عافیہ کو شفاف ٹرائل دیں ۔۔محمد عامر حسینی

کچھ لوگ مجھ سے عافیہ صدیقی کے بارے میں سوال کررہے ہیں۔میں تاریخ کے اس لمحے میں اپنے ضمیر کو کسی مصلحت کا شکار ہونے نہیں دینا چاہتا۔میں عافیہ صدیقی کے بارے میں سچائی کو اس لیے نہیں چھپانا چاہتا کہ وہ میرے نظریات کے مخالف سمت میں کھڑی ہے۔

عافیہ صدیقی پاکستان کی شہری ہے۔اسے جس طرح سے پاکستانی حکام کی موجودگی میں امریکی سی آئی اے نے پہلے افغانستان اور پھر امریکہ منتقل کیا،یہ انتہائی بے شرمی اور بے عزتی کی بات تھی اور یہ پاکستانی حکام کے ماتھے پہ کلنک کا ٹیکہ بن کر رہے گی۔

عافیہ صدیقی 80ء کی دہائی سے ہی جہاد افغانستان کا حصّہ رہی اور وہ جن سرگرمیوں میں ملوث تھی،سردجنگ کے دنوں میں ان سرگرمیوں کو امریکہ،یورپ اور مڈل ایسٹ میں امریکہ کے اتحادی اور پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کی تائید حاصل تھی۔

عافیہ صدیقی تحریک طالبان افغانستان اور القاعدہ کے ساتھ تعاون میں 90ء میں آئی تو تب بھی پاکستان کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کو اس بارے میں علم تھا اور اس پہ کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

عافیہ صدیقی نائن الیون کے بعد بھی وہی کچھ کررہی تھی جو وہ 80ء سے 99ء تک کرتی رہی تھی۔ایسے میں اگر عافیہ صدیقی پہ امریکی باشندوں کو قتل کرنے یا دیگر الزامات تھے تو پاکستانی حکومت کو اپنے ہاں اس پہ ٹرائل شروع کرنا چاہیے تھا۔اور اس کے بعد پاکستان کی عوام کو ثبوت و شواہد پیش کرکے عافیہ صدیقی کو باقاعدہ قاعدے قانون کے ساتھ امریکہ کے حوالے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہونا چاہیے تھا۔

عافیہ صدیقی کے ساتھ امریکہ میں جو بھی سلوک ہوا،اس پہ پاکستانی ریاست کی خاموشی کی تائید کسی صورت نہیں کی جاسکتی۔عافیہ صدیقی کا امریکہ میں شفاف ٹرائل ممکن بنانے کے لیے حکومتوں نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔

عافیہ صدیقی 80ء کی دہائی میں امریکی سرمایہ داری بلاک کے نزدیک دہشت گرد نہیں تھی بلکہ ایک مقدس فرض سرانجام دے رہی تھی اور نائن الیون سے پہلے تک عافیہ صدیقی پاکستانی ریاست کی غیر منتخب ہئیت مقتدرہ کی نظر میں دہشت گرد نہیں تھی اور یہ سب کچھ افغانستان پہ حملے کے بعد بدلا۔

عافیہ صدیقی سمیت ہزاروں لوگوں کو امریکی سامراج،سعودی عرب اور پاکستان کے ضیاء الحقی ٹولے اور ان کے اتحادی سلفی-دیوبندی ملّا کیمپ نے پیدل سپاہیوں کی طرح استعمال کیا اور پھر ان کو بعد میں ان جرائم کی پاداش میں مارا جن کی طرف سب سے پہلے رہنمائی انہوں نے ہی کی تھی۔

عافیہ صدیقی کو شفاف ٹرائل کا حق ملنا چاہیے، اس کی امریکہ میں اس وقت جو پوزیشن ہے اس بارے بھی قوم کو آگاہی دی جانی چاہیے اور ایک پاکستانی شہری کو جس طرح سے اغواء کرکے امریکہ پہنچایا گیا اس دوران حکومتوں کی نااہلی پہ بھی ریاست کی طرف سے معافی مانگی جانی چاہئیے۔اور ان کرداروں کو بے نقاب کیا جانا بھی ضروری ہے جنھوں نے پاکستان کے نوجوانوں کو افغانستان، کشمیر اور دیگر جگہوں پہ ‘پیدل سپاہی’ کی طرح استعمال کیا اور پھر ان کو مار کر بھی امریکی ڈالر کھرے کیے۔وہ آج تک معزز اور محتشم بنے کیوں بیٹھے ہیں؟

عامر حسینی
عامر حسینی
عامر حسینی قلم کو علم بنا کر قافلہ حسینیت کا حصہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *