کچھ تجاویز شہروں کے لئے ۔۔محسن علی

وطن عزیز میں ویسے تو ہر روز کچھ نہ کچھ نیا ہوتا ہی رہتا ہے۔۔لیکن پھر بھی  کچھ ایسے اقدامات ہیں جن کی طرف ابھی تک توجہ نہیں دی گئی۔۔پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے کچھ تجاویز اربابِ اختیار کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ،تاکہ عوام کو اور زیادہ ریلیف میسر آسکے۔

روشنیوں کے شہر کراچی سمیت ملک بھر میں ہر علاقہ میں ایک سپیس فری رکھ کر ادھر علاقے کی بجلی فراہم کرنے کا بندوبست کردیا جائے ،علاقے علاقے میں بجلی ڈسٹریبیوشن کردی جائے ۔ کچرے سے یا ائیر پروجیکٹس سے یا کورنگی و ملیر کی خالی ریاستی زمین  پر  سولر پلانٹ لگادیں  تو شاید  کراچی ،حیدرآباد و سکھر کو بجلی آسانی سے فراہم کی جاسکتی ہے.
آبادی اور سڑکوں کا نظام بہتر کرنے کے لئےزیر زمین بھی  گھروں کی تعمیر کی جائے،

گاڑیوں کی پارکنگ گھروں کے نچلے حصے میں ہو اور ہر سوسائٹی کا ایک مخصوص نقشہ ہو، فٹ پاتھ پر ڈھائی فٹ کی پارکنگ کی جگہ ،جس کی اجازت سب کو دی گئی ہے،اسے  ختم کیا جائے اور تجاوزات کا درست طرز پر خاتمہ کیا جائے ، شیلٹر ٹیکس اور ہورڈنگ مارکیٹنگ وال چاکنگ ٹیکس سٹی گورنمنٹ کے علاقے میئرز کو دئیے جائیں جس سے وہ مارکیٹ کے مسائل حل کرسکیں ۔
کچرا اٹھانے والے مسئلے کو بھی صاف صاف پاکستان مہم ڈیٹول کے ساتھ مل کر ملک بھرمیں چلایا جائے تاکہ چھوٹے بچے ہی بڑوں کو تربیت دیں کیونکہ اب بڑے تربیت کم دیتے ہیں طعنے زیادہ ،اگر مختلف  کمپنیوں کے ساتھ مل کر  مختلف  ایڈورٹائزمنٹ  چلائی جائے  تو اگلی نسل کو ہم بہتر ماحول منتقل کرسکیں گے۔ ایسے ہی پلانٹیشن پر بھی اشتہار کے ذریعے کیمپین چلائیں ۔۔ کچرے کی ذمہ دار میونسپل کارپوریشن سے زیادہ ہم خود عام عوام ہیں اگر میری بات کو توجہ دیں تو تیزی سے بہتری آسکتی ہے ۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *