ستاروں سے آگے جہاں۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط1

ہم یہاں ایک مثال لیتے ہیں کہ فرض کیجئے کوئی بچہ شروع سے کسی کمرے میں قید ہواور جوان ہوتے ہی اگر اس کو کمرے سے باہر نکالا جائے گا تو اس کے لئے سب سے پہلا سحر انگیز منظر تاروں بھر اآسمان اور اس پر موجود خوبصورت چاند ہوگا۔ کائنات کو کھوجنے کی جستجو انسان کو روزِ اول سے ہے  یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں کائنات کا مطالعہ کرنا انسان کی گُھٹی میں موجود رہا۔یہ کہنا بھی شاید غلط نہ ہو گا کہ تحقیقات کے شروع میں بنی نوع انسان کے لئے کائنات جتنی پرسرار تھی اُتنی ہی پرسراریت آ ج بھی اپنے اندر برقرار رکھے ہوئے ہے۔ آغاز میں نظر آنے والے ستاروں کو اپنی کُل کائنات مان کر جب تحقیقات کی گئیں تو حیران کن نتائج دیکھنے کو ملے۔

انہی تحقیقات کے دوران 1884ء میں لارڈ کیلون نے ہماری کہکشاں ملکی وے میں موجود ستاروں کی رفتار کا جائزہ لیا اوران کو ریاضی کی مساوات پر پرکھ کر عجیب انکشاف کیا کہ  ہماری کہکشاں میں صرف نظرآنے ستارے ہی موجود نہیں بلکہ بہت سے ایسے اجسام موجود ہیں جو دِکھائی نہیں دیتے۔ یہ حیران کن انکشاف تھا کیونکہ اس وقت سائنسدانوں کے نزدیک ہماری کہکشاں ہی پوری کائنات تھی اور اس میں ستاروں کے علاوہ کسی اور چیز کے ہونے کا گمان بھی موجود نہ تھا۔ 1906ء میں اسی انکشاف پر کام کرتے ہوئے ہنری پوئن کئیر نے اُن نظر نہ آنے والے اجسام کے متعلق تحقیق کی ۔ کئی سائنسدانوں نے اس نظریے کو اہمیت دی اور تحقیقات کا رخ اِس جانب موڑ دیا گیا ۔ ہر سائنسدان تقریباً اس نتیجے پر پہنچا کہ ہماری کہکشاں کی کمیت (mass)ریاضی کی مساواتوں کے اعتبار سے زیادہ ہے مگر دیکھنے میں اتنی زیادہ نہیں ہے۔

یہ تو ہمیں معلوم ہی ہے کہ ہمارے نظام شمسی میں سورج کے نزدیک چکر لگانے والے سیاروں کی رفتارزیادہ اوردور کے سیاروں کی رفتار کم ہے، سو 1933ء میں سوئس سائنسدان فرٹز زُویکی نے تحقیق کی اور بتایا کہ ہماری کہکشاں کے مرکز اور کناروں دونوں جگہوں پر ستاروں کی رفتار انتہائی تیز ہے  حالانکہ جتنا ہم جانتے ہیں کہکشاں کے مرکز کے قریب موجود ستاروں کی رفتار زیادہ اور کناروں پر کم ہونی چاہیےتھی، لہٰذا اس کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ کئی ان دیکھے اجسام بھی کہکشاؤں میں موجود ہیں فقط کہکشاں کی کشش ثقل کے باعث کناروں پر موجود ستارے اتنی تیز رفتار حاصل نہیں کرسکتے تھے،اس ان دیکھے مادے کو اس وقت زُویکی نے “ڈارک میٹر ” نام دیا ۔ اسی نسبت سے انہیں “Father of Dark Matter”بھی کہا جاتا ہے۔

بہرحال اس کے بعد تحقیق کا دائرہ وسیع ہوتا گیا اور تقریباً تمام کہکشاؤں میں یہی حیرت انگیز مظہر ہمیں دیکھنے کو ملا۔ چونکہ کشش ثقل کا روشنی پر بھی اثر ہوتا ہے،جس کا اظہار ہمیں gravitational  lensing کی شکل میں دِکھائی دیتا ہے، یعنی روشنی اپنا راستہ بدل لیتی ہے۔ سوسائنسدانوں نے اندازہ لگایا کہ کہکشاؤں میں جتنا مادہ نظر آنا ہے اس حساب سے gravitational lensing کم ہونی چاہیے تھی مگر درحقیقت کہکشاؤں کے نزدیک gravitational lensing بہت زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے جو کہ ڈارک میٹر کے سفر میں ایک اور پختہ ثبوت تھا۔1980ء میں کہکشاؤں کی رفتار، ان سے آنے والی ایکس ریز اور گریوٹیشنل لینزنگ کا مطالعہ کیا گیا، جس میں ڈارک میٹر کےپختہ شواہد موصول ہوئے،اس مشاہدے کے بعد ڈارک میٹر سائنسدانوں کے نزدیک مزید پرسرار معمہ بن گیا۔

مزید کچھ عرصے بعد Cosmic Microwave Background Radiations (CMBR) پر تحقیق کی گئیں، یاد رہے کہ یہ CMB ریڈیشنز بیگ بینگ کی باقیات میں سے ایک ہے اور پوری کائنات میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان پر تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈارک میٹر کی کشش ثقل ان پر بھی اثر اندا ز ہوتی ہے۔ایک یہ خیال بھی ظاہر کیا گیا کہ ستاروں کے بلیک ہول اور نیوٹران سٹار بننے میں بھی ڈارک میٹر کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ڈارک میٹر کو کائنات کا حصہ مان لیا جائے تو بیگ بینگ کے ماڈل میں موجود خامیاں پُر ہوجاتی ہیں ۔ ابھی سائنسدان ڈارک میٹر کے متعلق تحقیق میں مصروف ہی تھے کہ 29 مارچ 2018ء کو 6.5ارب نوری سال دور NGC 1052 DF2نامی کہکشاں ان کے مشاہدے میں آئی جس نے ڈارک میٹر کی اس اندھیر نگری میں ہمیں مزید حیران کردیا

کیونکہ اب تک ہم یہی سمجھتے آرہے تھے کہ ڈارک میٹر کہکشاں اور ستارے بنانے کے لئے بہت ضروری ہے مگر یہ پہلی کہکشاں دریافت ہوئی جو ڈارک میٹر پر مشتمل نہ تھی،اس دریافت کے ذریعے ماہرین فلکیات کو جہاں کم از کم یہ تصدیق ہوگئی کہ ڈارک میٹر حقیقت میں موجود ہے، وہیں یہ سوال بھی کھڑے کرگئی کہ کیا کہکشائیں ڈارک میٹر کے علاوہ بھی وجود میں آسکتی ہیں؟ ہوسکتا ہے آنے والے وقت میں کائنات میں کئی ایسی کہکشائیں دریافت ہوجائیں جن میں ڈارک میٹر موجود نہ ہو۔

سائنسدانوں کے ایک گروہ کا یہ بھی خیال ہےکہ اس کہکشاں میں ڈارک میٹر نہ ہونے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ گرد کے آوارہ بادل ڈارک میٹر کی غیرموجودگی میں اکٹھے ہوتے چلے گئے اور  ایک وقت آیا کہ یہ کہکشاں کی صورت اختیار کرگئے،اپنے اس نظریے کو سہارا دینے کے لئے وہ اس کہکشاں سے آنے والی روشنی کو بطور دلیل استعمال کرتے ہیں کیونکہ NGC 1052 DF2کے سائز کی دیگر کہکشائیں NGC 1052 DF2سے 33 گنا زیادہ روشنی خلاء میں بکھیر رہی ہیں۔

بہرحالCMB ریڈیشنز میں بے قاعدگیوں اور ہماری کہکشاں سے ملنے والے ڈیٹا کو پرکھ کر ہم اب اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ ڈارک میٹر نظر نہ آنے والے انتہائی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ہمہ وقت ہمارے اندر اور دیگر سیاروں ستاروں کے اندر سے pass ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا نظر آنے والے ذرات یعنی الیکٹران، پروٹان،نیوٹران ، فوٹانز وغیرہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ، ڈارک میٹر اپنی موجودگی صرف اور صرف کشش ثقل کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کے نزدیک ڈارک میٹر کی تین اقسام موجود ہیں:

پہلی قسم کو Hot Dark Matter کہا جاتا ہے ، خیال یہ ہے کہ اس قسم کے ڈارک میٹر کے ذرات انتہائی چھوٹے اور تیز رفتار ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لئے ہم نیوٹرینو نامی ذرے کو بطور مثال لیتے ہیں۔ نیوٹرینو  انتہائی چھوٹا ذرہ ہے ۔ اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا سورج کُل انرجی میں تقریباً 2 فیصد نیوٹرینو بھی خارج کرتا رہتا ہے جو زمین تک جب پہنچتے ہیں تو زمین کو چیرتے ہوئے دوسری جانب سے نکل جاتے ہیں ۔نیوٹرینو پر الیکٹرومیگنیٹک فورس (چارج) اثر انداز نہیں ہوسکتی بلکہ صرف کشش ثقل اور Weak Nuclear Force کا اثر انداز ہوتی ہے۔

دوسری قسم کو Warm Dark Matter کہا جاتا ہے،اس قسم میں ڈارک میٹر کے ذرات Hot Dark Matter کی نسبت سست ہوتے ہیں۔اس حوالے سے کوئی ذرہ فی الحال سائنسدان دریافت نہیں کرپائے مگر سائنسدانوں کو یقین ہے کہ آنے والے وقت میں گریوٹان نامی ذرہ دریافت ہوسکتاہے جو کشش ثقل کی اصل وجہ ہے اگر کبھی دریافت کرلیا گیا تو وہ ڈارک میٹر کی اس قسم سے تعلق رکھتا ہوگا۔

تیسری قسم کو Cold Dark Matter کہا جاتا ہے۔اس قسم میں ڈارک میٹر کے ذرات سب سے سست ہوتے ہیں۔خیال ہے کہ ایسے ذرات بلیک ہولز اور نیوٹران سٹاروغیرہ میں پائے جاسکتے ہیں۔
چونکہ ڈارک میٹر کے ذرات زمین کے اندر سے بھی ہر وقت پاس ہوتے رہتے ہیں ،سو اس کو detect کرنے کے لئے زیرِ زمین 8 لیبارٹریز ہمہ وقت مصروف ہیں اور ان میں لگے حساس آلات اس تاک میں بیٹھے رہتے ہیں کہ ڈارک میٹر جیسا کوئی ذرا ان کے درمیان سے گزرے اور وہ اس کو detectکرلیں۔ ان میں سے کچھ لیبارٹریز غاروں کی تہوں اور مادنیات کی کانوں میں موجود ہیں۔

آج کی تاریخ تک ڈارک میٹر کا کوئی بھی ذرہ detect نہیں ہوسکا۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں کئی ٹیلی سکوپس ہماری کہکشاں کے مرکز کی جانب رُخ کیے ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ ڈارک میٹر کی کسی طرح کی کوئی تصویر ہمارے ہاتھ لگ جائے ،کچھ سال پہلے کشش ثقل کی لہروں کے واضح ثبوت ملنے کے بعد سائنسدان اس حوالے سے بہت پُرعزم ہیں کہ آلات کو بہتر کرکے ڈارک میٹر کا ایک نہ ایک دن لازمی پتہ لگالیا جائے گا۔

اس کے علاوہ لارج ہیڈران کولائڈر دنیا کی سب سے بڑی زیرِ زمین لیبارٹری بھی چھوٹے ذرات کے مختلف تجربات کرنے میں مصروف ہے، چونکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں اتنا اندازہ ہوتا جارہا ہے کہ ڈارک میٹر کے ذرات کا شاید ہم براہ راست مشاہدہ مستقبل قریب میں نہ کرپائیں جس وجہ سے مذکورہ لیبارٹری میں سائنسدان مختلف چھوٹے ذرات کوٹکرا کر تجربات انجام دے رہے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی تفصیلی جانچ کرتے ہیں تاکہ نتائج میں اگر کہیں انرجی یا مومینٹم کا فرق ہوا  تو لازمی طور پر وہ ڈارک میٹر کی وجہ سے ہوگا سو آپ کہہ سکتے ہیں براہ راست مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا تو اس کی نشانی ہی سہی۔۔

حاصل شدہ معلومات کے بعد یہ کہا جاسکتا ہےکہ ہماری “دکھائی دینے والی کائنات “اصل کائنات کا محض 4 فیصد ہے ، اس کائنات کو مکمل کرنے میں بڑا حصہ پرسرار ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کا ہے۔اس کا تناسب نکالا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کائنات 4 فیصد دِکھائی دینے والے مادے پر مشتمل ہے جبکہ تقریباً 26 فیصد حصہ ڈارک میٹر اور 69 فیصد حصہ ڈارک انرجی کے زیرِ قبضہ ہے۔کائنات اپنے جادو میں ہمیں دن بدن جکڑتی جارہی ہے ، انسان کائناتی سحر سے نکلنے کے جتنے بھی جتن کرلے اس کا توڑ ناممکن دِکھائی دیتا ہے۔ڈارک میٹر کوہم نے تفصیلاً سمجھ لیا مگر اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈارک میٹر تو صرف 26 فیصد ہے یہ ڈارک انرجی کیا ہے ؟جو کائنات کا 69 فیصد ہے۔
جاری ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ستاروں سے آگے جہاں۔۔محمد شاہزیب صدیقی/قسط1

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *