میری یہ دولت کس کام کی؟

ایک چینی مقولہ ہے”ہو سکتا ہے آپ ایک ہزار ایکڑ رقبے کے واحد مالک ہوں پھر بھی آپ پانچ فٹ لمبے بستر پر ہی سوئیں گے”انسان چاہے بادشاہ ہو یا فقیر، بل گیٹس ہو یا پھر ایدھی، بس پانچ فٹ کے ایک پتلے کا نام ہے بلکہ حقیقت اس سے بھی کہیں زیادہ تلخ ہے”خلق من ماء دافق”.انسان جس دولت کی خاطر اپنی ساری زندگی لوٹا دیتا ہے اور محض دنیاوی آسائشوں و راحتوں کے حصول کے لئے کرپشن لوٹ مار اور فراڈ کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دہی سے کام لیتا ہے اور ہر طرح کی اخلاقی پستی کا شکار رہتا ہے، ایک دن آتا ہے وہی دولت اس کے لئے بے معنی ہو جاتی ہے، وہی دولت اسے کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے اور انسان سر پیٹتا ہے کہ وہ دولت اس کے پاس کیوں ہے! یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ایک مصنوعی زندگی جینے والا انسان زندگی کی اصلیت کو پا لیتا ہے. اسے احساس ہو جاتا ہے جس دولت میں وہ راحت و آسائش تلاش کرتا رہا، جسے پانے کے لئے دن رات محنت کی اور سیاہ سفید میں فرق نہ کیا، دراصل وہ تو اک ابتلا تھا جس میں مبتلا ہوتاچلا گیا.

یہی وجہ تھی کہ اسکندر اعظم نے مرض الموت میں وصیت کی کہ میرے مرنے کے بعد میری لاش کو ایک تابوت میں رکھ کر میرے دونوں ہاتھوں کو سوراخ سے باہر نکال دیا جائے تاکہ لوگ دیکھیں میں دنیا فتح کرنے کے باوجود خالی ہاتھ اس دنیا سے جا رہا ہوں۔ کہتے ہیں ملکہ الزبتھ جب نزع کی حالت میں تھیں، ملک کے ماہر ترین اطبا Doctors ان کے علاج میں مصروف تھے لیکن ملکہ نے بے بسی کے عالم میں ایک آہ بھری اور کہنے لگیں”میری یہ دولت کس کام کی”۔کاش اس حقیقت کا ادراک ہر انسان کو اپنی زندگی میں بروقت ہو، تاکہ وہ زندگی کے بیش قیمت لمحات کو کارآمد بنا سکے، خصوصا ً ہمارے سیاسی مافیا کو تاکہ وہ اپنی زندگیوں کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی چین سے جینے دیں.ملکی سیاسی مافیا کے اثاثوں کے اعداد و شمار اور پر تعیش انداز زندگی سے ایسے لگتا ہے جیسے قائد اعظم ان کے دادا نانا تھے اور ملک ان کو وراثت میں دے کر گئے ہیں، جیسے چاہیں اس کھلونے سے کھیلیں. سیاست ایک بدنام پیشہ بن گیا ہے، شریف النفس انسان اس دلدل میں کودنے سے کتراتا ہے اور دولت و شہرت کے پجاری اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عوام کو صحیح معنوں میں بے وقوف بناتے ہیں.کرپشن اور فراڈ سے بھری لوٹ مار کی بہتی گنگا میں جو چاہتا ہے جی بھر کر ڈبکیاں لگاتا ہے اور کپڑے جھاڑتا چلا جاتا ہے. مختصراً یہ کہ آئیں، نہائیں اور نکل جائیں.

سیاستدانوں کی لوٹ مار اور سیاسی بدعنوانیوں سے تنگ عوام و خواص عرصے سے کسی مسیحا کے منتظر تھے لیکن یہ کام تیسری طاقت Third Empire نے بڑی ہوشیاری و چابکدستی سے سرانجام دیا. پانامہ لیکس Panama Papers نے یوں تو پوری دنیا میں ہلچل مچائی لیکن پاکستان میں تھرڈ ایمپائر نے اس موقع کو نعمت غیر مترقبہ خیال کرتے ہوئے احتساب کا عمل شروع کیا، بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی. اس کی ابتدا شریفوں سے ہوئی لیکن ان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے لئے زبردست کھیل کھیلا گیا اور ایک نومولود سیاسی غبارے میں ہوا بھری گئی اور پھر ایسا ہوا کہ حاکم وقت عدالت عالیہ میں اپنی صفائی دینے کھڑا تھا. یہ ایک خوش کن اور حسیں لمحہ تھا جب حاکم وقت قانون کے ہاتھوں بےبس ہو کر صفائی دینے کٹہرے میں کھڑا ہوا لیکن یہاں محتسب بذات خود قابل احتساب تھا، پھر وہی ہوا جب عدالت نے منی ٹریل کی تفصیلات طلب کیں اور یوں تھرڈ ایمپائر کا بچھایا ہوا جال بخوبی کام کر گیا.

ہماری ناسمجھ سی سمجھ کے مطابق ابھی یہ ابتدا اور ناکافی ہے. پاکستان میں کرپشن کے گاڈ فادر God Father تو ابھی بھی آزاد ہیں. ہماری ذاتی طور پر بلکہ ہر ایماندار محب الوطن پاکستانی کی یہ چاہت ہے اور بڑی شدت سے اس دن کا انتظار ہے جب Mr 10% جیسے سفید پوش White Collar کرپٹ ترین لوگوں کو جکڑ کر عدالت لایا جائے اور کڑا احتساب کیا جائے گا ۔احتساب کا یہ عملی سلسلہ اگرچہ بہت تاخیر سے شروع ہوا لیکن اب رکنا نہیں چاہیے، اسے جاری رہنا چاہیے اور باور کراتے رہنا چاہئے کہ انسان جتنی بھی دولت جمع کر لے آخر کار خالی ہاتھ دنیا سے جاتا ہے اور جتنی جائیداد بنا لے اسی پانچ فٹ کے بستر پر لیٹے گا.

عبدالقدوس قاضی
عبدالقدوس قاضی
ایک طالب علم، ایک داعی الی الخیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *