کی تاریخ میں پہلی دفعہ تین طالبِ علم ایسے تھے جنہوں نے حاصل کردہ نمبرز میں ایک ہزار نمبرز کا فگر کراس کیا تھا جس میں یہ ناچیز بھی شامل تھا۔۔ اسی کارکردگی پر وظیفہ لگا تو بی کام کے داخلہ کا بھی بندوبست ہو گیا۔ یہاں یہ سب بتا کر مقصد شیخی مارنا نہیں ہے۔ بلکہ موجودہ طالبِ علم کو یہ اجاگر کروانا ہے کہ ہم اگر اپنی بے بسی یا وسائل کی کمی کا رونا رونے کی بجائے محنت سے کام لیں تو سب ممکن ہے۔ بات بہت لمبی ہو رہی ہے۔ اور آپ کی بوریت کا بھی پورا احساس ہے۔ مختصر یہ کہ ڈی کام کے بعد بی کام کے لیے جی سی سی سرگودھا میں داخل ہوگئے گھر سے کالج کا فاصلہ تقریباً 35 کلو میٹر بنتا تھا جو ہم روزانہ ریل گاڑی پر طے کرتے تھے۔بلکہ کالج کے پہلے دن ایڈمیشن کروا کر واپس آ رہے تھے تو ٹرین چل پڑی تھی بھاگتے بھاگتے کینٹن والے سے پوچھا گاڑی بھلوال جا رہی تو اس نے سر ہلا دیا اور ہم چھلانگ لگا کر بوگی کے اندر ، چودہ طبق تب روشن ہوئے جب ٹی ٹی نے بتایا کہ یہ ٹرین بھلوال نہیں کُندیاں جا رہی ہے۔ پہلا سٹاپ شاہ پور آتے ہی دوبارا سرگودھا کی کوچ پکڑی اور پھر سرگودھا سے رات کو گھر پہنچے ۔ یہ داخلے کے پہلے دن کا سفر ، سرگودھا ریلوے سٹیشن کے نان پکوڑے اور چائے آج بھی ہمیں بھولے نہیں بھولتے ہیں۔

دو سال ٹرینوں، بسوں کے دھکے کھاتے ، روزانہ ستر کلومیٹر کا سفر کرتے ، ایک ہی ٹکٹ اور پاس کو کتاب میں رکھ کے فارورڈ کر کر کے ٹی ٹی کو دس دس بار چیک کرواتے آخر کار بی کام بھی اے گریڈ میں پاس کر لیا گیا۔ اب میرا ایم کام کے لیے ہیلے کالج لاہور میں میرٹ تو بن گیا لیکن ابھی تک مفلسی نے آڑے ہاتھوں لیا ہوا تھا۔ تو مجبوراً یونیورسٹی آف سرگودھا میں داخلہ لینا پڑا۔ یہاں بھی ٹرین والے سین کے علاوہ اور بہت سے سین جاری تھے۔ ایم کام کا تیسرا سمیسٹر اپنے آخری مراحل پر چل رہا تھا کہ واپڈا اور ایم سی بی بنک میں محدود سی آسامیاں آئیں۔ واپڈا کے جو حالات چل رہے تھے وہاں تو اپلائی کرنے کی جرت ہم سے نہ ہو سکی لیکن بنک میں اپلائی کر دیا۔

 تیسرے سمیسٹر کے پیپر دے کے محنت مزدوری میں مصروف تھے کہ اس دوست کے موبائل پر انٹرویو کی کال آگئ جسکا نمبر اپلائی کرتے وقت دیا تھا کیونکہ اس وقت تک ہمارے پاس موبائل نہیں تھا۔ اور ویسے بھی جب آپ کی قسمت میں کچھ لکھا ہو تو وہ گھوم گھما کر آپ کے پاس پہنچ ہی جاتا ہے۔ پورے سرگودھا ڈیویژن میں سے 28 امیدواروں کا بیج منتخب ہونا تھا لیکن بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ نو جوان ایسے جوک در جوک آگے جیسے انٹرویو نہیں انڈیا پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میچ شروع ہونے جا رہا ہے۔ پہلے تو خیال آیا کہ اتنے لوگوں میں دال گلنے والی نہیں لیکن اوکھے سوکھے انٹرویو ،ٹیسٹ کلیر کر کے منتخب ہونے والوں میں میرا نام بھی چسپاں کر دیا گیا۔

آج ایک کچے پکے گھر سے ، ایک مزدور کا بیٹا بغیر کسی رشوت اور سفارش کے بنک میں آفیسر گریڈ تھری بھرتی ہو گیا تھا۔ اب ہم ٹائی شائی لگا کے بنک والوں کا پٹا ڈال کے 2005 میں چودہ ہزار پچاس روپے کمانے کے قابل ہوگے تھے۔ کچھ سالوں میں ہی کیش اور جنرل بینکنگ سیکھنے پر بھلا ہو ایم سی بی والوں کا انہوں نے آپریشن مینیجر لگا دیا ۔ بنک سروس تو میں نے سات سال کی لیکن دوسرے تیسرے سال میں ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر کسی کو دنیا میں سزا دینی ہو تو بندہ اس کو بنک میں بھرتی کروا دے۔ ایک بنکار کام کے بے جا پریشر کی وجہ سے نہ تو کسی کی خوشی میں ٹھیک سے شامل ہو سکتا نہ کسی کے غم میں کہ اس کے اپنے غم ہی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ۔ عید شب رات بھی اے ٹی ایم ری سٹارٹ کرتے اور کیش پوری کرتے گزر جاتی ہے۔ اوپر سے سٹیٹ بنک کی KYC جان نہیں چھوڑتی کہ مرے ہوئے بندوں کے بھی شناختی کارڈ ڈھونڈ کے اپ گریڈ کرنا پڑتے ہیں۔ مختصر یہ کہ بنک والوں کو ہم پسند نہیں تھے ہمیں بنک پسند نہیں تھا دو دفعہ استعفیٰ دے کے آئے لیکن بھلا ہو ظفر گوندل کا پھر گھر سے پکڑ کر لے جاتا تھا کہ ” اُٹھ اُتاں اوداں بنک دفعہ ہو اِنج جاتقاں آر چولاں نہیں مریندیاں”

 دو دفعہ ہمارا استعفیٰ قبول نہ کرنے پر تیسری دفعہ صورتِ حال ایسی پیدا ہوگئی کہ ایچ آر والوں نے خود سرکل آفس بلا کر ہماری آزادی کے پروانے پر ہم سے دستخط لے لیے۔ کہ دفعہ ہو جائیں آپ کی مزید ہمیں ضرورت نہیں ہے۔ یقین کریں اتنا غم بے روزگاری کا نہیں تھا جتنی خوشی ہمیں اپنی اس آزادی پر ہو رہی تھی۔ یہ 2011 کی بات تھی جب بنک والے ہمیں اور ہم اپنی آدھی پیٹی انکم کو لات مار چکے تھے۔ اس کے بعد ایک سال مقابلہ کے امتحان کی سر توڑ کوشش کی جس میں ہم کامیاب تو نہ ہوسکے لیکن حاصل اتنا کچھ ہوا جو 20 سالہ تعلیمی کیرئیر سے بھی نہیں ہوا تھا۔اسی فراغت میں ایم اے سیاسیات اور بی ایڈ کڑکا دیا تھا۔

 اس کے بعد نور پور ڈائری بھلوال میں اکاؤٹینٹ بھرتی ہوگے لیکن یہاں سے بھی چوتھے دن راہِ فرار حاصل کیا کیونکہ یہاں بھی سَجی دکھا کے کَبھیّ مارنے والا حساب تھا۔ لیکن مجھے افسوس اس بات کا تھا کہ میں نے چار دن ہی جانا تھا تو خوامخواہ انٹرویوز میں آنے والے دوسرے لوگوں ساتھ بھی زیادتی کی۔ لیکن پچاس ہزار کی ملازمت چھوڑ کے بیس پچیس پہ کون ٹکتا ہے۔؟

  اللہ کی آس پہ باہر کا رُخ کیا اٹلی کے پیپر نہ نکلے تو سعودی عرب کے شہر حائل آگے۔ بعد ازاں دانہ پانی ہمیں جدہ کھینچ لایا اور یہاں اسسٹنٹ اکاؤنٹ مینیجر کے عہدہ پر براجمان ہیں۔ لیکن جو مزا بچپن کے ان دو روپے میں تھا وہ مزا آج اس دو لاکھ میں بھی نہیں ہے۔

اب اگر سعودیہ میں کام کے حالات غیر یقینی ہیں تو میں پریشان بالکل بھی نہیں ہوں جہاں اوپر والا ایک در بند کرتا تو بیسیوں کھلے بھی رکھتا لیکن اس کا دروازہ ہم نے خود تلاش کرنا ہوتا ہے۔

محمد افضل رانا جدہ میں مقیم اکاونٹنٹ ہیں۔ انھیں چیزیں اپنے زاویہ سے دیکھنے اور پرکھنے کا شوق ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *