کیوں کھٹک رہا ہے تبلیغ مذہب کا بنیادی دستوری حق؟۔۔ابھے کمار

گزشتہ برس ماہ نومبر میں اُتر پردیش لا کمیشن نے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ایک رپورٹ پیش کی تھی، جس میں اس نے کہا تھا کہ موجودہ قانون’’جبری‘‘ طریقے سے کروائے جانے والے تبدیلئ مذہب کو روکنے کے لیے ‘’کافی نہیں‘‘ہے، لہٰذا ایک نیا قانون بنانے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کے سامنے بیان دیتے ہوئے لا کمیشن کے سربراہ جسٹس آدتیہ ناتھ مِتّل نے کہا کہ’’موجودہ قانونی توضیحات تبدیلئ مذہب کو روکنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ تبدیلئ مذہب جیسے سنجیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک نئے قانون کی ضرورت ہے جیساکہ دیگر 10ریاستوں میں بنایاجاچکاہے‘‘۔

چنانچہ کمیشن نے یہ سفارش کی ہے کہ’’جبراً‘‘ مذہب تبدیل کرانے والوں کے لیے سزا پانچ سال تک بڑھا دی جائے۔ اگر کسی دلت (ایس سی) اور آدی واسی (ایس ٹی) کا جبراً مذہب تبدیل کرایاجاتا ہے تو اس میں ملوث ملزموں کو سات سال کی قید ہوسکتی ہے۔ اُتر پردیش کی یوگی سرکار اس رپورٹ کامطالعہ کر رہی ہے اور وہ جلد ہی وہ اس بات کا اعلان کرے گی کہ وہ لا کمیشن کی ساری سفارشات کو نافذ کرے گی یا پھر اس کا ایک حصّہ نافذکرے گی۔ لا کمیشن کی رپورٹ میں تبدیلئ مذہب کے خلاف ظاہر ی بےچینی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہاہے کہ ہندو شدت پسند تنظیم آج بھی بھارت کے آئین میں فراہم کیے گئے مذہبی آزادی کے بنیادی حقوق اور سیکولرازم کے اقدار کو قبول نہیں کر پائی ہے!اپنے ناقدین پر وہ’’غدار وطن‘‘ اور آئین کی توہین کا الزام دن رات لگاتی رہی ہے، مگر خود وہ آئین کی روح کے خلاف قانون بنانے کی وکالت کرتی رہتی ہے۔ بعض اوقات وہ خود آئین کی تمہید’’آزادی خیال، اظہاررائے، عقیدہ، دین اور عبادت‘‘ کی تائید کرتی نظر نہیں آتی۔ آئین ہند کے بنیادی حقوق کی آرٹیکل 25میں صاف طور سے لکھا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ اپنے مذہب پر چلیں اور اس کی تبلیغ اور اشاعت بھی کریں۔

مصنف: ابھے کمار

اپنے مذہب پر چلنے اور اشاعت کرنے کی آزادی سیکولرازم کاایک اہم ستون ہے۔ اگر لوگوں کو صرف مذہب پر چلنے کی آزادی دے دی جائے اور اس کی تبلیغ اور تشہیر کرنے کے حقوق نہ دیے جائے، تو وہ سماج سیکولر نہیں کہا جائےگا۔ اس کی ایک بڑی وجہ شاید یہ ہے کہ اگر کوئی ریاست خود کو لبرل، آزاد اور جمہوریت پسند کہتی ہے تو اسے اپنے شہریوں کو اظہار رائے کی آزادی دینی ہوگی۔ یہ ہر انسان کے اظہار رائے کی آزادی کے حقوق کے اندر آتا ہے کہ وہ دوسروں کو بتلا سکے کہ وہ کیوں کسی ایک مذہب کو بہتر سمجھتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان کو اس بات کی آزادی ہونی چاہیے کہ وہ مذہب کو مانے یا کسی اور مذہب کو قبول کر لے۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندو شدت پسند عناصرخود تو دن رات اپنے مذہب کی تشہیر کرتے رہتے ہیں، مگر دوسری طرف وہ اقلیتوں پر’’جبری‘‘ طر یقے سےلوگوں کا ‘’دھرم پریورتن‘‘کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ بعض اوقات اقلیتوں کو جھوٹے مقدموں میں پھنسایا جاتا ہے اور کچھ کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ سب ان کے دلوں میں ڈر پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ زور زبردستی نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ آئین کی روح کی خلاف ورزی نہیں تو او ر کیا ہے؟

سماج میں اگرنا برابری ہوگی، اونچ نیچ کا نظام قائم رہےگا اور طبقاتی نظام پر لوگوں کو بانٹ کر رکھا جائے گا تو یہ ممکن ہے کہ جو لوگ استحصال کے بوجھ تلے دبے ہیں اور ذلت کی زندگی جی رہے ہیں، وہ اس سماج اور مذہب کی طرف اُمید بھری نظر وں سے دیکھیں گے جہاں مساوات، برابری اور وقار کی روشنی چمک رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو سماج کے بہت سارے کمزور اور محکوم طبقے کے لوگ تبدیلئ مذہب کو اپنی’’ غلامی‘‘ سے آزادی حاصل کرنا تصوّر کرتے ہیں۔ ہندو شدت پسند تنظیم اگر صحیح معنوںمیںانسان کی آزادی کا پیروکا ر ہے، تواسے تبدیلئ مذ ہب کے خلاف سخت قانون بنا نے کے بجا ئے لوگوں میں جذبہ اخوت پیدا کرنا چاہیے اور اس کی راہ میں پڑی رکاوٹ (جیسے ذات، برادری اور طبقاتی نظام) کو ختم کرنا چاہیے۔

حالانکہ تبدیلئ مذہب کو لے کر ہندو شدت پسند عناصر میں پائے جانے والی بے چینی کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ جنگ آزادی کے دوران بھی اس طرح کے مسئلے اٹھے تھے اور اسے لےکر خون بھی بہایا گیا تھا۔ اُس دور میں بھی بعض شدت پسند لوگوں کو لگتا تھا کہ اسلام اور عیسائیت سے جڑے لوگ ہندوؤں کا زبردستی دھرم تبدیل کروا چکے تھے۔ گاندھی جی بھی تبدیلئ مذہب کی تائید نہیں کرتے تھے۔ ان کی رائے بابا صاحب امبیڈکر سے قدرےمختلف تھی۔ امبیڈکر نےتبدیلئ مذہب کو دلتوں کے لیے ہندو مذہب سے ‘’نجات پانے‘‘(Emancipation) سے تصوّر کیااور اپنی وفات سے کچھ ہی مہینوں پہلے اپنے لاکھوں پیروکاروں کے ساتھ ہندو مذہب کو ترک کیا اور بدھ مذہب قبول کر لیا۔ اس کے برعکس گاندھی جی کا کہنا تھا کہ دنیا کے تمام مذاہب کی بنیادی تعلیم ایک جیسی ہے، اس لیے تمام مذہب کا احترام ہونا چاہیے۔

تبدیلئ مذہب اور اس کی تشہیر پر آئین ساز اسمبلی میں بھی بڑی بحث ہوئی۔ حالانکہ بھارت کے آئین میں تبلیغ اورتشہیر شہریوں کا بنیادی حق تسلیم کیا گیاہے، مگر اس کی مخالفت اور دفاع میں بہت سارے ممبران نے تقریریں کیں۔ اس بحث کو پھر سے یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس لیے کہ عوام با لخصوص نئی نسلیں یہ جان سکیں کہ آخر ہمارے بزرگوں نے کیا کیا دلیلیں دیں اور اُن سے کیا نصیحت لی جا سکتی ہے۔ کیا ان کی دلیلیں ہمیں سیکولرازم پر چھائے ہندوتوا کے خطروں سے نظریاتی طور سے مقابلہ کر نے کے لیے مواد فراہم کرتی ہیں؟

کیا مذہب کی تبلیغ اور اشاعت سیکولرازم اور مذہبی آزادی کا حصہ ہونا چاہیے؟ اس موضوع پر 6دسمبر 1946کو آئین ساز اسمبلی میں بحث چھیڑی گئی۔ اوڈیشاکے لوک ناتھ مسرا کا یہ ماننا تھا کہ مذہب کی تبلیغ اور اشاعت کے حقوق آئین میں نہیں ہونے چاہئیں۔ اُن کی دلیل یہ تھی کہ تبلیغ اور اشاعت کا فا ئد ہ اٹھا کر عیسائیت پچھلے دروازے سے ہندوؤں کی سماجی زندگی کے مضافات تک پہنچ چکی ہے اور اسے اگر روکا نہ گیا تو ہندو ثقافت فنا ہو جائےگی۔ مسرا کی تقریر بہت حد تک ہندو شدّت پسندوں کے نفرت انگیز پروپیگنڈوں سے مماثلت رکھتی ہے۔ حالانکہ مسرا ظاہری طور سےیہ بھی قبول کرتے ہیں کہ اُنہیں کوئی ‘’جھگڑا عیسٰی یا محمد سے نہیں ہے اور نہ ہی ان باتوں سے ہے ‘‘،انہوں نے جو دیکھا وہی کہا۔ مگر اُن کو جو چیز ہندوتوا آئیڈیالوجی کے قریب لا دیتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ بھارت کو ہندو دھرم اور کلچر کی دوسری شکل سمجھتےتھے۔ تبھی تو اُن کو یہ بات ڈرا رہی تھی ہے کہ اگر آزاد بھارت میں تبلیغ اور اشاعت کو آئینی ضمانت مل گئی تو کہیں ہندو کلچر پر اسلام اور عیسائیت غالب نہ ہو جائے اور اس کی ہستی نہ مٹ جائے۔ تبھی تو وہ تبلیغ اور اشاعت کو آئینی تحفظات فراہم کرنا ایک بڑا ‘’خطرہ‘‘ تصور کرتے تھے۔ اُنہوں نے مذہب کی تشہیر کے حقوق کو آئین ساز اسمبلی (ہندو سماج) کی ‘’نا جائز سخاوت‘‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ انصاف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس سر زمین کے قدیم(ہندو) عقیدہ اور ثقافت کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے۔ مگر ہم قبائلی برادری ہزاروں سالوں کے ظلم اوراستبد اد کے بعد اس کو اس کا واجب مقام دینے سے قاصر ہیں۔

یہ فرقہ ورانہ تعصّب نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ آئین ساز اسمبلی کے ممبر مسرا غیر ہندوں کو اپنے مذہب کی تشہیر کے حقوق کو ملک کے لیے خطرہ سمجھ رہے تھے اور ہندوؤں کو وہ باخبر کرنا چاہتے تھے کہ تم مسلمانوں اور عیسائیوں کو تشہیر مذہب کے آئینی حقوق دینے کی’’ناجائز سخاوت‘‘مت دکھلاؤ،کیوں کہ یہ ہندو سماج اور کلچر کے لیے خطرناک ہے۔ کچھ اسی طرح کی متعصبانہ مشورہ اُتر پردیش حکومت کو لا کمیشن کی رپورٹ میں بھی دیاگیا ہے۔

خیال رہے کہ مسرا نےتشہیر مذہب کو ردِّ کرتے وقت جو دلیل پیش کی وہ کچھ حد تک گاندھی جی سے ملتی ہے۔ مسرا کا کہنا تھا کہ مذہب کی تشہیرلوگوں کو مختلف فرقوں میں بانٹ دیتی ہے اور اُن کو آپس میں لڑا تی ہے۔ مگر وہ اتنا کہہ کر چپ نہیں ہو ئے بلکہ گاندھی جی کی مذہبی آہنگی کے پیغامات کے برخلاف وہ اسلام اور عیسائیت کے بارے میں غلط بیانی کرنے لگے:’’اسلام نے ہندو سوچ کے خلاف اپنی دشمنی کا اعلان کر دیا ہے۔ عیسائیت نے پچھلے دروازے سے ہماری سماجی زندگی کے مضافات تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ ہندو دھرم نے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے راستوں میں رکاوٹیں نہیں ڈالیں۔ مگر ہندو سخاوت کا غلط استعمال کیا گیا ہے اور سیاست نے ہندو کلچر کو کچل ڈالا ہے۔ ہم سب کو اب اقلیتوں کی بات نہیں اُٹھانی چاہیے کیوں کہ یہ آنے والے دنوں میں اکثریت کو نگل جانے کی حکمت عملی ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ مذہب کی تشہیر کے توضیحات کسی بھی ملک کے آئین میں نہیں ہے۔ لہذابھارت کا آئین بھی اسے آئینی تحفظ نہ دے۔ مسرا نے یہ بھی کہا کہ اُن کو اس بات سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ عوام کسی مذہب کی تشہیرکر ر ہے ہیں۔ مگر تشہیرمذہب کو آئین کے اندر نہ لایا جائے اور نہ ہی ان کو بنیادی حقوق کے دائرے میں لایا جائے کیوں بنیادی حقوق کو کبھی چھینا نہیں جا سکتا ہے، بعد میں یہ تشدد پیدا کرے گا۔

مسرا کی دلیل سے اپنی نا اتفاقی ظاہر کرتے ہوئے، مدراس سے مسلم لیگ کے ممبر محمد اسماعیل نے کہا کہ جھگڑایہ نہیں ہے کہ مذہب کی تشہیر ہو رہی ہے یا پھر لوگ مذہب پر چل رہے ہیں۔ جھگڑےکی وجہ مذہب کےبارے میں پائی جانے والی غلط فہمی ہے۔ میرے فہم کے مطابق اگرلوگ اپنے اپنے مذہب کو اچھی طرح سے سمجھ لیں اور اس پر صحیح طریقوں سے چلیں تو کوئی جھگڑا پیدا ہی نہیں ہوگا۔ اگر کسی وجہ سے کوئی جھگڑا سامنے بھی آیا ہے تو یہ سمجھنا صحیح نہیں ہے کہ اس جھگڑے کی وجہ سے مذہب پر چلنے اور اس کی تشہیر کرنے کے بنیادی حقوق کو ہی ختم کر دیا جائے، تبھی تو اسماعیل صاحب نے کہا کہ یہ لڑائی مذہب کو ختم کرنے سے دور نہیں ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی در اصل مذہب کو غلط سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اور بڑھتی ہے۔ ان کی دوسری اہم بات یہ تھی کہ اگر مذہب کے نام پر کبھی جھگڑا ہوتا بھی ہے تو اس کی وجہ سے لوگوں کو اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کرنے سے روکنا ہرگزجائز نہیں ہے۔ اگر اسماعیل صاحب آج زندہ ہوتے تو اُتر پردیش کی یوگی سرکار سے یہی کہتے کہ اگر کوئی ہندوؤں کو غلط طریقے سے مذہب تبدیل کرا رہا ہے تو اس شخص پر کارروائی ہونی چاہیے نہ کہ اسلام اورعیسائیت کے خلاف یہ پروپیگنڈا پھیلایا جانا چاہیے کہ اقلیتوں کے مذاہب نے’’سادہ لوح‘‘دلتوں اور آدی وسیوں کو گمراہ کیا ہے اور پورے ماحول کو فرقہ وارانہ بنایا ہے۔ پھر مغربی بنگال سے ممبر پنڈت لکشمی کانت مترا نے تقریر کی اورکہا کہ مذہب کی تشہیر کے بنیادی حقوق کو ختم کیے جانے کا مطالبہ قطعی طور پر غلط ہے۔ ان کی دلیل تھی کہ تشہیر مذہب اس لیے ضروری ہے کہ بھارت کو مغرب کے مادہ پرست سماج کو روحانیت سکھلانی ہے۔ ‘’ سوامی وویکا نند کہا کرتے تھے کہ ہندوستان کی عزت اور اس کااحترام اس کے روحانی ورثہ کی وجہ سے ہے۔ اپنی طاقتور مادہ پرست تہذیب، سائنس کے علوم کی حصولیابی، دنیا پر اپنی بالادستی قائم کرنے والی مغربی دنیا آج غریب ہے کیوں کہ اس کے پاس روحانی خزانہ نہیں ہے۔ اس صورت حال میں ہندوستان کا رول سامنےآجاتا ہے۔ ہندوستان، جہاں روحانی خزانوں کا خزانہ ہے وہیں اسےروحانیت کا درس مغرب تک پہنچانا ہے اور اپنے پیغامات وہاں بھیجنے ہیں‘‘۔

تشویشناک بات یہ نہیں ہے کہ پنڈت لکشمی کانت مترا ہندو ثقافت اور روحانیت کی تعریف بڑھ چڑھ کر رہے تھے۔ کسی بھی شخص کو اپنے مذہب کی تعریف اور بڑائی کرنے کاپورا حق ہے۔ مگرفکر کرنے کی بات یہ ہے کہ مسراجو تشہیر مذہب کی مخالفت کر رہے تھےاورمترا جو تشہیر مذہب کو درست قرار دے رہے تھے، بھارت کو ہندو کلچر کی دوسری شکل بتلانے کی غلطی کر رہے تھے۔ یہ غلطی ہندوستانی سیاست میں زیادہ تر مین اسٹریم کے لیڈر کرتے ہیں۔ اُن کے نزدیک بھارت اور ہندو کلچر اور مذہب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ وہی فرقہ ورانہ سوچ ہے جس کا استعمال آر ایس ایس اور بی جے پی کرتی آ رہی ہے۔

بھارت کو ہندو مذہب اور ثقافت سے جوڑنے کی غلطی برطانوی مورخوں اور مستشرقین نے کی تھی، جو آج بھی بڑی مضبوطی سے لوگوں کے ذہنوں کو جکڑے ہوئی ہے۔ جنگ آزادی کے دوران بھی قومی لیڈروں نے برطانوی حکومت کی مخالفت کی اور آزادی کا مطالبہ کیا، مگر اُنہوں نے کبھی اس بات پر زیادہ غور وخوض نہیں کیا کہ کس طرح اُن کی سمجھداری نو آبادیاتی اسکالروں کی تحریروں سے غلام بن چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے قومی لیڈروں نے اسلام اور عیسائیت کو بھارت میں باہر سے آئے مذہب کے گروپ میں رکھا اور ہندو دھرم کو ہندوستان کا اصلی مذہب سمجھنے کی غلطی جانے انجا نے میں کی ہے۔

بھلے ہی پنڈت لکشمی کانت مترانےپارلیمنٹ اندر ہندوازم اور بھارت کا فرق مٹا دیا ہو، مگر اُن کے اندر دوسرے مذہب کے تئیں نفرت کا جذبہ نہیں تھا۔ انہوں نےان دلیلوں کو خارج کیا جن میں عیسائیت کاخوف دکھایا گیا تھا۔ اُنہوں نے صاف طور پر کہا کہ جس طرح ہمارے دوست باتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں، اس طرح کی شدت کے ساتھ بھارت کے عیسائیوں نے اپنے مذہب کی تبلیغ نہیں کی ہے۔ میں اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے بے چین ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر فرقے کو اپنے مذہب کی تشہیر کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔ ایک سیکولر ریاست میں بھی مذہب کی ضرورت ہوتی ہے۔

ملک کو آزاد ہوئے اور آئین کو نافذ ہوئے 70سال سے زیادہ وقت گزر گیا ہے۔ مگر آج بھی ملک میں اقلیتوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کے الزام میں بعض اوقات نشانہ بنایا جا تا ہے۔ مثال کے طور پر آسٹریلیا سے آئے ہوئے گراہم اسٹوئرٹ اسٹینس اور اُن کے دو معصوم بچوں کو اس لیے زندہ جلا دیا گیا، کیونکہ اُن پر اڈیشہ میں ہندوؤں کا مذہب تبدیل کروانے اور عیسائیت پھیلانے کا الزام تھا۔

آسام سے آئین ساز اسمبلی میں ممبر روہنی کمار چودھری نے ذات برادری اور’’اچھوت‘‘دلتوں کی نظر سے تبدیلئ مذہب کے مسئلے کو دیکھا اور کہا کہ اس بات سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ جب کوئی اچھوت عیسائی بن جاتا ہے تو اس کو عیسائی سماج میں برابری مل جاتی ہے۔ اس کے لیے تو تبدیلئ مذہب ہی نجات کا راستہ ہے۔ یہ حقیقت ہےکہ بہت سارے لوگوں نے عیسائیت کو قبول کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عیسائیت اُن کو برابری کا درجہ دیتی ہے۔ جو اچھوت عیسائی بن جاتا ہے وہ ہر اعتبار سے’اعلیٰ ذات‘ہندو کے برابر ہو جاتا ہے۔

ذات برادری اور تبدیلئ مذہب کا مسئلہ کافی جڑا ہوا ہے۔ بہت سارے مورخوں کا ماننا ہے کہ بھارت میں زیادہ تر مسلمان اور عیسائی بھی تبدیلئ مذہب کا راستہ اختیار کرکے مسلمان بنے ہیں۔ اسلام کےمساوات والے پیغام نےیہاں کی پسماندہ ذاتوں اور اچھوتوں کواپنی جانب مائل کیا، اس طرح وہ دھیرے دھیرے اس کی آغوش میں آتی گئیں۔ یہ دلیل کہ تبدیلئ مذہب تلوار کے زور پر انجام دیا گیا اکثر ہندو شدت پسندوں کی طرف سے آتی ہے لیکن تاریخ ان دعووں کو تصدیق نہیں کرتی۔

امبیڈکر کا ماننا تھا کہ اچھوتوں پرچھوت چھات تھوپا گیا ہے اور اس نا انصافی کو دور کرنے کےبجائے ہندو مذہب اسی منافرانہ تعلیم پر عمل کرنے کو واجب قرار دیتا ہے۔ لہذا اس سے نجات پانے کے لیے انہوں نے ہندو مذہب ترک کر نے کا اعلان کیا اور اپنے پیروکاروں سے بھی تبدیلئ مذہب کی اپیل کی۔ ‘’میں ایک ہندو نہیں مروں گا‘‘امبیڈکر کے اس اعلان کے بعد ان کے ناقدین ان پر ٹوٹ پڑے۔ قدا مت پسند اور برہمنی نظریہ کے حامل لوگ سب سے زیادہ ناراض تھے اور اسے ہندو سماج پر بڑا خطرہ مان رہے تھے۔ بہت سارے دلت بھی امبیڈکر کے اس فیصلہ سے متفق نہیں تھے اور ان کا ماننا تھا کہ اچھوتوں کا مسئلہ ہندوسماج کے اندر ہی حل کیا جائے۔ گاندھی جی نے بھی امبیڈکر سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ ان کی دلیل تھی کہ ’اچھوت پر تھا‘اور اچھوتوں کے دیگر مسائل کا حل تبدیی مذہب ہرگزنہیں ہے۔ مگر امبیڈکرنے مذہب بدلنے کا عزم کر رکھاتھا۔ ان کی پہلی دلیل تھی کہ مذہب (religion) کا اصل مقصد بھلائی (good) ہوتا ہے۔ گاندھی جی کی یہ دلیل کہ دنیا کے تمام مذاہب بھلائی کی بات کرتے ہیں، لہذا مذہب کیوں بدلیں؟ یہ بات گاندھی جی نے امبیڈکر کے سامنے بھی رکھی تھی۔ اس کا جواب امبیڈکر نے یہ دیا تھاکہ بھلائی کی بات تو سب مذہب کرتے ہیں، لیکن بھلائی کیا ہے اس پرتمام مذاہب متفق نہیں ہیں۔ امبیڈکر نے ہندو دھرم کی مثال دے کر سمجھایا کہ اس میں بھلائی کا تصور تو ہے، لیکن یہ بھلائی ذات پات، اونچ نیچ اور چھوت چھات کی مذمت کرنے کے بجائے ان سب کا دفاع کرتی ہے۔ اس لیےاچھوتوں کے لیے ہندو دھرم میں رہناغلامی کے مترادف ہے۔ ان کی دوسری دلیل یہ تھی کہ مذہب کا اصل مقصد سماجی زندگی (social life)سے جڑا ہوتا ہے نہ کہ فوق الفطرت (supernatural) پہلوؤں سے اور جب انہوں نے ہندو دھرم کا تقابل دیگر مذاہب سے کیا تو پایا کہ یہاں تو اچھوتوں کے لیے نا انصافی ہی نا انصافی ہے۔ لہذااچھوتوں کے لیے اس استحصال زدہ زندگی سے نجات پانے کو انہوں نے ہندو دھرم کو ترک کرنا ضروری قرار دیا اور کہا کہ ہندودھرم سے باہر جوبھی مذہب سماجی مساوات اور اخوت کے نظریہ کو فروغ دیتا ہو، وہ اچھوتوں کے لیے مناسب ہے۔

تبدیلئ مذہب کا مسئلہ ہمیں ریزرویشن میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ آج بھی لاکھوں کروڑوں دلت مسلمان (پسماندہ مسلمان) اور دلت عیسائی کو ایس سی ریزرویشن سے باہر رکھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی گاؤں یا شہر میں کوئی ہندو دھوبی ہے تو اس کو ایس سی ریزرویشن دیا جاتا ہے۔ مگر اسی حال میں اگر اس کا کوئی پڑوسی مسلم یا عیسائی دھوبی رہتا ہے تو کو ایس سی کے مطابق اس کو ریزرویشن نہیں دیا جاتا۔ یہ تعصّب مذہب پر مبنی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ کیا یہ ہندوستانی سیکولرازم کی روح کی پامالی نہیں ہے؟

ایسا نہیں ہے کہ دلت مسلمان اور عیسائی کو کبھی ریزرویشن نہیں ملتا تھا۔ آزادی کے بعد اچانک1950میں ایک صدراتی فرمان لا کر دلت مسلم اور عیسائی دلتوں کو ایس سی ریزرویشن سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ تب سے لے کر اب تک یہ لوگ ایس سی زمرے میں اپنی شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کسی سرکار نے اس نا انصافی کو ختم نہیں کیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد یہاں کے حکمرانوں نے یہ طے کیا کہ ریزرویشن جیسے پروگرام صرف ہندو دلتوں اور آدی وا سیوں اور پچھڑوں کے لیے بنانے ہوں گے اوراقلیتوں جیسےمسلمان یا عیسائیوں کواس منصوبہ سے دور رکھا جائے گا۔ جوحقوق مذہبی اقلیتوں کو فراہم ہیں وہ مذہبی آزادی اور ثقافتی حقوق سے متعلق ہیں۔ ان سب کے پیچھے جو تعصّب کام کر رہا تھا وہ یہ تھا کہ مسلمان اور عیسائی ہندو سماج سے الگ ہیں اور اگر دلت مسلمان اور دلت عیسائی کو ایس سی ریزرویشن دیا گیا تو اس سے تبدیلئ مذہب کو فروغ ملےگا اور بڑی تعداد میں پسماندہ ہندو مسلمان اور عیسائی بن جائیں گے۔ ممبئی سے رکن پارلیمنٹ کے ایم منشی نے مذہب کی تشہیرکے حق میں اپنی بات رکھی۔ اس وقت منشی کانگریس کے لیڈر تھے اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان کو قانون اور آئین کی اچھی سمجھ ہے۔ بعد میں منشی کانگریس چھوڑ کر سو تنتر پارٹی میں شامل ہوگئے اور اپنے آخری دنوں میں وہ جن سنگھ( جو بعد میں بی جے پی کہلانے لگی) میں چلے گئے۔ منشی نے بھی مذہب کی تشہیرکے بنیادی حق کی وکالت کی اور کہا کہ’’جب کوئی کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنی مرضی سے اپنی ضمیر کی آواز سن کر تبدیلئ مذہب کرتا ہے تو اس کو تسلیم کرنا ہوگا‘‘۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تبدیلئ مذہب کی حمایت کرنے والوں میں سے بعض نے ‘’اپنی مرضی سے، ضمیر کی آواز سن کر‘‘ جیسی شرطیں لگا ئیں، جس کا غلط استعمال بعد میں ہوتا رہا ہے۔ یہ کتنے افسوس کی بات یہ کہ آئین ہمیں تبدیلئ مذہب کا بنیادی حق دیتا ہے، جس کو کسی بھی قیمت پر خارج نہیں کیا جا سکتا ہے۔ مگر’’جبر‘‘ کا مسئلہ اٹھا کر فرقہ پرست طاقتیں ایسے قانون بناتی رہی ہیں جو انسان اور اس کی مذہبی آزادی کے بیچ میں آ کھڑا ہوتا ہے۔ کیسے ایک سرکاری افسر طے کرے گا کہ کس فرد نے اپنی مرضی سے کوئی مذہب اختیار کیاہے؟ ایک سیکولر ملک کی سرکاروں کو ان سب باتوں سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی تو سیکولر اقدار کی پامالی ہے کہ جب کوئی فرد مسلمان یا عیسائی بن جاتا ہے تو سرکا ر، حکمراں اور سیاست دان پریشان ہو جاتے ہیں اور اس کو ہندو سماج کے لیے خطرہ قرار دے دیاجاتا ہے اور پھر فرقہ وارانہ سیاست شروع ہو جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ جب تک کوئی شخص خود یہ شکایت نہ کرے کہ فلاں شخص نےجبراً اس کامذہب تبدیل کروایا ہے یا کروانا چاہتا ہے، تب تک سرکار ان سب باتوں سے دور رہے۔ مگر سیکولر حکومت اور سیکولر پارٹی بھی کسی ہندو کے مذہب بدلنے پر پریشان ہو جاتی ہے۔ کیا ان سب باتوں کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اقتدار میں قابض لوگ پوری طرح سے ہندو فرقہ ورانہ سوچ سے آج بھی باہر نہیں نکل پائے ہیں؟

(مضمون نگار جے این یو میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔)

Avatar
ابھے کمار
ابھے کمار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں شعبہ تاریخ کے ریسرچ اسکالر ہیں۔ ان کی دلچسپی ہندوستانی مسلمان اور سماجی انصاف میں ہے۔ آپ کی دیگر تحریرabhaykumar.org پر پڑھ سکتے ہیں۔ ان کو آپ اپنے خط اور اپنی رائے debatingissues@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *