کمپیوٹر میں اپنا دماغ اپ لوڈ کرنے کی خواہش جان لیوا

سلیکون ویلی سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ ارب پتی نوجوان نے خود کو قتل کرنے کی بھاری رقم ادا کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کی زندگی میں ہی انسانی دماغ کا کمپیوٹر کے طور پر استعمال ممکن بنا دیا جائے گا۔ نیٹ کام کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ انسانی دماغ کو محفوظ کر کے اسے کمپیوٹر میں لگا سکتی ہے۔ کمپیوٹر میں انسانی دماغ کا استعمال کر کے انسان کو دماغی طور پر ہمیشہ کی زندگی فراہم کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس عمل میں انسان کی موت لازم ہے۔ سیم آلٹ مین نے اس کمپنی کو اپنا دماغ محفوظ کرنے کے لئے دس ہزار ڈالرز ادا کئے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ انہوں نے دراصل خود کو جان سے مار دینے کے لئے رقم ادا کی ۔ اس کام میں وہ اکیلے نہیں بلکہ چوبیس لوگ اور بھی شامل ہیں جو مرنے کے لئے رقم ادا کر چکے ہیں۔ نیٹ کوم کمپنی کا دماغ کو محفوظ کرنے والا محلول انسانی جسم کو ہزار سال تک محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس طرح مستقبل میں سائنسدان محفوظ شدہ دماغ کو کمپیوٹر کی شکل میں لا سکیں گے۔ محفوظ کرنے کے عمل میں دماغ کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ اس لئے محلول کو زندہ جسم میں ہی پہنچانا ہوگا۔ اس طریقے سے اس انسان کی موت بھی واقع ہوگی۔ البتہ اس عمل کو ڈاکٹر کی تجویز کردہ خودکشی کے عمل سے مشابہت دی جاتی ہے۔ طبی طور پر تجویز کردہ خودکشی امریکا کی پانچ ریاستوں میں جائز ہے۔ نیٹ کام کمپنی نے تحقیق کے لئے بڑی اکثریت میں اجازت حاصل کرلی ہے۔ یہ کمپنی مشہور نیورو سائنسدان کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ یہ ایک جانور کے دماغ کو پہلے ہی محفوظ کر چکے ہیں۔ اور ایلکٹران مائیکرو سکوپ کے ذریعہ اس دماغ میں اشارہ دینے کے عمل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ البتہ یہ ایک بڑی سائنسی پیش رفت ہے جس نے اسی ہزار ڈالرز کا انعام بھی اپنے نام کیا ۔  اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ عمل واقعی دماغ کی کارکردگی کو بحال رکھے گا یا نہیں۔ بہرحال سیم آلٹ سمیت بہت سے لوگوں نے اس کمپنی کے مستقبل کے صارفین کی لسٹ میں اپنے نام داخل کر دیا ہے۔ جب بھی یہ عمل ممکن اور قانونی طور پر جائز ہوگیا یہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *