ڈاکٹر نوہیرہ شیخ۔۔ندیم سبحان میو

ڈاکٹر نوہیرہ شیخ نے ایک جدی پشتی کاروباری خاندان میں آنکھ کھولی تھی۔ وہ کم عمری ہی میں کاروباری سرگرمیوں میں اپنے والد شیخ ننھے صاحب کا ہاتھ بٹانے لگی تھیں۔ یوں نوجوانی ہی میں وہ کاروباری اسرارورموز اور تجارتی دنیا کی باریکیوں سے واقف ہوگئی تھیں۔ کاروباری ہونے کے ساتھ ساتھ نوہیرہ شیخ کا خاندان مذہب سے بھی بہت قریب تھا۔ چناں چہ تجارت سے دل چسپی کے ساتھ ساتھ مذہب سے لگاؤ بھی انھیں ورثے میں ملا۔ انیس سال کی عمر میں وہ عالمہ کا کورس مکمل کرچکی تھیں۔

1998ء میں ڈاکٹر نوہیرہ شیخ نے ہیرا گروپ کی بنیاد ڈالی۔ یہ گروپ آج بیس کمپنیوں پر مشتمل ہے۔ اس کا دائرہ کار سونے کی خریدوفروخت، سرمایہ کاری، ٹیکسٹائل، زیورات، منرل واٹر، گرینائٹ، ٹورس اینڈ ٹریولس، رئیل اسٹیٹ، الیکٹرانکس اور حج و عمرہ سروسز جیسے شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ہیراگروپ کی کاروباری سرگرمیاں صرف بھارت تک محدود نہیں ہیں۔ بھارت کے علاوہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، چین، کینیڈا اور گھانا سمیت کئی ممالک میں اس کا کاروبار پھیلا ہوا ہے۔ ہیرا گروپ کے تحت دو تعلیمی ادارے بھی چل رہے ہیں جہاں مذہبی اور عصری تعلیم دی جاتی ہے۔

ڈاکٹر نوہیرہ شیخ کے پیش نظر یہی مقصد تھا۔ وہ حال ہی میں قائم کی جانے والی آل انڈیا مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی ( ایم ای پی) کی بانی ہیں۔ ہندوستان کے سیاسی نقشے پر اُبھرنے والی یہ واحد جماعت ہے جس نے ’ انصاف انسانیت کے لیے‘کا نعرہ بلندکیا ہے۔ پارٹی کے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر نوہیرہ شیخ کہتی ہیں،’’ اس سیاسی جماعت کے قیام کا بنیادی مقصد بھارتی خواتین کو بلا لحاظ مسلک، مذہب، علاقہ اور ذات برادری بااختیار بنانا اور انہیں معاشرے میں ایک باعزت مقام دلانا ہے۔‘‘

ڈاکٹر نوہیرہ کہتی ہیں مرکزی سیاسی جماعتیں خواتین کے حقوق کی بات ضرور کرتی ہیں مگرعملاً اس سلسلے میں کچھ کرنے سے ہمیشہ گریزاں رہی ہیں یا پھر کسی جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد کچھ کیا بھی ہے تو برائے نام۔ مجموعی طور پر بھارتی مہیلاؤں کے لیے گھر میں اور گھر کے باہر زندگی بسر کرنا دشوارتر ہوتا جارہا ہے۔ موجودہ سیاسی جماعتوں کی کارکردگی سے ہندوستانی خواتین مطمئن نہیں ہیں، اسی لیے انھوں نے ان کی فلاح و بہبود کے لیے اور ملک میں تبدیلی لانے کے عزم سے یہ قدم اٹھایا ہے۔

آل انڈیا مہیلا ایمپاورمنٹ پارٹی کا بنیادی مقصد خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا، ان کی فلاح و بہبود ہے مگر لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی تعلیم کے لیے اقدامات کرنا، بچوں سے مشقت لینے اور ان پر تشدد کے انسداد کے لیے آواز اٹھانا بھی اس کے اغراض و مقاصد میں شامل ہے۔

ڈاکٹر نوہیرہ کہتی ہیں کہ ان کی پارٹی کے دروازے تمام مذاہب کے لوگوں کے لیے کھلے ہیں البتہ اس میں 80 فی صد خواتین ہوں گی۔ ایم ای پی کی بانی صدر کا دعویٰ ہے کہ اب تک ملک کی تمام ریاستوں سے سولہ لاکھ افراد پارٹی کے ممبر بن چکے ہیں جن میں 80 فیصد خواتین ہیں اور ان میں مسلم اور غیر مسلم سبھی شامل ہیں۔

ایم ای پی ہندوستان بھر میں سرگرم ہوگی۔ نوزائیدہ پارٹی کا پہلا امتحان عنقریب کرناٹک میں ہونے والے ریاستی انتخابات ہیں جس کے لیے ڈاکٹر نوہیرہ اور ان کی ٹیم نے تیاریاں شروع کردی ہیں۔

ڈاکٹر نوہیرہ شیخ کے مطابق وہ سب سے پہلے قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے 33 فیصد نشستیں مختص کرنے سے متعلق بل منظور کرانے کی کوشش کرے گی جو سولہ برسوں سے پارلیمنٹ میں زیر التوا ہے۔

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *