مشعل بجھ گئی

انتظار تھا حقائق سامنے آنے کا لیکن رہا نہ گیا اور تحریر لکھ دی
بہت درندگی سے مشعل کی زندگی کی مشعل بجھا دی گئی اور وہ اپنے نظریات کی شکل میں امر ہو گیا۔ تحقیق و تصدیق کیے بغیر میں مان لیتا ہوں کہ وہ گستاخ تھا۔
اب یہاں لفظ گستاخ کے معنی سمجھنے کی ضرورت ہے بے ادبی،بےباکی اور نافرمانی جیسے عمل گستاخی کے زمرے میں آتے ہیں سو ہر وہ شخص جو مسلمان کہلواتے ہوے سنت پر عمل نہ کرے نماز قائم نہ کرے روزہ نہ رکھے بہت بے باکی سے نبی کے احکامات کی نافرمانی کرے وہ گستاخ کہلائے گا تو کیا ایسے تمام افراد کو قتل کر دینا چاہیے؟ تو پھر مسلمانوں میں زندہ کون بچے گا؟ ہر مسلمان کسی نا کسی زمرے میں گستاخ ہے اور گناہوں سے پاک کون ہے؟ اور بات کی تصدیق کئے بغیر آگے پہچانے میں اعلی شخصیات بھی بےباک ہیں جیسے بیرون ملک سے تشریف لائی اک ہستی نے اقتدار پہ فائز دو بھائیوں کے نیک ہونے کا اعلان کیا اور انہیں کلین چٹ دے دی۔
کیا جوش خطابت میں زبان سے نکلے پر ادب الفاظ جو اپنی حجت میں منفی ہیبت رکھنے کی وجہ سے عوام الناس کی سمجھ سے بالا تر ہو ۔ ایسے الفاط کے بابت غلط ادراک قائم کر لئے جائیں اور پھر خود ہی فتوے لگا کر سزا سنائی جائے اور خود ہی عمل کر دیا جائے لیکن مشعل نے تو ایسے کوئی الفاظ بھی ادا نہیں کئے تھے
میں اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ ایسا انسانیت سوز عمل کرنے والے اگر خود کو مسلمان کہلواتے ہیں تو انہیں دین کا علم دینے والے وہ ملا ہیں جو پرشدت روئیے اپنی کوک میں پالتے ہیں اور خود کو جزا و سزا ، جنت و جہنم کا ٹھکیدار سمجھتے ہیں۔
اب غور طلب بات یہ ہے کہ اگر یہ قتل ایک منصوبے کہ تحت ہوا تو گستاخ رسول کا الزام ہی کیونکر لگایا گیا شاید یہ ہی سب سے آسان راستہ تھا قتل کا جس میں بڑی تعداد میں قاتل موجود ہ ہونگے اور عدالت کیلئے فیصلہ کرنا ناممکن کی حد تک مشکل ہو جائے گا کہ کسے سزا دی جائے ۔ بہت سے احباب عوامالناس کہ بغیر تصدیق و تحقیق کہ شدت پسندانہ روئیے اور عدم برداشت کیوجہ سے حکمت سے پر حکایات سامنے نہیں لاتے کیونکہ اس دور میں کوئی انہیں زہر کا پیالہ پینے پہ مجبور کر سکتا ہے اور نہ ہی تختہ دار پر لٹکا سکتا ہے لیکن انسانیت کی تمیز سے محروم درندوں کے پاس یہی راستہ بچتا ہے کہ کتوں کی طرح جنڈ میں آئیے اور آپ کو چیر پھاڑ کر رکھ دیں اور باقی بےضمیر لوگ صرف تماشہ دیکھیں۔

Avatar
سلمان داود
یونیورسٹی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *