انٹرویوز میں بدلتے صحافتی رحجانات

تم آگئے ہو! یہ لمحہ فکریہ ہے
پچھلے کچھ سالوں سے الیکٹرانک پر ٹاک شوز میں متنازعہ لوگوں کو بٹھا کر ریٹنگ حاصل کرنے کا رواج شروع ہوا ہے ۔ دو مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کو آمنے سامنے بٹھا کر لڑوا دیا جاتا ہے۔ سیاسی ، مذہبی اورفلمی اداکار دین پر سیاست پر گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں
اب یہ ٹرینڈ سوشل میڈیا میں بھی چل پڑا ہے ابھی پچھلے دونوں کچھ بلاگرز اور صحافیوں نے بدنام زمانہ کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ جو اس وقت اہل سنت والجماعت پاکستان کے نام سے فنکشن کر رہی ہے اس کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل میں شامل رکن مولانا محمد احمد لدھیانوی کا انٹرویو کیا
انٹرویو کیا تھا بس گپ شپ تھی سوالات کیا تھے ڈیڈبالز تھیں جنہیں لدھیانوی صاحب کریز سے باہر نکل نکل کر چھکے مارتے رہے۔ میرا ذاتی خیال تھا کہ آنے والے وقت میں سوشل میڈیا سے رائیٹر اور بلاگرز حامد میر، جاوید چوہدری اور حسن نثار وغیرہ کو کڑی ٹکر دینے والے ہیں مگر یہ انٹرویو دیکھ کر مجھ جیسے ادنیٰ لکھاری کو حیرت اور مایوسی ہوئی جب ہمارے سینیئر اور بڑے ہی ہزاروں لوگوں کی قاتل جماعت اور "کافر کافر شیعہ کافر " کے موجد کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ انکے ساتھ سیلفیاں بنوا رہے ہیں انٹرویو کے نام پر انکے امیج کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انٹرویو میں سوالات ہوتے ہیں جوابات ہوتے ہیں ۔یہ کیا کہ ایک بندے کا انٹرویو ہے اور وہ مسلسل اپنے خیالات کا اظہار کیے جارہا ہے؟
لدھیانوی صاحب نے متعدد پروگراموں میں فرقہ وارانہ گفتگو کی اور ایک مخصوص فرقے کو ہٹ کرتے رہے انکی جماعت شیعہ اور بریلوی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے سبب کالعدم قرار دی گئی آپ نے اپنے جلسوں اور تقریروں میں شیعہ کو کافر اور واجب القتل قرار دیا جسکی سیاست میں آنے کے بعد وضاحتیں دیتے رہے۔ آپکے بدنام زمانہ ملک اسحاق، ریاض بسراء، اورنگزیب فاروقی وغیرہ سے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں ۔یہ تعلقات ایک استاد اور سرپرست کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں۔
انٹرویو کا مطلب ہوتا ہے آپ اپنے مہمان کا انٹرویو لیں ناکہ وہ ہی آپکا لینا شروع کردے اور آپ پاس بیٹھے واہ واہ کرتے رہیں ۔دوسرا آپ کے سوالات قوم نہیں تو کم از کم آپکے پڑھنے والوں کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوں ناکہ آپکا مہمان اپنے چاہنے ں کو اپنی گفتگو سے امن پسند ثابت کرتا رہے۔
انٹرویو کا ایک مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ کچھ ایسا جانا جائےجو ہم پہلے نہیں جانتے ۔ یہ سارے سیاسی بیانات اور لچھے دار باتیں تو ہم اکثر سنتے آرہے ہیں (جبکہ حقیقت کچھ اور ہے)
انٹرویو لینے والے کاکام ہوتا ہے کوئی ایسی بات نکلوانا جو اس سے پہلے مہمان کے حوالے سے کوئی نا جانتا ہوں (ناکہ صرف اپنا کام نکلوانا)
انٹرویو ہمیشہ نیوٹرل بندہ لیتا ہے ناکہ ایسا شخص جو دل سے ممنون ہو کہ آپ ہمارے گھر تشریف لائے
سوال جواب دو ٹوک ہوتے ہیں ناکہ ایک لمبا چوڑا بیانیہ
ملاقات اور انٹرویو میں فرق ہوتا ہے اسکو انٹرویو کہنا ایک مذاق ہے۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ پہلے بتا دیتے کہ لدھیانوی صاحب آرہے ہیں اور لوگوں کے سوالات بھی شامل کرتے اس سے ایک تو آپ کو جاندار اور تگڑے سوالات میسر آتے اور یہ بھی بہانہ ہوتا کہ یہ سوال قارئیں کی جانب سے پوچھے جا رہے ہیں۔
بہرحال میں سمجھتا ہوں یہ "انٹرویو" سستی شہرت اور ریٹنگ حاصل کرنے کیلیے ارینج کیا گیا تھا جس میں کچھ حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *