لبرل ازم کی ناکامی

لبرل ازم کی ناکامی
مشتاق علی شان
سائنٹفک سوشلزم کے مؤسسین کارل مارکس اورفریڈرک اینگلز ہمیں بتاتے ہیں کہ ’’ آج تک لکھی گئی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے ۔‘‘یعنی طبقاتی کش مکش موجودہ سماجی زندگی میں ہر لمحہ جاری وساری ہے۔ اِس میں ہر طبقہ اپنے وجود کو قائم رکھنے اور دوسرے طبقے پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے کسی نظریے سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ لبرل ازم سرمایہ داری یعنی سرمایہ دار طبقے کا نظریہ ہے ۔اٹھارویں اور انیسویں صدی،کی پیداوار لبرل ازم کی بظاہر اساس شخصی آزادی،جمہوریت،انصاف ومساوات اور آزادی تجارت پر ہے لیکن اس کی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ اس نے شخصی آزادی کی بجائے غلامی،جمہوریت کی بجائے بدترین آمریتوں اور انصاف ومساوات کی بجائے ظلم وجبر،ناانصافی اور عدم مساوات کے ایسے چلن کو جنم دیا ہے جس کی تباہیاں آج عالم آشکار ہیں ۔اسی لبرل ازم نے ذاتی ملکیت کے تقدس کو برقرار رکھنے اور سرمائے کے بے رحم ارتکاز کے لیے دنیا بھر پر جنگیں مسلط کیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ باہمی گفت و شنید سے مسائل حل کرنے کی مدعی لبرل قوتوں نے لیگ آف نیشنز سے لے کر اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف تک کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور کر رہی ہیں ۔چونکہ لبرل ازم موجودہ خوں آشام سرمایہ دارانہ نظام کا نظریہ ہے اس لیے لبرل دانشورنہ صرف اس کے موجودہ چلن سے مطمئن ہیں بلکہ یہ سامراجیت بالخصوص امریکی سامراج کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں ۔
جب کہ سوشلزم محنت کش طبقے کا نظریہ ہے ۔سائنٹفک سوشلزم یا مارکسزم کے مطابق دنیاکی ہر چیز حرکت اور تبدیلی کی زد پر ہے۔ پیداواری طاقتیں بڑھتی ہیں اورپرانے معاشی رشتے ناگزیر طور پر ٹوٹ جاتے ہیں۔ زندگی اورسماج سمیت کائنات میں کوئی شے غیر متغیر یا جامد نہیں ہے بلکہ ایک مسلسل حرکت اور ارتقاء ہے جو جاری ہے۔سرمایہ دارانہ نظام سے قبل تاریخ میں قدیم اشتراکی یا پنچائتی نظام ، غلامانہ نظام اور جاگیردارانہ نظام ہو گزرے ہیں ۔ ان میں سے ہر نیا نظام دوسرے کی جگہ لیتا رہا اور قدیم اشتراکی یا پنچائتی نظام کے علاوہ یہ سارے طبقاتی نظام تھے ۔
سرمایہ داری نظام میں سماج دو مختلف طبقوں یا گروہوں سرمایہ داروں اور محنت کشوں میں منقسم ہے۔سرمایہ دار اقلیت اور محنت کش اکثریت میں ہیں ۔لیکن یہ اکثریت مسلسل محنت کر کے بھی غریب ہے جبکہ سرمایہ دار اقلیت کوئی کام اور محنت نہ کرنے کے باوجود امیر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محنت کش اپنی محنت سے جو پیداوار کرتے ہیں اس کا پھل سرمایہ دار طبقہ کھا جاتا ہے ۔ اس نظام میں سرمایہ دار طبقہ محنت کشوں کی قوتِ محنت خرید کر اِس کا مالک بن جاتا ہے۔وہ اپنی قوتِ محنت سے جو کچھ پیدا کرتا ہے اس پر کوئی حق نہیں رکھتا بلکہ اس کے جملہ حقوق سرمایہ دار کے پاس ہوتے ہیں ۔یوں مزدور اجرت کی بنیاد پر غلام ہوتا ہے۔ وہ اس نظام میں اتنا ہی کماتا ہے کہ زندہ رہ سکے اور سرمایہ دار طبقے کے لیے اپنے جیسے مزید مزدور پیدا کر سکے ۔سرمایہ داری نظام کی بنیاد ذرائع پیداوار اور آلاتِ پیداوار کی ذاتی ملکیت پر ہے جس میں فیکٹریاں، کارخانے ، زمینیں ، مل اور پیداوار کے دیگروسائل سرمایہ دارطبقے کی ذاتی ملکیت ہیں۔سرمایہ دار طبقہ محنت کشوں کی اس لوٹ کھسوٹ کو قائم رکھنے میں اس لیے کامیاب ہے کہ وہ ریاست پر قابض ہے اور ریاست کے سارے ادارے سرمایہ دار طبقے کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں اور یہ محنت کشوں کے خلاف جبر کا ایک آلہ ہے ۔
محنت کش اورسرمایہ دار طبقے کے مفادات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔اپنے اپنے طبقاتی مفادت کی حفاظت ، ان کی ترقی اور نشوونما کے لیے ان کے درمیان جو تضاد ہے یہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک ان میں سے ایک طبقہ دوسرے پر غالب نہ آجائے ۔سو ان کے درمیان طبقاتی جدوجہد جاری ہے ۔
مارکس اور اینگلز انیسویں صدی وہ انقلابی فلاسفر تھے جنھوں نے سرمایہ دارانہ نظام کے جواب میں سائنسی بنیادوں پر محنت کشوں کے نظریے سوشلزم کو استوار کیا۔ وہی سوشلزم جس کے سائنٹفک نظریے کے آغاز کے ساتھ ہی اسے حاکم طبقات نے خیالی منصوبہ قرار دیا ، پروپیگنڈے اور جبر کے مختلف حربوں سے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی ۔لیکن 7نومبر 1917کو روس کے محنت کشوں کی انقلابی جماعت نے کامریڈ لینن کی قیادت میں اسے سچ کر دکھایا۔ اس کے بعد مشرقی یورپ، ایشیا ،جنوبی امریکا اور افریقہ کے ممالک میں سوشلسٹ انقلابات برپا ہوئے ۔ ان انقلابات کی انسانی تاریخ میں منفرد اور بے مثال حاصلات ہیں ۔ اس نے سرمایہ دارانہ ،جاگیردارانہ استحصال کا خاتمہ کیا ، جہالت ،بھوک ،بیماری ، بے روزگاری ، جسم فروشی کا مکمل طور پر قلع قمع کیا ، عورتوں کو حقیقی معنوں میں آزاد کیا ،انھیں پہلی بار ووٹ کا حق دیا ، عقائد اور رسومات کے نام پر ان کے استحصال اور جبر کو ختم کیا ، صنفی امتیاز کا خاتمہ کیا ۔سوویت یونین محض تیس سال میں دنیا کا سامراجی استحصال اور لوٹ کھسوٹ کیے بغیراجتماعی محنت کی بنیاد پر ایک جدید صنعتی ملک بنا ، اس نے دوسری عالمگیر جنگ میں فاشزم کو شکست دی ، نوآبادیاتی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والی قومی آزادی کی تحریکوں کو ہر ممکنہ امداد فراہم کی ۔یوں شلسٹ نظام نے سرمایہ دارانہ نظام پر اپنی برتری ثابت کی اور آج بھی دنیا کے پاس اس کا کوئی متبادل موجود نہیں ہے ۔ سوشلسٹ نظام معیشت آج بھی کیوبا اور عوامی جمہوریہ کوریا میں کامیابی سے جاری ہے ۔ جب کہ دنیا بھر میں محنت کش طبقے کی انقلابی جماعتیں اس کے قیام کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں ۔
90کی دہائی میں متعدد وجوہات کی بنیاد پرسوویت یونین کے انہدام کے نتیجے میں مزدور حکومتیں ختم ہوئیں اور کمیونسٹ بلاک کا خاتمہ ہوا۔تب ایک طرف تو سرمایہ دار دنیا کے لبرل دانشوروں نے ’’ تاریخ کے خاتمے ‘‘ اور ’’ تہذیبوں کا تصادم‘‘ کے نعرے بلند کرتے ہوئے سماجی ارتقا کے سائنسی قوانین کا مذاق اڑانے کی کوشش کی تو دوسری جانب دنیا کے سامنے سرمایہ دارانہ نظام کو واحد اور غیر مختتم نظام کے طور پر پیش کیا کہ اب یہی نوعِ انسانی کا مقدر ہے ۔اس زمانے میں سوشلسٹ نظام کی مخالفت کرنے والے سامراجی نظام کے سرغنہ امریکی صدر رونالڈ ریگن اور برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر کے دور میں theory Trickle down پیش کی گئی جس کے مطابق سرمایہ دار طبقہ جتنے زیادہ معاشی فوائد سمیٹے گا ،وہ جتنا مزید دولت مند ہو گا اس کے نتیجے میں محنت کش اور غریب عوام بھی اتنے ہی زیادہ مستفید ہوں گے ۔ اس تھیوری میں ٹیکسوں کے نظام اور سرمائے کے بڑھنے کو بنیاد بنا کر یہ فرض کیا گیا کہ سرمایہ داروں کی بھرتی ہوئی جیبوں کے ثمرات نیچے کے جانب منتقل ہوں گے۔ لیکن جب ہم گزشتہ ربع صدی کے حالات اور آج دنیا کی جو صورتحال دیکھتے ہیں اس میں سوشلزم کی موت کا اعلان کرنے والے اور اسے دنیا کے لیے فرسودہ اور ازکار رفتہ نظام ثابت کرنے والے سرمایہ دارانہ نظام کی یہ تھیوری بری طرح ناکام نظر آتی ہے ۔
آج کی دنیا میں موجود7.4ارب انسان کس حال میں رہ رہے ہیں اور دستیاب وسائل اور اس کی تقسیم کی کیا صورتحال ہے ؟آئیے اس سلسلے میں سرمایہ دار دنیا میں مستند تسلیم کیے جانے والے اداروں کے کچھ اعداد وشمار پر نظر ڈالتے ہیں ۔
16جنوری 2017کو معروف سماجی تنظیم’’ آکسفیم ‘‘ نے سوئزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس میں جو رپورٹ جاری کی اس کے مطابق دنیا کے صرف آٹھ سرمایہ دار افراد کی دولت دنیا کی نصب آبادی یعنی 3ارب60کروڑ افراد کی دولت کے برابر ہے ۔سرمائے کا چند ہاتھوں میں سمٹنے کا عمل مزید تیز ہوا ہے ۔ 2015میں دنیا کی آدھی دولت کے برابر دولت رکھنے والوں کی تعداد 62تھی جو اب محض 8ہو گئی ہے اور ان میں سے 6کا تعلق امریکا سے ہے۔
آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 1فیصد سرمایہ دار طبقے کے پاس دنیا کی مجموعی دولت کا 90فی صد ہے ۔امریکا کے ایک سرمایہ دار رسالے ’’فاربز ‘‘ کے مطابق 1810سرمایہ داروں کے پاس کل آبادی کے 70فی صد سے زیادہ دولت موجود ہے ۔دنیا کے 8 امیر ترین افراد مجموعی طورپر426 بلین ڈالرز کے مالک ہیں ۔ان میں مائیکروسافٹ کا بانی امریکی سرمایہ دار بل گیٹس 75 ارب ڈالرز کے ساتھ پہلا،اسپین کا سرمایہ دار امانسیو ارٹیگا 67 ارب ڈالرز کے ساتھ دوسرا،امریکا ہی کا ایک سرمایہ دار وارن بفٹ 60.8 ارب ڈالرز کے ساتھ تیسرا ،میکسیکو کا تاجر کارلوس سلم50 ،45.2 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھا،امیزون کا مالک جیف بیزوس44.6 ارب ڈالرز کے ساتھ پانچواں ،فیس کا بانی مارک زکر برگ50ارب ڈالرز کے ساتھ چھٹا ،اوریکل کا چیف ایگزیکٹو لیری الیسن 43.6 ارب ڈالرز کے اثاثوں کے ساتھ ساتواں اور بلوم برگ ٹی وی کا مالک مائیکل بلوم برگ 40 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کاآٹھواں امیر ترین شخص ہے۔
فوربز کی جانب سے شائع کی گئی رواں سال کی فہرست مجموعی طور پر 2043 ارب پتی سرمایہ داروں پر مشتمل ہے۔ان میں سے 565 کا تعلق امریکا ،319 کا تعلق چین اور 114کا تعلق جرمنی سے ہے ۔
theory Trickle down پیش کیے جانے کے بعد آج صورتحال یہ ہے کہ اس سارے عرصے میں صرف امریکا ہی کے ایک فیصد امیر ترین سرمایہ داروں کی آمدنی میں 300فی صد اضافہ ہوا ہے جب کہ اس کے مقابلے میں عام لوگوں کی آمدنی میں ہونے والا اضافہ نہایت ہی معمولی ہے ۔اور یہ صرف امیر ترین سرمایہ دار ممالک ہی کی صورتحال نہیں ہے بلکہ غریب ممالک کے اعداد وشمار بھی ایسے ہی مناظر پیش کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر ویت نام کے ایک امیر سرمایہ دار ناٹ وانگ کی ایک دن کی آمدنی ویت نام کے ایک محنت کش کی دس سال کی آمدنی سے بھی زیادہ ہے۔
آج کی لبرل سرمایہ دار دنیا فخریہ طور پر یہ کہتی ہے کہ غلامانہ نظام تاریخ کا حصہ ہے اور اسے ختم کیے زمانہ گزر چکا مگر اس کی لبرل سرمایہ دار شکلوں کا شکار دنیا کے وہ 21ملین افراد ہیں جوعالمی ادارہ محنت (ILO)کی تحقیق کے مطابق آج بھی جن سے جبری مشقت لی جاتی ہے اور ان کی محنت سے 150 ارب ڈالر سالانہ منافع حاصل کیا جاتا ہے ۔
عالمی ادارہ محنت کے مطابق اس وقت دنیا میں 30کروڑ کے قریب بچے مختلف معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان میں سے 22کروڑ سے زائدبچے اسکول جانے کی بجائے مستقل چائلڈ لیبر ہیں۔ ان چائلڈ لیبر میں سات کروڑ بچوں کی عمریں دس سال سے بھی کم ہیں ۔
اسی طرح Fondation Scellerنامی ایک ادارے کی پرانی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 42ملین افراد جسم فروشی پر مجبور ہیں ۔ ان میں خواتین کی تعداد 80فی صد ہے ۔جبکہ 75فی صد کی عمریں 13سے25سال کے درمیان ہے ۔جب کہ اس وقت پاکستان میں سیکس ورکرز کی تعداد 15لاکھ سے زیادہ ہے ۔
ہم جیسے ممالک میں روزانہ 100 بلین ڈالرزکا خسارہ ہوتا ہے جس کی بنیادی وجہ حاصل ہونے والے منافع سے ٹیکس نہ ادا کرنا ہے ۔جب کہ کارپوریٹ سیکٹر اور بڑی بڑی کمپنیوں میں حالت یہ ہے کہ ورکرز کو معقول اجرتیں تو ایک طرف مینی مم ویجز ( کم از کم اجرتیں ) ہی نہیں دی جاتیں ۔ آکسفیم کی رپورٹ میں ایک معروف ماہر معیشت گبرئیل زیک مین کی تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آف شور اکاؤنٹس یا وہ ممالک جہاں ٹیکس کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ،وہاں 7.6 ٹریلین ڈالرز کی دولت کو چھپایا گیا ہے ۔وہ دولت جو خفیہ طور پر افریقی ممالک میں چھپائی گئی ہے صرف اس سے سالانہ 14ارب ڈالر حاصل کر کے افریقہ کے ان چار ملین بچوں کو خوراک فراہم کی جا سکتی ہے جو غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی طاقت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ’’وال مارٹ‘‘ ’’شیل‘‘ اور ’’ایپل ‘‘ سمیت دنیا کی دس بڑی کمپنیوں کا ریونیو دنیا کے 180ممالک کی حکومتوں کے مجموعی ریونیو سے زیادہ ہے ۔
آکسفیم کی یہ رپورٹ محضtheory theory Trickle down ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر پورے سرمایہ دارانہ نظام،اس کے لبرل نظریے کی ناکامی ، اس کی رجعت پسندی اور انسان دشمنی کا اعلان نامہ ہے ۔ وہ سرمایہ دارانہ نظام جس میں ایک منظم لوٹ مار کے ذریعے دولت مند مزید دولت مند ہو رہے ہیں اور کارپوریٹ سیکٹرز سے وابستہ اعلیٰ عہدوں پر براجمان افراد لوٹ کی اس دولت سے کچھ حصہ پارہے ہیں ۔
اب ذرااس دنیا میں بسنے والے4 7. ارب آبادی کاجائزہ لیتے ہیں جس میں 3کروڑ انسان غربت اور ان میں آدھے یعنی ڈیڑھ ارب انسان انتہائی غربت کا شکار ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی روزانہ آمدنی 125روپے سے بھی کم ہے ۔
اگر ہم اپنے خطے پر نظر ڈالیں تو بھارت کی سو ا ارب کی آبادی میں اس وقت آدھی آبادی غربت کا شکار ہے ۔ یہ دنیا کی کل غربت کا تقریبا 33فی صد بنتا ہے ۔جب کہ اسی بھارت کے تین بڑے سرمایہ داروں مکیش امبانی، لکشمی متل اور اعظم پریم جی دنیا کے امیر ترین سرمایہ داروں میں شامل ہیں ۔
پاکستان کی وزارت برائے منصوبہ بندی اور اصلاحات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک کی 40 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔سب سے زیادہ غربت کا شکار بلوچستان ہے جہاں 71 فیصدافراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔جب کہ پختونخوا میں 49 فیصد، گلگت بلتستان اور سندھ میں 43 فیصد، پنجاب میں 31 فیصد اور کشمیر میں 25 فیصد افراد غربت کا شکار ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق لاہور، اسلام آباد اور کراچی جیسے شہروں میں میں 10 فیصد کے قریب افراد غربت کا شکار ہیں ۔جب کہ بلوچستان کے قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور برکھان میں 90 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔
اس کثیر الجہت غربت میں ناصرف آمدنی بلکہ صحت، تعلیم اور زندگی کی بنیادی سہولیات تک رسائی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ غربت کے شکار ان افراد میں 43 فیصد کو تعلیمی سہولیات میسر نہیں ہیں، 32 فیصد افراد غیر معیاری زندگی گزار رہے ہیں جبکہ 26 فیصد آبادی کو صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں۔یہ اس ملک میں غربت کا عالم ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق روزانہ ڈھائی کروڑ ڈالر ملک سے باہر اسمگل کیے جاتے ہیں ۔
آج دنیا بھرمیں ایک ارب افراد ایسے ہیں جو اپنا نام لکھنا اورپڑھنا نہیں جانتے ۔ جب کہ اسی دنیا میں اسلحے کی تجارت پر خرچ کی جانے والی رقم کا صرف ایک فی صد دنیا کے ہر بچے کو تعلیم دینے کے لیے کافی ہے ۔
آج کی دنیا میں 80کروڑ انسان بھوک کا شکار ہیں اور وہ ہر رات بھوکے سوتے ہیں ۔لیکن اسی دنیا میں روزانہ پکنے والے کھانے کا 40فی صد ضائع ہو جاتا ہے۔جبکہ اسی دنیا میں وہ جدید ترین ٹیکنا لوجی موجود ہے جس کے ذریعے زمین کے صرف 0.4 فیصد خشک رقبے سے 10ارب انسانوں کی غذائی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں ۔ہر سال صرف 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کے لیے کافی ہے لیکن اس سے 83 گنا زیادہ رقم سالانہ اسلحے اور جنگوں پر خرچ کی جاتی ہے ۔
روزانہ 1500عورتیں زچگی کے عمل کے دوران اس لیے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں کہ انھیں مناسب علاج کی سہولت میسر نہیں۔ غذائی قلت اور بیماریوں کی وجہ سے روزانہ 22ہزار بچے موت کا شکار ہوتے ہیں ۔ افریقہ میں مرنے والے ہر تیسرے بچے کی موت کی وجہ بھوک ہے ۔
آج کی دنیا میں 12فی صد افراد دنیا کے مجموعی صاف پانی کا 85فی صد حصہ استعمال کرتا ہے اور اسی دنیا کے 2ارب30کروڑ افراد ہر سال گندہ پانی پینے کی وجہ سے بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ دنیا کی 86فی صد اشیائے ضروریات و آسائشیں 20فی صد انسان استعمال کرتے ہیں ۔دنیا کی ایک ارب آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے اور آج بھی 1ارب 60کروڑ افراد بجلی اور توانائی کی دیگر سہولیات سے محروم ہیں ۔
دنیا کے ترقی پذیر ممالک IMF، ورلڈ بینک سمیت مختلف سامراجی مالیاتی اداروں کی 4000ارب ڈالر مقروض ہے ۔جب کہ دنیا کے امیر ترین سرمایہ داروں نے اس سے 8گنا زیادہ رقم بیرون ممالک بینکوں میں چھپائی ہوئی ہے ۔جب کہ تیسری دنیا کے ممالک ان سامراجی مالیاتی اداروں کو سود کی مد میں 600ارب ڈالرز سالانہ ادا کرتے ہیں ۔ مزید برآاں اناداروں سے جن شرائط پر قرضے حاصل کیے جاتے ہیں اس کے نتیجے میں عوام کو مختلف اشیاء پر دی جانے والی سبسڈیز چھینی جاتی ہیں ۔ان شرائط کے نتیجے میں غریب ممالک 500ارب ڈالر سالانہ نقصان کا سامنا کرتے ہیں ۔جب کہ انہی غریب ممالک سے سالانہ 2000ارب ڈالر امیرسرمایہ دار ممالک کو منتقل ہوتے ہیں ۔
ہر سال مختلف ملٹی نیشنل کمپنیاں ہم جیسے ممالک سے 900ارب ڈالر کا منافع امیر سرمایہ دار ممالک منتقل کرتی ہیں اور اس میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔دوسری طرف بے روزگاری کی ایک جہنمی مشین ہے جس میں عالمی ادارہ محنت (ILO) کے مطابق دنیا کے 200ملین کے قریب افراد بے روزگار ہیں ۔جب کہ اس وقت پوری دنیا میں 15 سے 24 سال کی عمر کے ساڑھے سات کروڑ نوجوان روزگار کی تلاش میں ہیں۔
خود عالمی سامراجی مالیاتی اداروں میں سے ایک ورلڈ بینک کے سروے کے مطابق تر قی یافتہ ممالک میں ایک اندازے کے مطابق 2 کروڑ 60 لاکھ نوجوان تعلیم اور کسی تکنیکی ہنر کو نا جاننے کی وجہ سے بے روزگار ہیں۔پاکستان اکنامک واچ کے مطابق پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد تقریباََ3کروڑ 18لاکھ ہے ۔ یہ تعداد ملک کی کل لیبرفورس 6 کروڑ 36 لاکھ کی آدھی بنتی ہے ۔جب کہ ہر 10 میں سے 6 یعنی61.6فیصد افراد اپنی صلاحیت سے کمتر کام کر رہے ہیں اور خواتین میں یہ تعداد 78.3فیصدہے۔
یہ ہے سوویت یونین اور مشرقی یورپ سمیت دنیا میں سوشلزم کے بحران کے بعد کی اس دنیا کی تصویر جس میں گزشتہ 26،27سال سے سوشلزم کی ناکامی اور سرمایہ داری کی فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں ۔ یہ وہ دنیا ہے جس میں ہر شے منافع اور بس منافع کے گرد گھومتی ہے ۔ جو بے پناہ وسائل کے باوجود کروڑوں، اربوں انسانوں کو محض اس لیے غیر
انسانی حالت میں زندہ رکھنے پر مجبور ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نفع کما سکے ،سرمائے کے زیادہ سے زیادہ ارتکاز کو یقینی بنایا جا سکے۔
چونکہ اس نظام میں پیداوار کا مقصد انسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی بجائے اسے فروخت کر کے منافع کمانا ہے اس لیے دنیا کے مٹھی بھر سے بھی کم سرمایہ داروں کی ہوس کے لیے کرہ ارض کو باشندوں کے لیے جہنم میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔اس نظام کی پیداوار بے روزگاری ، بھوک ، غربت ،بیماری ، مہنگائی،جسم فروشی اور انارکی ہے ۔ اس نظام نے صرف سماج میں استعمال کی اشیاء اور کھانے پینے کی اشیاء ہی نہیں بلکہ انسانوں کی جسمانی و ذہنی محنت سے لے کر ان کے ضمیروں تک کو برائے فروخت بنا دیا ہے ۔
سرمایہ دارانہ نظام ا س کا لبرل ازم دنیا کے مسائل،اربوں انسانوں کے مصائب کی بنیادی وجہ ہے یہ دنیا کو بہتری کی بجائے مزید تباہی اور ہلاکت کی طرف لے کر جا رہاہے ۔ سرمایہ دار طبقہ اس وقت سماجی ترقی اور انسانوں کی زندگیوں میں بہتری اور تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور یوں یہ ایک رجعتی ،انسان دشمن نظریہ اور نظام ہے ۔ اس کے مقابلے میں محنت کش طبقے کے پاس سوشلزم کی شکل میں ایک ایسا ترقی پسند اور انسان دوست نظریہ اور نظام ہے جو ذرائع پیداور اور آلاتِ پیداوار کی ذاتی ملکیت کا خاتمہ کر کے، طبقات کا خاتمہ کر کے،تمام موجود وسائل کو سماج کے اجتماعی فلاح کے لیے بروئے کارلانے ، سماج کو مساوی اور آزاد بھائی چارے کی بنیادوں پر منظم کرنے کی حقیقی قوت رکھتا ہے ۔ یہ محنت کش طبقہ ہی ہے جو سوشلسٹ نظام قائم کر کے انسان کے ہاتھوں انسان کے استحصال کی تمام شکلوں کو ختم کرے گا ۔

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *